• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور: بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

لاہور میں بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد کردی گئیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئی ہیں، پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر پابندی عائد ہے۔

کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ 30 روز کے لیے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، خلاف قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کرنے کا اندیشہ تھا۔

محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی ہے: ترجمان

دوسری جانب ترجمان محکمہ داخلہ نے کہا کہ حکومت نے لاہور میں 6 تا 8 فروری محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے، حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی، امنِ عامہ کو برقرار رکھنے اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کے لیے پابندیاں عائد کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے، خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مقررہ تاریخ سے قبل پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، ممنوع مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید