• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں 2 دہائی بعد بسنت کی واپسی، بھارتی تلملا اٹھے

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

تقریباً 2 دہائیوں بعد لاہور میں بسنت کی تقریبات کی واپسی نے شہر بھر میں جوش و خروش کی فضا قائم کر دی، جہاں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں اور چھتوں پر جمع ہوئے اور پتنگ بازی کی سرگرمیاں عروج پر رہیں، تاہم اس بحالی کے ساتھ ہی بھارتی سوشل میڈیا صارفین میں شدید غصہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاہور کے پتنگ بازی کے مناظر، چھتوں پر گونجتی موسیقی اور زرد لباس میں ملبوس لوگوں کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو کئی عام و خاص نے اسے لاہوری ثقافتی شناخت کی طویل عرصے بعد واپسی قرار دیا، تاہم یہ تقریبات آن لائن بحث کا سبب بن گئیں۔

بھارتی سوشل میڈیا ہنڈلز کی جانب سے لاہور سے وائرل ہونے والی تصاویر و ویڈیوز کے کمنٹس سیکشن میں منفی تبصرے سامنے آئے، بسنت کا تہوار منانے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر الزام تراشی بھی کی گئی۔

ایک صارف نے لکھا ہے کہ اب پاکستانیوں نے مکر سنکرانتی کا نام بدل کر بسنت رکھ دیا ہے، اب صرف پتنگ بازی کے لیے اسے مناتے ہیں، واقعی کمال ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ اب پاکستان بھارتی تہوار بسنت پنچمی کو چرا کر اپنا قرار دے رہا ہے، ایک اور پوسٹ میں تبصرہ کیا گیا کہ یہ ہمارا تہوار ہے اور ہم اسے ہر سال مناتے ہیں۔

ایک اور صارف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان سے بسنت کی ویڈیوز دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے کسی میم کو حقیقت بنا دیا ہے۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ پتنگ بازی دراصل ایک بھارتی روایت ہے اور صرف پنجاب تک محدود نہیں، جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان نے محض ایک ایسی روایت کو بحال کیا ہے جو بھارت میں کبھی ختم ہی نہیں ہوئی۔

ایک تبصرے میں کہا گیا کہ پاکستانی بسنت کو پنجابی صوفی ثقافت کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

بعض بھارتی صارفین نے اس سوچ کی مخالفت بھی کی، ایک صارف نے کہا کہ روایت پر گیٹ کیپنگ بے معنی ہے اور بسنت لاہور سے امرتسر تک پنجاب کی روح ہے۔

ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ تہوار خوشی کا ذریعہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو انہیں مناتے رہنا چاہیے، جبکہ کچھ صارفین نے نشاندہی کی کہ مختلف خطوں میں بہار کے تہوار منانے کے اپنے اپنے انداز اور روایات ہوتی ہیں۔

بسنت جو کبھی لاہور کی سب سے نمایاں ثقافتی تقریبات میں شمار ہوتی تھی، 2007ء میں دھاتی اور کیمیائی ڈور سے ہونے والے جان لیوا حادثات کے بعد مؤثر طور پر ممنوع قرار دے دی گئی تھی۔

شہریوں، تاجروں اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے محفوظ اور منظم انداز میں تہوار کی بحالی کے مطالبات کے باوجود یہ پابندیاں برسوں برقرار رہیں۔

بالآخر دسمبر 2025ء میں پنجاب حکومت نے بسنت کی واپسی کا اعلان کیا اور اسے 6 سے 8 فروری 2026ء تک 3 روزہ تقریبات کی صورت میں منانے کا فیصلہ کیا تھا۔

خاص رپورٹ سے مزید