• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کھیلوں سے ہمیں زیادہ دلچسپی نہیں چنانچہ ہم ان مقبول زمانہ کھلاڑیوں سے بھی پوری طرح متعارف نہیں جنکا نام بچے بچے کی زبان پر ہے لیکن ایک ایتھلیٹ ایسے بھی ہیں جنہیں صرف ہم یا انکے حلقے کے کچھ دوسرے لوگ جانتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو انکے نام کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجنا چاہیے کہ وہ جس فیلڈ کے ایتھلیٹ ہیں، اس میں انکا کوئی حریف نہیں۔ یہ ہمارے دوست چوہدری اللہ وسایا ہیں یہ کھانے کے ایتھلیٹ ہیں۔ ہم نے بہت سی نجی اور اجتماعی دعوتوں میں انہیں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے دیکھا ہے اور ہر بار دانتوں میں انگلی داب کر رہ گئے ہیں۔ کھاتے وقت ان پر استغراق کا عالم کچھ یوں طاری ہوتا ہے کہ انہیں گرد و پیش کی کچھ خبر نہیں ہوتی بالکل اسی طرح جیسے ایک فطری شاعر شعر کہتے وقت ایک خود فراموشی کے عالم میں نظر آتا ہے اور ایک ستار نواز ستار بجاتے ہوئے دنیا و مافیہا سے غافل ہوتا ہے۔ در اصل چوہدری اللہ وسایا موت کو ایک اٹل حقیقت سمجھتے ہیں چنانچہ وہ ہر کھانے کو اپنی زندگی کا آخری سمجھ کر کھاتے ہیں۔ ان میں ایک صفت یہ ہے کہ وہ اس زمین پر اگنے والی ہر چیز کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی قابل قدر نعمت خیال کرتے ہیں، چنانچہ ان میں سے جو چیز بھی دستر خوان پر آ جائے، وہ اس سے منہ نہیں موڑتے کہ انکا خیال ہے انسانوں کی طرح کھانے پینے والی چیزوں کے بھی جذبات ہوتے ہیں اور ان سے منہ موڑ کر انکے جذبات کو ٹھیس نہیں لگانا چاہیے۔ چنانچہ اگر دو من لکڑیاں بھی ابال کر انکے سامنے رکھ دی جائیں تو وہ نمک چھڑک کر کھا جائیں گے۔تاہم ہمارے اس بیان سے یہ مفہوم بھی اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ چوہدری اللہ وسایا خوش خوراک نہیں، نہیں ایسی کوئی بات نہیں، در اصل معاملہ خوراک کی دستیابی کا ہے چونکہ انکا موٹو ’’جیسی مل جائے، جہاں سے مل جائے ‘‘ ہے، لہٰذا وہ چوزی صرف اس وقت نظر آتے ہیں جب انکے سامنے چوز کرنے کیلئے کوئی ورائٹی ہو۔ انکی مرغوب غذا مرغ ہے جسے وہ بزبان پنجابی ”ککڑ " کہتے ہیں اور یہ لفظ زبان سے ادا کرتے وقت ان کے سارے چہرے پر دانت اگ آتے ہیں۔ ایک محفل خور و نوش میں ان کے ساتھ شریک ہونے کا اعزاز ہمیں بھی حاصل ہوا ۔ اعزاز کا لفظ ہم نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ جس محفل خور و نوش میں وہ شریک ہوں اس کے دیگر شرکاء کے حصے میں کھانا نہیں، بس اعزاز ہی آتا ہے۔ اس روز ہم حیران ہوئے کہ لوگوں نے کھانا بھی شروع کر دیا لیکن چوہدری اللہ وسایا پوری بے نیازی سے اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ ہم نے اس کی وجہ پوچھی تو بولے ” میں پرہیزی کھانا کھاتا ہوں‘‘ ۔ تھوڑی دیر بعد بیروں نے یہ پر ہیزی کھانا بھی میزوں پر سجانا شروع کر دیا۔ اور یہ ”ککڑ ‘‘ تھا جو ابھی سرو ہونا باقی تھا اور چودھری صاحب اس راز سے واقف تھے ان کے پرہیزی کھانے کی ایک شق یہ بھی سامنے آئی کہ وہ ایسے مواقع پر شوربے سے پرہیز کرتے ہیں اور صرف بوٹیوں پر گزارا کرتے ہیں سو اس روز ہم نے دیکھا کہ آخری آدمی جو ان کے پاس کھڑا تھا وہ بیرا تھا اور وہ پلیٹ کے خالی ہونے کا منتظر تھا۔ چودھری اللہ وسایا برابر میں رکھی ہوئی پلیٹ میں ہڈیاں ڈال رہے تھے ہم نے پلیٹ دیکھی تو چنگیز خان کے لگائے ہوئے کھوپڑیوں کے مینار یاد آگئے!چوہدری اللہ وسایا صرف کھانے پینے کے حوالے ہی سے قابل ذکر شخصیت نہیں بلکہ انکی شخصیت کا روشن پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ہر کسی کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں خصوصاً شادی بیاہ کی تقریب میں شرکت کو وہ ایک انسانی فریضہ سمجھتے ہیں بلکہ اس ضمن میں وہ خاصے ذمے دار واقع ہوئے ہیں لہٰذا کسی باقاعدہ دعوت نامے کی وصولی کو بھی ضروری نہیں سمجھتے چنانچہ وہ کسی ضروری کام سے بھی جا رہے ہوں اور انہیں رستے میں کوئی بارات نظر آجائے تو اپنے اس انسانی فریضے کی تکمیل کی خاطر وہ سب کام چھوڑ دیتے ہیں اور باراتیوں کیساتھ قدم ملا کر چلنا شروع کر دیتے ہیں اس ضمن میں ان کا موقف یہ ہے کہ کسی کے غم میں شریک ہونے سے زیادہ اس کی خوشی میں شریک ہونا ظرف کی بات ہے تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ لوگوں کے دکھ میں شریک نہیں ہوتے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ اگر ساتویں محلے میں بھی کوئی مرگ ہو جائے اور وہ اگر جنازے میں شریک نہ ہو سکے ہوں تو قل اور چہلم میں ضرور شرکت کرینگے خواہ وہ ذرا تاخیر ہی سے پہنچیں یعنی قرآن خوانی کا مرحلہ گزر چکا ہو اور اب مرحوم کی روح کو ثواب پہچانے کیلئے غرباء و مساکین میں جو بصورت مہماں وہاں جمع ہوتے ہیں کھانا تقسیم کیا جا رہا ہو اس صورت میں بھی مرحوم کی روح کو سب سے زیادہ ثواب چوہدری اللہ وسایا ہی کی وساطت سے پہنچتا ہے۔ وہ لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کے علاوہ دیگر امور میں بھی بہت سوشل واقع ہوئےہیں چنانچہ انہیں شعر و شاعری سے گو کوئی شغف نہیں مگر مشاعروں میں بھی شرکت کرتے ہیں اور اس موقع پر سامعین کی بجائے شعراء کی صحبت کو پسند کرتے ہیں۔ تاہم کبھی مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے اٹھ آتے ہیں اور کبھی مشاعرے کے اختتام تک محفل میں موجود رہتے ہیں لیکن اسکا انحصار اس امر پر ہے کہ منتظمین نے شعراء کے کھانے کا انتظام مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے یا اسکے اختتام پر کیا ہے۔ چوہدری اللہ وسایا کسی زمانے میں بڑی باقاعدگی سے بڑے بڑے کلبوں کے عشائیوں میں بھی شریک ہوا کرتے تھے مگر اب گیٹ پر دعوت ناموں کی چیکنگ بہت سخت ہو گئی ہے۔ موصوف کے متعلق شنید ہے کہ ایک دفعہ کسی ہال میں ریسلنگ کے مقابلوں کے دوران یہ ناظرین کی صفوں میں بیٹھے تھے۔ مختلف النوع مقابلوں کے دوران یہ بیچ بیچ میں دونوں ہاتھ اٹھا کر انگڑائی لیتے اور کہتے ساڈا آئٹم نہیں آیا انکے ڈیل ڈول اور بے چینی کو دیکھ کر ناظرین بھی بڑی بے چینی سے انکی باری کا انتظار کرنے لگے لیکن اس دوران تمام مقابلے ختم ہو گئے حتی کہ اسٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا کہ اب ناظرین چائے کیلئے برابر والے ہال میں تشریف لے چلیں اس پر موصوف نے ایک بار پھر دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر کے انگڑائی لی اور کہا ’’ساڈا آئٹم آگیا اے !‘‘لیکن اللہ کو جان دینی ہے اور چونکہ اس واقعہ کے ہم عینی شاہد نہیں ہیں۔ لہذا اس سلسلے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ البتہ جو کچھ ہم نے دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ چوہدری اللہ وسایا جب دستر خوان پر ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کھانوں میں بھگدڑ مچ گئی ہے اور وہ اپنے دفاع میں ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ گو یہ سارا منظر نظر نہیں آتا لیکن انکے دونوں ہاتھ " دشمن " کے تعاقب میں جس طرح ادھر ادھر لپک رہے ہوتے ہیں۔ اس سے ہمارے خدشے کی تصدیق ہوتی ہے۔ موصوف کی ایک عادت یہ بھی ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے پتلون کی بیلٹ ڈھیلی کر لیتے ہیں اور اوپر کے دو بٹن بھی کھول دیتے ہیں۔ تاہم ایک احتیاط وہ یہ برتتے ہیں کہ اس دوران لمبا سانس نہیں لیتے لیکن ایک دفعہ خواتین و حضرات سے بھری محفل میں ان سے یہ بے احتیاطی ہو ہی گئی جس کا مردوں نے بہت برا مانا۔ بہر حال چوہدری صاحب کو ایک تشویش جو بہت بری طرح لاحق ہے وہ یہ ہے کہ موصوف اپنے حکیم صاحب کی ہدایت پر عمل نہیں کر پاتے۔ انہیں حکیم صاحب کی ہدایت یہ ہے کہ کھانے کے دوران اگر ڈکار آ جائے تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے لیکن انہیں ڈکار نہیں آتا اس کے باوجود ایک مرحلے میں انہیں مجبوراََ کھانے سے ہاتھ کھینچنا پڑتے ہیں اور یہ مرحلہ وہ ہوتا ہے جب محفل کے اختتام پر بیرا یا میزبان انکے پاس کھڑا انہیں خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ہاں ایک محفل ہمیں ایسی یاد ہے جس میں آخر تک ایک شخص ان کیساتھ شانے سے شانہ ملائے کھڑا رہا اور کھانے کے اس مقابلے میں وہ انہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا رہا۔ بالآخر چوہدری اللہ وسایا نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لئے اور اس وقت انکے چہرے پر وہی تشویش تھی جو حکیم صاحب کی ہدایت پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے انہیں لاحق رہتی ہے جبکہ انکے برابر میں جو صاحب کھڑے تھے بلکہ ڈٹے تھے، وہ خاصے بزرگ تھے اور کھانے کے دوران مسلسل ڈکار رہے تھے۔ تاہم انکے چہرے پر تشویش کی بجائے شانتی ہی شانتی تھی۔ کیونکہ انکے حکیم صاحب نے انہیں غالبا یہ بتایا تھا کہ ڈکار کامطلب یہ ہے کہ پہلا کھانا ہضم ہو گیا ہے اس روز چوہدری اللہ وسایا نے ہمارے ساتھ ایک جگہ جانا تھا۔ کچھ دیر انتظار کے بعد جب ہم نے انہیں چلنے کو کہا تو انہوں نے اس بزرگ کے کاندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا اور کہا ’’ ابا جی اب چلیں قاسمی صاحب کو دیر ہو رہی ہے ‘‘

تازہ ترین