• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپی یونین اور بھارت تاریخی تجارتی معاہدے کے اہم نکات سامنے آگئے

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

یورپین یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والی فری ٹریڈ ڈیل اور دفاعی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ رہے ہیں۔ 

ان معاہدوں کیلئے یورپین یونین کی تمام اعلیٰ قیادت ، یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین، یورپین خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس اپنے حکام کے ہمراہ خاص مہمان کے طور پر نئی دہلی میں ہیں۔ 

اس حوالے سے مختلف یورپین ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹس کے مطابق یورپ چاہتا ہے کہ بھارتی کاروں پر محصولات میں کمی کرے، جبکہ انڈیا اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ اس کی اسٹیل کی برآمدات، اسٹیل پر یورپی یونین کے آئندہ ٹیرف کے ساتھ ساتھ بلاک کے کاربن بارڈر ٹیکس سے متاثر نہیں ہوں گی۔ 

 رپورٹس کے مطابق مذاکرات اتوار کے روز بھی ان نکات سے گزر رہے تھے لیکن توقع ہے کہ منگل تک ان مسائل کا حل نکل آئے گا۔ 

رپورٹس کے مطابق توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ بھارت کاروں کے ٹیرف کو کم کرے گا اور یورپی یونین بھارتی کمپنیوں کو اضافی ڈیکاربونائزیشن سپورٹ پیش کرے گا۔

رپورٹس میں اس ڈیل کے مشکل حصے کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ زراعت دونوں فریقوں کے لیے ایک براہ راست مسئلہ ہے، جس میں گوشت، پولٹری، چاول اور چینی جیسی مصنوعات کو ٹیرف میں کٹوتیوں سے باہر رکھا جائے گا جبکہ یورپی وائن، اسپرٹ اور زیتون کے تیل پر ڈیوٹی ڈرامائی طور پر ہندوستان کی طرف بڑھنے کی توقع ہے، جس کی وجہ سے فرانس اور آئرلینڈ جیسے زراعت پر مرکوز ممالک کے اس ڈیل کے ساتھ جانے کا امکان ہے۔ 

اس دورے سے حاصل ہونے والی ایک اور اہم چیز ای یو - انڈیا سیکیورٹی اور ڈیفنس پارٹنرشپ ہے، جو یورپی اور ہندوستانی دفاعی صنعتوں کو مربوط کرنے پر مرکوز ہے۔ 

ایک یورپین اہلکار نے امید ظاہر کی کہ بھارت جو روایتی طور پر روس سے ہتھیار خریدتا رہا ہے وہ یورپ سے حالیہ ہتھیاروں کی خریداری کو دوگنا کر دے گا، جس میں فرانس سے مزید ڈسالٹ رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید