تفہیم المسائل
سوال: حادثات میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کی ادھوری میّت یا مُتفرق اعضا ء کے غسل کفن اور نمازِ جنازہ کے بارے میں شرعی حکم کیاہے؟ جلی ہوئی میتوں کو غسل کیسے دیاجائے گا ؟ مُتفرق اعضا ء ملنے پر مسلم غیر مسلم کا فرق اور اُن کی نمازِ جنازہ کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ ( محمد رمیز احمد ،کراچی)
جواب: میّت کو غسل دینا میّت کے حقوق میں سے ایک حق اور اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ حادثات میں فوت ہونے والوں کی میّت کو حسبِ حال غسل یا تیمم کرایا جاتا ہے اور یہ اُس عذر پر منحصر ہے ،جو میّت کے ساتھ لاحق ہو، بلاعذر میّت کو تیمم کروانادرست نہیں، اگر میّت کے جسم کے اکثر اعضاء یا آدھا جسم سر کے ساتھ موجود ہو تو اس صورت میں اسے غسل بھی دیا جائے گا اور اس پر نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی، لیکن اگر میّت کا آدھا جسم بغیر سر کے یا آدھے سے بھی کم جسم (اگرچہ سر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو)پایا گیا تو اسے نہ ہی غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، بلکہ اسے یوںہی دفن کردیا جائے گا۔
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ آدمی(میّت) کا سر یا (طول میں سرسے پاؤں تک دہنا یا بایاں) دونوں میں سے کوئی ایک حصہ ملا، تو نہ اسے غسل دیا جائے گا اور نہ اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، بلکہ اُسے دفن کیا جائے گا، جب تک کہ اس کے بدن کا نصف سے زیادہ حصہ نہ ملے، اگرچہ وہ بغیر سر کے ہو، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد2،ص:199)‘‘۔
علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور اگر (مردے کے) جسم کا اکثر حصہ یا اس کا نصف سر کے ساتھ ملے تو اُسے غسل وکفن دیا جائے گا اور اس پر نماز پڑھی جائے گی، ’’مضمرات ‘‘میں اسی طرح ہے اور اگر جسم کے اکثر حصے پر نمازِ جنازہ پڑھ لی تھی، بعد میں مزید حصہ ملا تو اس(بقیہ) پر نمازجنازہ نہیں پڑھی جائے گی، اسی طرح’’ ایضاح ‘‘میں ہے۔
اگر اس کا آدھا دھڑ بغیر سر کے ملے یا اس کا نصف بدن لمبائی میں چاک ہو تو اسے نہ غسل دیاجائے گا اور نہ اس پر نماز پڑھی جائے گی اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا، اسی طرح’’ مضمرات ‘‘میں ہے،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد1 ، ص:159)‘‘۔صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں: ’’اگر (میّت کا آدھا حصہ ملے جس میں)سر نہ ہو یا طول میں سر سے پاؤں تک دہنا یا بایاں ایک جانب کا حصہ ملا تو ان دونوں صورتوں میں نہ غسل ہے،نہ کفن، نہ نماز بلکہ ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیں،(بہارِ شریعت ، جلد1،ص:815)‘‘۔
سانحۂ گل پلازہ کے ہلاک شدگان میں اکثر اَموات کی صرف ہڈیاں ملی ہیں، جن سے اُن اَموات کی شناخت بھی ممکن نہیں رہی، اس طرح کی صورتحال میں کہ جب میّت کی صرف ہڈیاں ملیں تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ اُن ہڈیوں کو بغیر غسل وکفن محض کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے، علامہ علاء الدین کاسانی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’بےشک ہڈیوں پر بالاجماع نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی،(بدائع الصنائع، جلد 1، ص :302)‘‘۔
میّت کی ہڈیوں پر نمازِ جنازہ نہ پڑھنے کا سبب فقہائے کرام نے بوسیدگی یعنی فنا ہوجانا بیان کیاہے ، علامہ ابوالحسین احمد بن محمد بن احمد بن جعفرالقدوری لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ہڈیوں پر بالاتفاق نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی،کیونکہ بوسیدگی(فنا ہوجانا)نماز سے مانع ہے،(اَلتَّجْرِید لِلقُدُورِی، جلد 3، ص:1099)‘‘۔
اگر جلنے کے سبب وفات پانے والے شخص کو غسل دینا یا اس کے تمام بدن پر پانی پہنچانا ممکن نہ ہو، مثلاً پانی کے استعمال سے گوشت گلنے، جسم کے ٹکڑے ہونے یا جلد اُترنے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں تیمم کرایا جائے گا، تاکہ میّت کے جسم کی حرمت باقی رہے اور نمازِ جنازہ اداکرکے اُسے اُسی حالت میں دفن کیا جائے۔
تیمم کرنا بھی ممکن نہ ہو، تو میّت سے غسل ساقط ہوجائے گا اور غسل کے بغیر ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ کر اسے دفن کردیا جائے گا، اَلْمَوسُوعَۃ الْفِقہَیۃ الْکَوَیتِیَۃ میں ہے: ترجمہ:’’ فقہاء کا اتفاق ہے کہ جو شخص آگ میں جل کر فوت ہوا ہو اور اسے غسل دینا ممکن ہو، تو اسے عام میّت کی طرح غسل دیا جائے گا، کیونکہ صرف جنگ میں شہید ہونے والے کو غسل نہیں دیا جاتا، چاہے وہ جنگ کے کسی عمل سے ہی جلا ہو، جبکہ جنگ کے علاوہ جل کر فوت ہونے والا صرف اُخروی شہید ہے اور اس پرجنگ میں شہید ہونے والے کے احکام لاگو نہیں ہوتے اور اگر غسل دینے سے جسم کے ٹکڑے ہونے کا خدشہ ہو، تو اس پر صرف پانی بہا دیا جائے اور ہاتھ نہ لگایا جائے اور اگر پانی بہانے سے بھی جسم کے ٹکڑے ہونے کا اندیشہ ہو، تو پھر غسل ترک کر کے تیمم کروایا جائے جبکہ ممکن ہو، جیسا کہ زندہ شخص کے ساتھ کیا جاتا ہے، جسے پانی نقصان پہنچائے،(جلد2،ص:118)‘‘۔
مسلم اور کافر مردے کے درمیان تمیز علامات کے ذریعہ ممکن ہوتو اُس کے مطابق ان کے کفن دفن کا اہتمام کیاجائے گا، علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ مسلمان اور کافروں کے مردے مل گئے یا مسلمانوں اور کافروں کے مقتول مل جائیں ،تو اگر مسلمان کسی علامت سے پہچانے جاتے ہوں، مثلاً : مسلمانوں کی علامت ختنہ ،خضاب اور سیاہ لباس ہے، اُن پر نماز پڑھیں گے، اور اگر کوئی علامت نہ پائی جائے، تو اگر اس میں مسلمان زیادہ ہیں، تو سب پر نماز پڑھیں اور نماز ودعا میں نیت مسلمانوں کی کریں اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں اور اگر زیادہ تعداد مشرکین کی ہوتو کسی پر نماز نہ پڑھیں اور غسل وکفن دیں، لیکن مسلمانوں کے مردوں کی طرح غسل نہ دیں اور مشرکین کے قبرستان میں دفن کریں اور اگر دونوں برابر ہوں توبھی ان پر نماز نہ پڑھیں، دفن میں مشایخ کا اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ مشرکین کے قبرستان میں دفن کریں اور بعض کا قول ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں اور بعض نے کہاکہ ان کے لیے علیحدہ قبرستان بنائیں ، ’’مضمرات ‘‘ میں اسی طرح ہے ، (فتاویٰ عالمگیری ،جلد1،ص:159)‘‘۔
نمازِجنازہ میں دعا مسلمان اموات کے لیے ہے، جب مسلمان یہ دعا پڑھتا ہے: ترجمہ: ’’اے ﷲ! ہمارے زندوں کو ، ہمارے وفات پانے والوں کو، ہمارے موجودین کو، ہمارے غائبین کو، ہمارے چھوٹوں کو اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مَردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے‘‘۔ اس میں صراحتاً مسلمانوں ہی کے لیے دعائے مغفرت کی نیت ہے اور اگرخدانخواستہ کسی کافر یا مشرک کی میّت ان اَموات میں لاعلمی میں رکھ دی گئی ہو، تو وہ جنازہ پڑھنے والوں کا مقصودہی نہیں ہے۔(واللہ اعلم بالصواب )
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com