• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان 2026ء: کن ممالک میں روزے دار سب سے طویل اور مختصر روزے رکھیں گے؟

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

ماہِ رمضان کی آمد میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، دنیا بھر میں 1 ارب سے زائد مسلمان رمضان کی آمد کے منتظر ہیں جبکہ دنیا کے مختلف حصوں میں روزے کے اوقات سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

رواں سال رمضان کے دوران روزے کے اوقات گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہنے کی توقع ہے، جس سے روزہ رکھنے والے افراد کو کچھ سہولت حاصل ہو گی۔ 

چونکہ اسلامی ہجری کیلنڈر قمری نظام پر مبنی ہے اور ہر مہینہ چاند کی رویت کے مطابق 29 یا 30 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے رمضان ہر سال تقریباً 10 سے 12 دن پہلے آ جاتا ہے۔

یہ سالانہ تبدیلی براہِ راست روزے کے دورانیے اور دن کی روشنی کے اوقات کو متاثر کرتی ہے۔

انتہائی شمالی علاقوں جیسے شمالی روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سوئیڈن اور فن لینڈ میں رہنے والے مسلمان دنیا کے طویل ترین روزے رکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔

ان علاقوں میں دن کے اوقات زیادہ طویل ہونے کے باعث روزے کا دورانیہ 16 گھنٹے سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ بعض مقامات پر یہ تقریباً 20 گھنٹے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

اس کے برعکس، خطِ استوا کے قریب اور جنوبی نصف کرے میں واقع ممالک میں روزے کے اوقات نسبتاً کم ہوں گے۔

برازیل، ارجنٹائن، جنوبی افریقا، چلی، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا اور کینیا جیسے ممالک میں روزے کا دورانیہ 11 سے 14 گھنٹوں کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

اسی طرح پاکستان میں رہنے والے افراد ممکنہ طور پر تقریباً ساڑھے 12 سے 13 گھنٹے طویل روزے رکھیں گے۔

اسلامی علماء کے مطابق جن علاقوں میں دن یا رات کے اوقات غیر معمولی طور پر طویل یا مختصر ہوں، وہاں روزہ رکھنے والوں کو توازن اور سہولت برقرار رکھنے کے لیے مکہ مکرمہ یا قریبی معتدل شہر کے اوقاتِ روزہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔

رواں سال رمضان کا آغاز ممکنہ طور پر 19 فروری کو ہونے کا امکان ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید