اسپیس ایکس کے بانی، دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی اب مریخ کے بجائے چاند پر ایک ’خودکار ترقیاتی شہر‘ قائم کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
ایلون مسک کے مطابق ’لونر سٹی‘ بنانے کا مقصد انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے اور چاند اس کے لیے زیادہ تیز اور عملی راستہ فراہم کرتا ہے۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ مریخ پر مشن بھیجنا صرف ہر 26 ماہ بعد سیاروں کی ہم آہنگی کے دوران ممکن ہوتا ہے اور وہاں پہنچنے میں تقریباً 6 ماہ لگتے ہیں جبکہ چاند پر مشن ہر 10 دن بعد لانچ کیا جا سکتا ہے اور سفر صرف 2 دن کا ہے، اسی وجہ سے چاند پر شہر کی تعمیر تیزی سے ممکن ہے۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں واضح کیا ہے کہ مریخ پر شہر بسانے کا منصوبہ ختم نہیں کیا گیا تاہم اب یہ ثانوی ترجیح ہے، مریخ پر شہر بنانے کی عملی تیاری ممکنہ طور پر 5 سے 7 سال میں شروع کی جائے گی۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ قمری شہر (Lunar City) میں مصنوعی ذہانت، خودکار روبوٹس اور خلائی ڈیٹا سینٹرز استعمال کیے جائیں گے جنہیں مسک کی حالیہ حاصل کردہ کمپنی xAI کی مدد حاصل ہو گی، اس تعمیر کا مقصد یہ ہے کہ چاند پر کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا سکے۔
یہ فیصلہ امریکی خلائی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں جاری ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت امریکا 2028ء تک چاند پر واپسی اور 2030ء تک مستقل قمری اڈے کے ابتدائی مراحل قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے جس میں چاند پر جوہری ری ایکٹر نصب کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کی آرٹمیس 3 مہم (Artemis 3 mission) کے تحت 2027ء میں خلاء بازوں کی چاند پر واپسی متوقع ہے تاہم ماہرین کے مطابق اسپیس ایکس کے زیرِ تعمیر قمری لینڈر کی تاخیر کے باعث اس شیڈول میں مزید تبدیلی ہو سکتی ہے۔