برطانوی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ڈیمنشیا سے ہونے والی اموات توقع سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ صرف ایک سال کے عرصے میں تقریباً 70 ہزار افراد اس تباہ کن دماغی بیماری کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
نئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال انگلینڈ میں اس بیماری کے باعث 2,500 اضافی اموات ہوئیں۔ 2025 میں 68 ہزار سے زائد افراد ڈیمنشیا کے باعث ہلاک ہوئے تھے، جو ریکارڈ کی گئی موت کی بڑی وجوہات میں سے تقریباً ہر چھ میں سے ایک موت کے برابر ہے۔
یہ اس بات کے 10 سال مکمل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے جب ڈیمنشیا نے دل کی بیماری کو پیچھے چھوڑ کر برطانیہ کی سب سے بڑی قاتل بیماری کا درجہ حاصل کیا تھا۔
یہ ایک بڑی افسوسناک صورتحال جو اس بیماری نے اس عرصے کے بعد سے سب سے بڑی ہلاکت خیز بیماری کا اپنا ڈیٹا برقرار رکھا ہوا، سوائے کورونا وائرس کے دوران 2020 اور 2021 زیادہ اموات کورونا سے ہوئیں۔
انگلینڈ اور ویلز دفتر برائے قومی شماریات کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں انگلینڈ اور ویلز میں تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ اموات رجسٹر ہوئیں۔ ان میں سے تقریباً 66,000 اموات دل کی بیماری کے باعث ہوئیں، جس کی وجہ سے یہ مجموعی طور پر سب سے بڑی ہلاک خیز بیماری بن گئی۔
اس کے مقابلے میں ڈیمنشیا، جس میں اس کی سب سے عام قسم الزائمر کی بیماری بھی شامل ہے، اسی سال تقریباً 60,000 سے کچھ کم اموات کا سبب بنی۔ 2015 تک صورتحال بدل چکی تھی، جب انگلینڈ اور ویلز میں مجموعی طور پر تقریباً 5,30,000 اموات ہوئیں جن میں سے ڈیمنشیا اور الزائمر کی بیماری سے تقریباً 61,700 اموات ہوئیں، جس سے یہ دل کی بیماری سے آگے نکل گئی جبکہ دل کی بیماری تقریباً 61,000 سے کچھ زائد اموات ہوئیں۔
تاہم اس ہفتے جاری کیے گئے نئے اعداد و شمار کے مطابق اس بیماری سے توقع سے زیادہ اموات ہوئیں، جو اسکی ہلاکت خیزی کو واضح کرتی ہے۔