فلسطینی گاؤں ’راس عین العوجہ‘ دریائے اردن کی وادی میں واقع ایک قدیم بدوی چرواہا بستی تھی، اسرائیلی آبادکاروں کے مسلسل تشدد، دھمکیوں اور وسائل کی بندش کے باعث تقریباً خالی ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025ء کے آغاز سے اب تک گاؤں کے تقریباً 650 میں سے 450 فلسطینی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ باقی ماندہ چند خاندان بھی آئندہ دنوں میں نقل مکانی کی تیاری کر رہے ہیں۔
گاؤں کے مقامی افراد کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے اِن کی بھیڑ بکریاں چوری یا زہر دے کر مار دی ہیں، چراہگاہوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور واحد قدرتی چشمہ ’راس عین‘ سے فلسطینیوں کو پانی لینے کی اجازت نہیں۔
بین الاقوامی میڈیا ’الجزیرہ‘ سے بات کرتے ہوئے 45 سالہ نائف غوانمہ کا کہنا تھا کہ دو سال سے راتوں کو پہرہ دینا پڑ رہا ہے، ’اگر ہم سو جائیں تو اسرائیلی آبادکار ہمارے گھروں کو جلا دیتے ہیں۔‘
مقامی افراد کا بتانا ہے کہ اس علاقے میں اسرائیلی فوج کی مکمل موجودگی کے باوجود آبادکاروں کے خلاف شاذ و نادر ہی کارروائی کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خوف اور دباؤ کے باعث لوگوں نے گاؤں سے چھوڑتے وقت اپنا فرنیچر خود جلا دیا تاکہ آبادکار استعمال نہ کر سکیں۔ گاؤں میں بھیڑوں کی تعداد 24 ہزار سے کم ہو کر 3 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔ بجلی کی سہولت پہلے ہی میسر نہیں تھی جبکہ سولر پینلز بھی بار بار تباہ کیے گئے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 2025ء میں مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں کے خلاف 1,800 سے زائد حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ درجنوں فلسطینی دیہات مکمل یا جزوی طور پر خالی ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلسطینی گاؤں راس عین العوجہ سے ہونے والی یہ بے دخلی حالیہ دہائیوں میں کسی ایک بدوی برادری کی سب سے بڑی جبری نقل مکانی قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خوف اور صدمے کے سائے میں رہنے والے بچے راتوں کو سونے سے ڈرتے ہیں جبکہ بڑوں کا کہنا ہے کہ ’ہم اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔‘