• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: انتہائی غربت میں مبتلا افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

برطانیہ میں انتہائی غربت میں مبتلا افراد کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ ایک تازہ تجزیے کے مطابق برطانیہ میں انتہائی شدید غربت میں زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 

جوزف راؤنٹری فاؤنڈیشن (JRF) کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریباً 68 لاکھ افراد، جو کہ غربت میں مبتلا آبادی کا نصف بنتے ہیں، ایسی شدید غربت کا شکار ہیں جہاں ان کی سالانہ آمدن خوراک، توانائی کے بل اور لباس جیسے بنیادی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر غربت کی شرح حالیہ برسوں میں تقریباً 21 فیصد پر برقرار ہے، تاہم غربت میں رہنے والے افراد کی زندگی مزید مشکل ہو چکی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق کم ترین آمدن والے گھرانے چار سال بعد بھی مہنگائی کے بحران سے نہیں نکل سکے، جس کے باعث لاکھوں افراد کو کھانے کے بغیر گزارا کرنا، گھریلو بلوں میں پیچھے رہ جانا اور بقا کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے۔

جوزف راؤنٹری فاؤنڈیشن کے چیف تجزیہ کار پیٹر میٹیجک نے کہا کہ برطانیہ میں غربت اب نہ صرف وسیع پیمانے پر موجود ہے بلکہ گزشتہ 30 برسوں میں کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ گہری اور زیادہ نقصان دہ ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق انتہائی شدید غربت کی تعریف یہ ہے کہ کرایہ ادا کرنے کے بعد گھریلو آمدن غربت کی مقررہ حد کے 40 فیصد سے بھی کم ہو۔ 

اس زمرے میں شامل ایک اوسط گھرانے کی آمدن غربت کی لکیر سے 59 فیصد کم ہوتی ہے۔ دو کم عمر بچوں والے ایک جوڑے کے لیے یہ آمدن سالانہ 16,400 پاؤنڈ یا اس سے کم بنتی ہے۔

اگرچہ کچھ گھرانے وقت کے ساتھ اس زمرے سے باہر آجاتے ہیں، تاہم تقریباً 19 لاکھ افراد مستقل طور پر انتہائی شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق ایسے خاندانوں کو غربت سے مکمل طور پر نکلنے کے لیے سالانہ آمدن میں نمایاں اضافے کی ضرورت ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید