کچھ عرصہ پہلے تک میں بہت گناہ گار مسلمان تھا، نہ نماز روزہ، نہ حج زکوۃ ۔ تاہم کچھ ایسے کام ضرور کرتا تھا جن کیلئے سخت ریاضت کرنا پڑتی تھی کیونکہ میں نے کچھ علما سے سنا تھا کہ یہ بھی نیکی کے کام ہیں، مثلاً مجھے بتایا گیا کہ حضور اکرم ﷺ سلام کرنے میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور اس ضمن میں مخاطب کا مرتبہ یا مقام بھی نہیں دیکھتے تھے بلکہ راہ چلتے بچوں کو بھی آگے بڑھ کر خود سلام کرتے تھے۔ میں نے حضور ﷺ کی اس سنت پر عمل کرنے کی کوشش کی تو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے ہی روز جب میں اپنے نئے ماڈل کی مرسڈیز 600 سے اترا اور چپراسی نے آگے بڑھ کر میرا بریف کیس تھامنے کی کوشش کی تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا کہ مجھے یاد آیا کہ حضور اکرم ﷺ اپنے کام خود کیا کرتے تھے بلکہ اپنا جوتا بھی خودگانٹھتے تھے تا ہم میں اپنے چپراسی کو سلام کرنے میں سبقت حاصل نہ کر سکا کیونکہ میری کار آتے دیکھ کر دور سے وہ اپنا ہاتھ ماتھے تک لے گیا تھا اور رکوع کی حالت میں چلا گیا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا کیونکہ اپنے چپر اسی کو سلام کرنے کے خیال ہی سے مجھے عجیب طرح کی ذلت کا احساس ہو رہا تھا، تاہم دوسرے دن دل پر پتھر رکھ کر میں نے ایک دفعہ پھر ارادہ کیا کہ آج میں یہ کام کر کے دکھاؤں گا مگر ایک دفعہ پھر ناکامی ہوئی اور ایسا مسلسل کئی دن تک ہوتا رہا، بالآخر ایک روز میں نے چپراسی کو بائی آرڈر سلام کرنے سے منع کر دیا اور یوں اسے سلام کرنے میں سبقت لے جانے میں کامیاب ہو گیا لیکن میں یہ جانتا ہوں اس وقت میرا کیا حال ہوا، میرا پورا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا تھا اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کسی نے میری چوری پکڑ لی ہو۔پھر ایک روز میں نے سوچا کہ خدا اور اسکے رسول ﷺنے دیانت اور امانت کا حکم دیا ہے مگر میرے لیےاس حکم کی تعمیل بہت مشکل تھی ، میرے سارے کاروبار کی بنیاد بد دیانتی پر تھی مگر میں نے پکا ارادہ کیا کہ میں ہر صورت میں رزق حلال پر زندہ رہنے کی کوشش کرونگا چنانچہ میں نے سخت نفس کشی کے بعد یہ مرحلہ بھی طے کر لیا جس سے میرا کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا، میرے کاروباری ساتھی مجھ سے منحرف ہو گئے، میرے دوست احباب پریشان دکھائی دینے لگے، میرے گھر والے مجھ سے بیزار ہو گئے لیکن میں نے اپنے عمل میں کوئی لچک پیدا نہ ہونے دی۔ میں نے ناجائز طریقوں سے لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کیا ہوا تھا اور اس ضمن میں کئی مقدمے عدالت میں چل رہے تھے جن میں میری جیت یقینی تھی لیکن میں نے اپنے امانت دار رسول ﷺ کی ایک تعلیم کی سنت پر عمل پیرا ہونے کیلئے، جس کا جو حق تھا اسے ادا کر دیا۔ لوگ مجھے دیوانہ سمجھنے لگے، وہ مجھ پر ہنستے تھے لیکن میں مطمئن تھا کہ میں نے وہی کچھ کیا جو کرنے کا حکم تھا۔میں نے قرآن میں کہیں پڑھا تھا کہ تمہارے پاس ضرورت سے زیادہ جو مال ہے وہ اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کرو ایک سیرت کی کتاب میں حضور ﷺ کے حوالے سے میں نے کئی ایسے واقعات بھی پڑھے کہ آپﷺ کے پاس جو کچھ ہوتا تھا وہ دوسروں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ کاروبار میں نقصان پہنچنے اور لوگوں کا مال لوگوں کو واپس کرنے کے باوجود میرے پاس جو کچھ ہے، وہ اتنا زیادہ ہے کہ کئی نسلوں تک ختم نہیں ہو سکتا چنانچہ ایک روز میں نے اپنی اور اپنے بچوں کی ضرورت کیلئے کچھ اثاثے اپنے پاس رکھے اور باقی تمام جائیداد غربا اور مساکین میں تقسیم کر دی ۔مگر ہوا یوں کہ اسکے بعد میرا جینا حرام ہو گیا ۔ میرے بچے مجھے پکڑ کر دماغی امراض کے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ میں چیختا چلاتا رہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ خدا کیلئے میرے رستے میں مشکلات پیدا نہ کرو مجھے خدا اور اسکے رسول کے احکام پر عمل کرنے دو مگر کسی نے میری ایک نہ سنی۔ دماغی امراض کا ڈاکٹر بہت دین دار شخص تھا اس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی ، پنج وقتہ نمازی تھا اور بہت مہربان شخص تھا اس نے میری ساری داستان سنی اور کہا ’ تم نے اپنے لیے بہت مشکل راستہ چنا ہے ‘میں نے کہا ’یہ حضور ﷺ کا رستہ ہے اگر مشکل بھی ہے تو اس میں بالآخر میرے لیے آسانیاں پیدا ہونگی‘ ڈاکٹر بولا ” ہمیں حقائق سے اغماض نہیں برتنا چاہیے چنانچہ یہ حقیقت ہمیشہ ہمارے سامنے رہنی چاہیے کہ وہ اللّٰہ کے برگزیدہ بندے تھے جبکہ ہم گناہ گار انکے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں، لہٰذا ہمیں انکی برابری کی کوشش نہیں کرنی چاہیے‘‘ میں نے کہامیں نار جہنم سے ڈرتا ہوں، ڈاکٹر بولا’’تم نماز پڑھتے ہو؟‘‘ میں نے کہا’ نہیں‘ روزے رکھتے ہو؟ میں نے جواب دیا ”نہیں“ ڈاکٹر نے پوچھاکیا تم خود کو گناہ گار محسوس نہیں کرتے ؟میں نے کہا’’یقیناً ، لیکن میں پہلے خود کو مشکل کاموں کی عادت ڈال رہا تھا ، آسان کام میں نے بعد میں کرنا تھے چنانچہ میں نے آج سے ارکان اسلام پر پابندی سے عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر میرے بچے مجھے پکڑ کر تمہارے پاس لے آئے ۔‘‘یہ سن کر ڈاکٹر کے چہرے پر اطمینان کے آثار نمایاں ہوئے اس نے ایک لمبا سانس لیا اور کہا ” شکر ہے تم کفر سے بچ گئے ‘‘ پھر اس نے میرے بچوں کو مخاطب کر کے کہا ’’ اپنے والد کو با قاعدگی سے مسجد میں نماز کیلئے لے جایا کرو، یہی انکا علاج ہے، ویسے میں یہ کچھ گولیاں بھی لکھ دیتا ہوں ، آپ ایک ہفتے بعد انہیں پھر میرے پاس لے کر آئیں‘‘۔ڈاکٹر نے ایک لمبا لیکچر بھی دیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ انسان کو اپنی ہمت سے بڑھ کر کام نہیں کرنا چاہیے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ ہمیں ہر نماز کے بعد اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے، نیز اسکے جو پیارے بندے اللّٰہ کو پیارے ہوچکے ہیں، انہیں خوش رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ وہ بھی خدائے غفور و رحیم کے پاس ہماری سفارش کر سکیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر کی ان باتوں سے مجھے خاصا اطمینان نصیب ہوا، شاید اسلئے بھی کہ میں ایک مشکل راستے پر چلتا چلتا تھک گیا تھا اوراس باوقار زندگی کیلئے ترس گیا تھا جو کروڑوں بے وقار لوگوں میں ایک خاص طرز زندگی کےطفیل ہوتی ہے۔ اسلام کے جن پہلوؤں پر میں نے عمل کرنے کی کوشش کی تھی ، اسکے دوران مجھے یہ شعر رہ رہ کر یاد آ رہا تھا ’’یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے...لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا‘‘اور مجھ میں اس شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنے کی ہمت نہیں رہی تھی، چنانچہ میں ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنی سابقہ زندگی کی طرف لوٹ گیا البتہ میں نے باقاعدگی سے نماز شروع کر دی ، روزہ ،زکوۃ اور حج پر بھی عمل پیرا ہوامیں نے بزرگوں کے مزاروں پر بھی حاضری دینا شروع کر دی، با قاعدگی سے وہاں دیگیں چڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اب اللّٰہ تعالی کے فضل وکرم سے صورتحال یہ ہے کہ میں نے اپنی تمام کھوئی ہوئی جائیداد دوبارہ حاصل کر لی ، میری کاروباری ساکھ بھی درست ہوگئی ہے اور میرے بچے بھی مجھ سے راضی ہو گئے ہیں۔ خدا کے فضل و کرم سے علما کے حلقوں میں بھی میری قربانیوں کو بہت سراہا جاتا ہے کہ علاقے کی تمام مسجدیں میرے عطیات سے چلتی ہیں، میں دینی مدرسوں کی بھی دل کھول کر مدد کرتا ہوں، اپنی کمائی میں سے غربا اور مساکین میں ڈھائی پرسنٹ زکوۃ بھی تقسیم کرتا ہوں، اور یوں ضمیر کو ایک اطمینان سا نصیب ہوتا ہے۔ پہلے میں خودکو گناہ گار سمجھتا تھا اب الحمد اللّٰہ دوسروں کو گناہ گار سمجھتا ہوں !