• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فاسلز بتاتے ہیں کہ تین لاکھ سال پہلے موجودہ انسان نے ہوش کی آنکھ کھولی ۔ یہ تین لاکھ سال قتل و غارت سے بھر پور ہیں۔ حیاتیاتی اورسائنسی لحاظ سے دوسرے جانور بھی انسان جیسے ہی ہیں ،فقط reasoning and planningکی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اولاد پیدا کرنے ، اسے پالنے اوراپنی زندگی کی حفاظت کرنے میں وہ ہم جیسے ہی ہیں ۔ آج اگر ایک آسمانی تجلی شیریا چمپنزی پہ نازل ہو جائے ، جس طرح کبھی ہم پہ ہوئی تھی اور وہ منصوبہ بندی کے قابل ہو جائیں تو انسان کا صفایا ہو جائے ۔ انسان میں یہ ذہنی صلاحیت خدا کی دی ہوئی ہے ، اس نے خود تعمیر نہیں کی ۔ اس کے باوجود وہ تکبر سے اکڑتا پھرتا ہے ۔ آپ اندازہ اس سے لگائیں کہ شکاری کتوں سے انسان شکار میں جو مدد لیتا ہے ، اس کے بارے میں خدا یہ کہتا ہے کہ تم ان کتوں کو اسی میں سے کچھ سکھاتے ہو ، جو ہم نے تم انسانوں کو سکھایا ۔ انسان روبوٹس اور مشینوں کو جو ذہانت دیتاہے ، اسے وہ مصنوعی ذہانت کہتا ہے ۔حالانکہ انسان کی اپنی ذہانت بھی مکمل طور پر مستعار ہے ۔ انسان کی اپنی ذہانت بھی مصنوعی ذہانت ہے ، اصلی ہرگز نہیں ۔جس آکسیجن، کاربن ، ہائیڈروجن، نائٹروجن ، کیلشیم اور فاسفورس سے انسان تخلیق ہوئے ہیں ،بالکل انہی سے جانور بنے ہیں۔ بہرحال انسان نے جانور پہ کاٹھی ڈال لی تو سمجھ آتی ہے لیکن یہ بات بڑی خوفناک تھی کہ انسان نے اپنے جیسے انسانوں کو بھی غلام بنا لیا ۔ انسان خریدے اور بیچے جانے لگے ۔ مصر کے بازار میں یوسف علیہ السلام بیچ دیے گئے ۔’’دیارِ مصر میں دیکھا ہے ہم نے دولت کو .......ستم ظریف پیمبر خرید لیتی ہے ۔بیچنے والے کو معلوم ہی نہیں تھا ، کسے بیچ رہا ہے ۔قرآن کہتا ہے : اورانہوں نے اسے (یوسف ؑ کو ) چند درہموں پر بیچ ڈالا ، وہ تو تھے اس سے بیزار ۔ یوسف 20۔کئی بار انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایک ہیرا کوڑیوں کے مول بیچ رہا ہے ۔ الاسکا سوویت ریاست تھی ، سویت یونین نے 1867ء میں جسے 72لاکھ ڈالر کے عوض امریکہ کو بیچ ڈالا تھا کہ اس برفانی جہنم زار کا ہم نے کیا کرنا۔بعد میں وہاں  ہیرے اور سونے سمیت بے تحاشا معدنیات دریافت ہوئیں ۔ فیس بک پرکسی دل جلے نے ایک تصویر اپ لوڈ کی تھی،جس میں پگڑی پہنے ہوئے ایک بڑے میاں مونچھوں کو تاؤ دے رہے تھے ۔ نیچے لکھا ہوا تھا : رقبے ہمارے بزرگوں نے ایسے بیچے کہ آج تک نسلیں رو رہی ہیں ۔ خیر انسان نے اپنے جیسے انسانوں کو خریدنابیچنا شروع کر دیا۔ چودہ سو سال پہلے اسلام نے غلام آزاد کرانے کو ایک عظیم نیکی قرار دیا۔ غلاموں کو بڑے مناصب عطا کیے گئے تو معاشرے میں تھرتھلی مچ گئی، جو انہیں جانوروں میں گنتا تھا۔ یہاں تک کہہ دیا کہ جو خود کھاؤ ، غلام کو کھلاؤ ۔جو خود پہنو وہ غلام کو پہناؤ۔ اس دور میں لباس بہت قیمتی جنس ہوتا تھا۔ غلام صرف ستر ڈھانکتے تھے۔ امرا کے ریشمی لبادے زمین پہ گھسٹ رہے ہوتے ۔یہ ان کے تکبر کی علامت تھی۔ اس پر حکم ہوا کہ تہہ بند پنڈلی سے نیچے ہوا توجسم کا اتنا حصہ جہنم میں رہے گا ۔جے میرین سمز جسے گائناکالوجی کا باپ کہا جاتا ہے، اس نے انیسویں صدی میںامریکہ میں غلام عورتوں کے جسم پہ انسانیت سوز تجربے کیے ۔ ابرہام لنکن کے قتل کی ایک مبینہ وجہ غلامی کا خاتمہ بھی بتائی جاتی ہے ۔کلب میں کتوں اور کالوں کا داخلہ منع ہوا کرتا تھا۔

انسان آج بھی غلام ہے ۔ چار ارب انسان بمشکل جسم و جاں کا ناطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ایک فیصد امیر لوگ دنیا کی چالیس فیصد دولت کے مالک ہیں ۔ انسانوں کی ایک بڑی اکثریت کی زندگیاں آج جس چیز کے گرد گھوم رہی ہیں ، وہ ہے کہ شدید مشقت کر کے کسی طرح خود کو اور اپنی اولاد کو زندہ رکھا جاسکے ۔کیا وہ لوگ آزاد ہیں ، جو فٹ پاتھ پہ سوتے ہیں ۔ کیا غزہ کے بائیس لاکھ انسان آزاد ہیں ، جن میں سے 71ہزار مہذب دنیا کے سامنے قتل کر دیے گئے ۔ کیا گرین لینڈآزاد ہے، ڈونلڈ ٹرمپ جہاں اپنے جنگی جہاز روانہ کر رہا ہے ۔ کیا یوکرین آزاد ہے ، امریکہ اور یورپ نے روس کے خلاف جسے سینڈوچ بنا کے پیس ڈالا ۔ پاکستان کے اپنے حالات یہ ہیں کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد ۔ کرپٹ اشرافیہ تخت پہ براجمان ہے اور ان کی کرپشن کی فائلیں دکھانے والے انکے سرپرست ہیں۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔79سالہ ناراض بچے، ڈونلڈ ٹرمپ کو چونکہ امن کا نوبل انعام نہیں ملا؛لہٰذا اس کا کہنا ہے کہ اب وہ صرف امن کی بات نہیں کرئیگا یعنی اب جنگیں بھی ہوں گی ۔روس ،یورپ ، امریکہ ، ایران ، اسرائیل ، شمالی کوریا، پاکستان اور بھارت جیسے ممالک برسرِ پیکار ہیں ۔ دنیا بڑی جنگوں کی طرف بڑھ رہی ہے ۔روس چڑھ دوڑنے کو ہے ، نیٹو پگھل رہا ہے ۔ مہذب یورپ نے پچھلے بیس سال میں امریکہ کے ساتھ مل کر 9کروڑ ایرانیوں کو بھوکا مار ڈالا ہے۔ایران کو ایٹمی پروگرام کا حق حاصل نہیں ، اسرائیل کو البتہ ہے ۔ انسانیت کے سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ کا حال یہ ہے کہ پانچ ممالک کو ویٹو کا حق حاصل ہے ، باقی انسانیت خواہ چیختی رہ جائے ۔ غزہ میں بچوں کا قتلِ عام کر کے انسان مسکراتے ہوئے اپنے گھر جاتے اور اپنی اولاد کے رخسار چومتے ہیں ۔ کون سی آزادی ، کیسی آزادی ۔ مجھے جو انسانیت کا مستقبل نظر آرہا ہے ،وہ یہ ہے کہ اس نیلے سیارے پر ایٹمی جنگوں سمیت ہر قسم کے بلوے ہوں گے ۔ انسانیت نے جو تہذیب کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا ، وہ اب اتر رہا ہے ۔ایک دن انسان اگر دوبارہ منڈیوں میں خریدے اور بیچے جانے لگے تو کم از کم مجھے کوئی اس پہ کوئی تعجب نہیں ہوگا ۔ میرے جیسے کا تو خیر کوئی خریدار بھی نہیں ہوگا۔ آپ کے خیال میں کیا وہ لوگ غلام نہیں جو دن رات حکمرانوں اور طاقتوروں کا بیانیہ نشر کرتے ہیں ۔ جو اپنے آقا کی تقدیس بیان کرتے کرتے ارب پتی ہو جاتے ہیں ؛حتیٰ کہ اپنی شکلیں بدلوا لیتے ہیں ۔ اقبالؔ نے ان کے بارے میں کہا تھا :’’ شریکِ حُکم غلاموں کو کر نہیں سکتے...خریدتے ہیں فقط اُن کا جوہرِ ادراک!‘‘بادشاہو انسانیت توغلام ہی تھی، غلام ہی رہے گی۔

تازہ ترین