• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں کراچی کے ـ’’گل پلازہ‘‘میں جل کر خاک ہو جانےوالا ایک پاکستانی شہری ہوں جو یہ قیامت برپا ہونے تک آپ کی طرح ایک زندہ لاش تھا۔ میرا نام کیا ہے، مرد ہوں یا عورت، مہاجر ہوں یا سندھی،یقیناً آپ کو ان کوائف سے بہت فرق پڑتا ہے مگر مجھے کوئی سروکار نہیں کیونکہ یہ سب زندگی کے بکھیڑے ہیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ہفتے کی شام کچن کے برتن خریدنے کیلئے ایم اے جناح روڈ جانے کا اتفاق ہوا۔ تقریباً دس بج چکے تھے، اچانک شور کی آواز سنائی دی ’’آگ لگ گئی‘‘۔ پہلے سے اندازہ نہیں تھا کہ آتشزدگی کی نوعیت کیا ہے مگر جب معلوم ہوا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ ہے تو لوگ افراتفری میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے اور پھر بتیاں بجھا دی گئیں تو اندھیرے میں راستہ تلاش کرنا دشوار ہوگیا۔ چونکہ وہاں دکانوں کے علاوہ راہداریوں میں پلازہ ایسوسی ایشن نے چھوٹے کاؤنٹر بنا کر کرائے پر دے رکھے ہیں، ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کا راستہ تو درکنار معمول کے راستے بھی بند کردیئے گئے، اسلئے بدحواسی کا عالم تھا۔ گھبراہٹ میں کسی پڑھے لکھے شخص نے چیخ کر کہا، دکانوں سے آگ بجھانے والے آلات نکال کر استعمال کریں تاکہ لوگوں کو یہاں سے نکلنے کا موقع تو مل سکے۔ سب کی جان پر بنی ہوئی تھی مگر اس بات پر کچھ لوگوں کی ہنسی چھوٹ گئی اور ایک نوجوان سے رہا نہ گیا، اس نے کہا ، ابے ! کہاں سے آئے ہو بھائی! یہ کراچی ہے ،یہاں کوئی حفاظتی یا ایمرجنسی انتظامات نہیں ہوتے۔

دکاندار تو کیا تاجروں کی ایسوسی ایشن بھی آگ بجھانے والے آلات خریدنے پر پیسہ ضائع نہیں کرتی۔ ’’گل پلازہ‘‘ کی ایسوسی ایشن دکانداروں سے ہر مہینے 1500روپے وصول کیا کرتی تھی جو ماہانہ 18لاکھ روپے بنتے ہیں۔ پلازہ کی چھت پر پارکنگ کا ٹھیکہ اور اس کے علاوہ بھی آمدن کے کئی ذرائع ہونگے مگر یہ پیسہ حفاظتی نوعیت کے اقدامات پر خرچ نہیں کیا گیا۔ اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ آگ ہمارے بالکل قریب پہنچ گئی۔ سامنے دوسری طرف کچھ لوگ ہمیں دیکھ رہے تھے مگر بچانے کیلئے کچھ کرنے سے قاصر تھے کیونکہ راستے میں آگ کی دیوار حائل تھی۔ میں حالات و واقعات کی درست منظر کشی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی آپ چشم تصور سے وہاں پھنسے مجبور اور لاچار وبے بس افراد کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ نہ جانے کیا سوچ کر میں نے موبائل فون نکالا اور اپنے گھر والوں کو کال ملائی تاکہ الوداع کہہ سکوں۔ بات تو نہ ہوسکی بس ہم سب روتے رہے، میں نے کہا، یہاں سے زندہ نکلنا محال ہے ،کوئی غلطی ہوگئی تو معاف کرنا۔ وہ بھی جانتے تھے کہ کوئی اُمید باقی نہیں مگر جھوٹی تسلی دینے کیلئے کہا ،ہمت مت ہارنا ،کراچی میونسپل کارپوریشن کا عملہ، فائر بریگیڈ، صوبائی حکومت یا پھر وفاقی حکومت جلد مدد کو آئیگی۔ اسی اثنا میں آگ ہماری طرف بڑھی تو سب دوڑ کر ایک دکان میں داخل ہوگئے۔ اس آپا دھاپی میں میرا موبائل فون کہیں گر گیا۔ چھوٹی سی دکان میں لگ بھگ30انسان ہونگے، کسی نے دروازہ بند کر دیا۔ اسے بھی معلوم تھا کہ آگ دستک دیکر دروازہ کھلنے کا انتظار نہیں کرے گی مگر مرتے کیا نہ کرتے۔ اس سے آگے کی روداد آپ نہ ہی سنیں تو اچھا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ وہ جگہ ہمارے لئے جہنم بن گئی ’’گل پلازہ‘‘ نار ہوگیا اور سب زندہ جل مرے۔ موت کے بعد ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ لواحقین اپنی محبت کے اظہار کے طور پر رونے دھونے کے بعد کفن دفن کا انتظام کریں مگر ستم بالائے ستم کہ ہمارے پیاروں کو لاشیں ہی نہ مل پائیں اور تیسرے دن جسم کے جلے ہوئے اعضا ء وہاں سے برآمد کے گئے۔

آگ میں زندہ جل مرنا بہت تکلیف دہ تھا مگر اب ہمارے ارباب اقتدار و اختیار شرمندگی و ندامت کا اظہار کرنے کے بجائے جس طرح کے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، وہ اس موت سے کہیں زیادہ اذیت ناک ہیں۔ میں نے سنا ہے کسی نے فرمایا، آگ تو نیوزی لینڈ اور کیلیفورنیا میں بھی لگ جاتی ہے،اس پر حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ ان بے ضمیر حکمرانوں کو کوئی بتائے ،وہاں تو جنگلوں میں آگ لگی تھی، کراچی میں کون سا جنگل ہے ۔یہاں تو جنگل کا قانون ہے۔ کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کیلئے نقشے کون منظور کرتا ہے،جب پارکنگ میں دکانیں بنادی جاتی ہیں، ہنگامی راستوں اور راہداریوں کو کمرشل مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، آگ لگنے کی صورت میں حفاظتی انتظامات نہیں کیے جاتے تو سرکار کہاں سو رہی ہوتی ہے ؟

کراچی جیسے بڑے شہر میں فائر بریگیڈ کو متحرک وفعال بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟ کسی نے یہ بھی کہا کہ سانحہ ’’گل پلازہ‘‘ پیپلز پارٹی کیخلاف سازش ہے۔ بالکل درست فرمایا،یہ سازش یہاں زندہ جل مرنے والوں نے رچائی۔ ہمیں معلوم تھا کہ اس ملک میں ریاست اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تو وہاں گئے ہی کیوں۔ ہم اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں ۔مجھے ان حکمرانوں سے کچھ نہیں کہنا،میں تو کراچی اور پاکستان کے طول و عرض میں زندگی کا بوجھ اُٹھا کر جی رہی آپ جیسی زندہ لاشوں سے مخاطب ہوں۔میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی نے کہا تھا کہ جمہوریت کی نقالی آمریت سے بھی بدتر ہے کیونکہ یہ لوگوں کو کچھ کرنے نہیں دیتی ۔شاید آپ کو بھی اسی قسم کے حالات درپیش ہیں۔ اسی طرح امریکی مصنف ،چارلس بکوسکی نے کہا تھا کہ جمہوریت اور آمریت میں فرق یہ ہے کہ جمہوریت میں پہلے آپ ووٹ لیتے ہیں ،پھر ڈکٹیشن لیتے ہیں جبکہ آمریت میں ووٹنگ کیلئے وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا۔ ایک اور امریکی مصنف، گورے وائیڈل کا قول یاد آرہا ہے کہ جمہوریت میں عوام کو انتخاب کا حق تو حاصل ہوتا ہے مگر اس حقِ انتخاب کی مثال ایسے ہی ہے جیسے دوپین کلرز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا جائے اور بعد میں پتہ چلے کہ دونوں پیکنگ میں تھی تو اسپرین ہی۔شاید میری طرح آپ کو بھی یہ باتیں تب یاد آئیں جب آپ کسی سانحے میں زندہ جل مریں ۔

تازہ ترین