• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے بعد یہ بات زیر بحث ہے کہ کیا پاک فوج فلسطین جائے گی ؟اوراگر ایسا ہوا تو اس کا مینڈیٹ حماس کو غیر مسلح کرنا ہوگا یا نہیں۔اس حوالے سے ایک اہم عسکری ادارے کے سربراہ نے چند صحافیوں کو غیر رسمی نشست پر راولپنڈی مدعوکیا ۔اس بریفنگ کے دوران مجھ سمیت تقریباً50صحافی موجود تھے۔لگ بھگ چار گھنٹے کی طویل گفتگو کے دوران بیشمار سوالات ہوئے مگر شاید بنیادی مقصد افواج پاکستان کے غزہ جانے سے متعلق افواہوں اور قیاس آرائیوں پر ادارے کا موقف واضح کرنا تھا۔بتایا گیا کہ ہنوز دہلی دور است ۔امن بورڈ میں شمولیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ افواج پاکستان کے دستے غزہ بھیجنے کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ابھی تو یہ طے ہوگا کہ The International Stabilization Force (ISF)کا چارٹر کیا ہوگا ،تمام شرائط اور معاملات طے ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ پاک فوج وہاں جائے گی اور اس حوالے سے قطعاً کوئی ابہام نہیں کہ ہمارا کام حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں۔ہم کسی صورت یہ کام نہیں کریں گے بلکہ وہاں فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیئے کوئی کردار ادا کرنے کا موقع ملا تو ضرور جائیں گے۔یہ سوال بھی ہوا کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا ْ؟جس پر ادارے کے سربراہ نے جواب دیا کہ یہ وفاقی حکومت کا کام ہے کہ کسی معاملے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا ہے یا نہیں اور افواج پاکستان آئین کے آرٹیکل 245کے تحت کام کرتی ہیں۔فوج کا کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہے ۔یہاں تک کہ غزہ فوج بھیجنے کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی وفاقی حکومت کے پاس ہے ۔اگر وفاقی حکومت کہے گی تو ہم چلے جائیں گے لیکن فی الحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک صحافی جو سابقہ دور میں چہیتے تھے مگر پھر راندہ درگاہ ٹھہرے ،انہوں نے سوال کیا کہ تین وفاقی وزراتو کہہ چکے ہیں کہ ہماری فوج حماس کو غیر مسلح کرنے جارہی ہے تو بریفنگ دینے والی اہم عسکری شخصیت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا،یہ کب کہا ؟اس صحافی نے کہا میں آپ کو ویڈیو بھیج دوں گا۔ادارے کے سربراہ نے کہا ،ہم بھی ہر خبر پر نظر رکھتے ہیں لیکن یہاں بیٹھے دیگر صحافیوں میں سے کوئی اس بارے میں جانتا ہے۔سب نے لاعلمی کا اظہار کیا اور اگلی نشست پر براجمان ایک صحافی نے توبرجستہ کہا کہ اگر ایسا کوئی بیان دیا گیا ہوتا تو آگ لگ گئی ہوتی۔

سیاسی نوعیت کے سوالات بھی ہوئے ۔کسی نے پوچھا ،آپ سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل میں اپنے قائد سے کیوں نہیں ملنے دیتے تو جواب ملا کہ ہمارا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ۔وہاں ہزاروں قیدی ہیں ،قانون کے مطابق جس طرح ان کی ملاقاتیں ہوتی ہیں ،وہ بھی ان سے جاکر مل لیں ۔خیبر پختونخوا بالخصوص تیرہ میں جاری فوجی آپریشن سے متعلق گفتگو ہوئی ۔سوال کیا گیا کہ آپ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بریفنگ کیوں نہیں دیتے ،انہیں دہشتگردی کے حوالے سے صورتحال سے آگاہ کرکے اعتماد میں لینا چاہئے ۔ان کا موقف یہ رہا کہ اگر وفاقی حکومت چاہے تو ان سے بات چیت کرسکتی ہے اور اس کے بعد ہمیں کہا جائے گا تو ضرور بریفنگ دینگے لیکن براہ راست ان سے بات کرنا ہمارا کام نہیں۔ دوران گفتگو بار بار یہ تاثر دیا گیا کہ ہمارا حکومت سے کوئی ذاتی تعلق نہیں بلکہ سرکاری تعلق ہے اور ایک شخص یعنی سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جس نے ا س اصول کو توڑا،وہ اپنے کیئے کی سزا بھگت رہا ہے۔بالعموم ایسی غیر رسمی گفتگو کے دوران کھل کر بات کی جاتی ہے ،غلطیوں کا برملا اعتراف کیا جاتا ہے ،کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر تفصیلات بیان کی جاتی ہیں لیکن یہ بریفنگ بہت محتاط اور نپی تلی تھی۔بار بار یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سب فیصلے وفاقی حکومت کرتی ہے ،ہمارا کوئی عمل دخل نہیں اور نہ ہی ان فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔وہاں بیٹھے صحافیوں کے لیئے ان باتوں پر یقین کرنا مشکل ہورہا تھا اسی تناظر میں ادارے کے سربراہ نے یہ جملہ کہا کہ میں جو باتیں کررہا ہوں ،آپ کو ہضم نہیں ہوں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم صرف اپنے آئینی کردار تک محدود ہیں اور سیاسی معاملات سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ایک صحافی نے پوچھا ،آپ کے باس یعنی وزیر دفاع خواجہ آصف تو واضح کرچکے ہیں کہ یہ ’’ہائبرڈ رجیم‘‘ہے یعنی فوج اور حکومت مل کر فیصلہ کرتے ہیں ،اگر اختیارات کی تقسیم کا یہ فارمولا پہلے طے کرلیا جاتا تو پاکستان ترقی کرگیا ہوتا۔ادارے کے سربراہ نے اپنے سامنے رکھے دستور پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں نظام اس کتاب کے مطابق کام کررہا ہے اب آپ سیاسی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے اسے ہائبرڈ سسٹم کہیں یا کچھ اور مگر ہم آئین میں متعین کردار تک محدود ہیں۔نجانے کیوں اس گفتگو سے یہ تاثر ملا کہ جس طرح تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ادارے نے ایک موقع پر خود کو آئینی کردار تک محدود کرنے کا فیصلہ کیااور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سبکدوش ہوتے وقت اپنی الوداعی تقریر میں بھی اس بات کی تصدیق کی کہ فوج اب نیوٹرل ہوچکی ہے،بعینہ فوج ایک بار پھرواقعی غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہونے کا سوچ رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں عمران خان طعنہ زنی کرتے رہے کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے ۔بالخصوص اس نشست میں بعض ایسے صحافی اور وی لاگرزجو واضح طور پر’’عشق عمران‘‘میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں،ان کی موجودگی یہ اشارہ کررہی تھی کہ ہواؤں کا رُخ بدل رہا ہے ۔جب اس حوالے سے متعلقہ حکام سے استفسار کیا تو جواب ملا کہ انہیں محض Engageکرنے کی غرض سے مدعو کیا گیاہے۔میں صحافیوں کو تقسیم کرنے کے حق میں نہیں اور کسی کو بلانے پر ہرگز معترض نہیں لیکن ادارے کے سربراہ کی گفتگو کی طرح اس نشست میں مدعو کیئے جانے والے ان صحافیوں کی موجودگی بھی باآسانی ہضم ہونے والی بات نہیں۔

تازہ ترین