لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ایک بلین پاؤنڈ کی لاگت سے جدید سیکیورٹی اسکینرز نصب کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد اب مسافروں کو سیکورٹی چیک کے دوران اپنے ہاتھ کے سامان سے الیکٹرانک آلات اور مائع اشیا نکالنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
تاہم اگر دو لیٹر سے زائد مائع موجود ہو تو اسے سامان سے علیحدہ رکھنا ہوگا، جدید سی ٹی سیکیورٹی اسکینرز کی مدد سے سامان کی نہایت تفصیلی جانچ ممکن ہو سکے گی۔
ہیتھرو ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق وہ دنیا کا سب سے بڑا ایئر پورٹ بن گیا ہے جہاں تمام مسافروں کے لیے اس جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے۔
برطانیہ کے دیگر ایئر پورٹس جہاں اسی نوعیت کے جدید اسکینرز نصب کیے جا چکے ہیں، ان میں برمنگھم، برسٹل، گیٹ وک اور ایڈنبرا کے ایئرپورٹس شامل ہیں۔
تاہم لندن سٹی ایئر پورٹ، لوٹن اور ٹی سائیڈ کے ایئر پورٹس پر اگرچہ نئے اسکینرز موجود ہیں، لیکن فی الحال وہاں صرف ایک سو ملی لیٹر تک مائع سامان میں رکھنے کی اجازت ہے کیونکہ ان سسٹمز کی ریگولیٹری منظوری ابھی باقی ہے۔
ایئر پورٹس پر مائع اشیا سے متعلق پابندیاں 2006 میں اس وقت عائد کی گئی تھیں جب لندن سے امریکا جانے والی پرواز کو گھریلو ساختہ مائع بم کے ذریعے نشانہ بنانے کی دہشت گردی کی سازش ناکام بنائی گئی تھی۔
اس کے بعد متعارف کرائے گئے قواعد کے تحت مسافروں کو صرف ایک سو ملی لیٹر تک مائع پلاسٹک بیگ میں رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، جبکہ لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ جیسے الیکٹرانک آلات بھی سامان سے نکال کر علیحدہ رکھنا لازمی تھا، ان قواعد پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اکثر سیکیورٹی چیک پر تاخیر کا سبب بھی بنتی رہی۔
ہیتھرو ایئر پورٹ کے مطابق نئے اسکینرز کی تنصیب سے سالانہ تقریباً 16 ملین پلاسٹک بیگز کے استعمال میں کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ ان اسکینرز کی تنصیب کی ڈیڈ لائن دسمبر 2022 مقرر کی گئی تھی، تاہم کوویڈ 19 اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث اس میں توسیع کر کے جون 2024 کر دی گئی، جبکہ متعدد دیگر ایئر پورٹس کو اس ڈیڈ لائن میں بھی رعایت دی گئی۔