جان کی حفاظت تو شریعت کی رو سے بھی ضروری ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہئے کہ اپنی جان بچانے کے لیے منہ بند رکھیں کیونکہ شہر میں گردو غبار بہت ہے اور یوں ہم گردوغبار سے محفوظ رہیں گے البتہ منہ اگر مکمل طور پر بند رکھنا ممکن نہ ہو تو درمیان میں تھوڑا بہت کھول بھی لیں تا کہ کم سے کم گرد و غبار اندر جائے۔ جین مت کے پیرو کارمنہ پر کپڑا باندھ کر گھروں سے نکلتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ فضا میں موجود کیڑوں مکوڑوں کو بھی جو بلا وجہ منہ میں چلے جاتے ہیں، ہلاک نہیں کرنا چاہتے ۔ حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ ان کی جان بچانے کے بجائے اپنی جان بچانے کے لیے منہ پر کپڑا باندھ کر نکلتے ہیں اور یوں روزانہ اس پاؤ بھر مٹی سے محفوظ رہتے ہیں جو منہ کھولنے کی صورت میں معدوں میں پہنچ کر جم جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’منہ کھولنے‘‘ سے جس فساد خلق کا اندیشہ ہوتا ہے اسں سے بھی بچ جاتے ہیں۔
ویسے میرے نزدیک اگر مزید احتیاط مقصود ہو تو سروں پر بھی کس کر رو مال باندھ کر گھر سے نکلنا چاہئے کہ ایک تو ہوا تیز چلنے کی صورت میں سر ننگا نہیں ہوتا اور دوسرے سر میں خاک نہیں پڑتی ۔ ہمارے سکھ بھائی تو اس سلسلے میں بہت محتاط ہیں۔ وہ سر بھی باندھ کر رکھتے ہیں، منہ کوبھی مونچھوں اور داڑھی سے ڈھانپے رکھتے ہیں اور کچھا بھی پہنتے ہیں۔ ان سطور میں سر پر دستار باندھنے کا مشورہ میں نے اس لیے نہیں دیا کہ ان دنوں میڈیا والے سروں پر دستار نہیں رہنے دیتے۔ تاہم سر پر ٹوپی ضرور ہونی چاہئے کہ آج کل بہت سے سروں پر اور سر کے اندر بھی کچھ نظر نہیں آتا۔
میرے ایک دوست کو ایک دفعہ ’’بال چر‘‘ ہو گیا، جس کی وجہ سے اس کے سر کے بال اُڑ گئے ۔ اس نے اپنے ایک ہمسائے کو یہ صورتحال بتائی تو ہمسائے نے اسے ایک طبیب کا پتہ دیا اور کہا کہ انکے پاس جاؤ کیونکہ میرے ایک عزیز دوست کو بھی ” بال چر“ ہوگیا تھا مگر اللہ نے بڑا کرم کیا۔ اس طبیب نے میرے دوست سے کہا ” تم پنج وقت نماز پڑھا کرو اور سر پر ٹوپی رکھا کرو ، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس پر میرے دوست نے اپنے ہمسائے سے پوچھا کہ اس سے تمھارے دوست کا ’’بال چر‘‘ ٹھیک ہو گیا؟ ہمسائے نے کہا کہ اللہ نے بڑا کرم کیا۔’’بال چر‘‘ تو ٹھیک نہیں ہوا مگر میرا وہ دوست اب پانچ وقت نماز پڑھتا ہے اور سر پر ہمیشہ ٹوپی رکھتا ہے۔ مگر سچ پوچھیں تو مجھے ایسے طبیب بالکل اچھے نہیں لگتے جو بدعنوانیوں کا ’’بال چر‘‘ تو جوں کا توں رہنے دیں اور سارا زور نماز پڑھنے اور سر پر ٹوپیاں پہنانے میں صرف کردیں۔خیر یہ بات تو یونہی درمیان میں آگئی ، میں تو ان سطور میں جان بچانے کے طریقوں پر روشنی ڈال رہا تھا۔ جان بچانے کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ کھانا ہمیشہ اعلی دستر خوان پر کھایا جائے۔ چھوٹے موٹے لوگوں کیساتھ، چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں بیٹھ کر کھانا کھانے سے پیٹ کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ یہ کھانا حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا۔ بڑے لوگوں کا ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے سے کم از کم پیٹ کی بیماریاں نہیں ہوتیں ۔ صرف دل کی بیماری کا اندیشہ ہے اور بقول اقبال:
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم؟
مگر اقبال کی بھی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے۔ میں یوں بھی یہاں جان بچانے کی بات کر رہا ہوں ، روح کی حفاظت کرنے کے طریقے بیان نہیں کر رہا۔ اقبال کی باتوں پر جائیں تو وہ تو :
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ایسی شکم دشمن باتیں بھی کرتا ہے۔ یہ تو شرفا کو بھوکوں مروانے والی باتیں ہیں۔ اس قسم کے رزق سے اگر پرواز میں کوتاہی آتی ہے تو بصورت دیگر ترقی کی ” پرواز‘‘ ہی کینسل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا جان بچانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دستر خوان کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جائے۔
اور اگر فرضِ محال کسی دوست کو میری طرف سے پیش کردہ جان بچانے کے ان طریقوں سے اختلاف ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ منہ بند رکھنے اور اعلیٰ دستر خوان کا انتخاب کرنے سے جان بچ جاتی ہے مگر ایمان خراب ہوتا ہے تو ان کے لیے بھی میری زنبیل میں ایک مشورہ موجود ہے اور وہ یہ کہ جان بھی بچ جائے گی، ایمان بھی محفوظ رہیگا۔ وہ یوں کہ جب دل سے سارے وسوسے ، سارے خدشے اور سارے خوف دور ہو جا ئیں تو پھر کوئی چیز کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی حتی کہ موت بھی منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ چنانچہ جان بچانے کا سب سے اعلی طریقہ یہ ہے کہ جان بچانے کا خیال دل سے نکال دیا جائے ۔ سو جو دوست میرے اس مشورے کو صائب سمجھیں وہ اپنی زبان کے قفل کھول دیں۔ نیز جس رزق سے پرواز میں کوتا ہی آتی ہو اُس رزق پر موت کو ترجیح دیں کہ اب تو دہشت گردی ، مذہبی انتہا پسندی، تمام طبقات میں پائی جانیوالی کرپشن اور خوف فساد خلق کی وجہ سے نہ کی جانیوالی بہت سی باتوں پر اپنا ردعمل نہ دیئے جانے کی صورت میں ہم میں سے کسی کی جان بھی نہیں بچے گی۔
جان بچانے کا کوئی طریقہ ہمارے کام نہیں آئے گا کیونکہ ایسے حالات میں ”موسیٰ نسیا موت توں، تے آگے موت کھڑی‘‘ والی صورتحال پیدا ہو جایا کرتی ہے۔