• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیّدنا حسینؓ بے حد فیّاض، کثرت سے نیک عمل کرنیوالے تھے،علما

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) سیّدنا حضرت حسینؓ بے حد فیّاض، نہایت متقی، عبادت گزار اور کثرت سے نیک عمل کرنے والے تھے سخاوت، مہمان نوازی، غرباء پروری، اخلاق و مروّت، حلم و تواضع اور صبر و تقویٰ آپؓ کی خصوصیاتِ حسنہ تھیں ان خیالات کااظہارصو بائی خطیب مولاناانوارلحق حقانی ،مولاناعبداللہ منیر،ڈاکٹر عطا الرحمان، مولاناقاری عبدالرحیم رحیمی اورمولاناعطا الرحمان رحیمی نے سیّدنا حضرت حسینؓکےیوم ولادت کے موقع پرجنگ سےگفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ اکابرِ مدینہ مشکل مسائل میں آپؓ کی طرف رجوع کیا کرتے سبطِ رسولؐ، سیّدنا حضرت حسینؓ دینی علوم کے علاوہ عرب کے مروّجہ علوم میں بھی دسترس رکھتے تھے آپؓ کی علم و حکمت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ آپؓ کےخطبات سے لگایا جاسکتا ہے جن میں سے کچھ آج بھی کتبِ سیرت میں موجود ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اِس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپﷺ ایک کندھے پر حضرت حسنؓ کو اور دوسرے کندھے پر حضرت حسینؓ کو اُٹھائے ہوئے تھے یہاں تک کہ ہمارے قریب تشریف لے آئے اور فرمایا’’ یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں اور پھر فرمایا’’ اے اللہ! مَیں اِن دونوں کو محبوب رکھتا ہوں، تُو بھی ان کو محبوب رکھ اور جو اِن سے محبّت کرتا ہے، ان کو بھی محبوب رکھ‘‘ سرکار دو عالمﷺ نے فرمایا’’حسنؓ و حسینؓ نوجوانانِ جنّت کے سردار ہیں‘‘حضرت ابنِ عُمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ حسنؓ اور حسینؓ دنیا کے میرے دو پھول ہیں‘‘رحمتِ دوعالمﷺ نے فرمایا’’افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے‘‘اور سیّدنا امام حسینؓ نے دورِ ظلم و جور میں جس شان سے افضل جہاد کیا اور جرأت و شجاعت، عزم و استقلال، ایمان و عمل، ایثار و قربانی اور تسلیم و رضا کی جو بے مثال داستان رقم کی تاریخِ انسانی اُس کی نظیر پیش کرنےسے قاصر ہے۔
کوئٹہ سے مزید