• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کھانا تو ہم سب ایک لاکھ روپیہ یا زیادہ ماہوار کمانے والے تین ٹائم ہی کھاتے ہیں۔ موسم کے سارے پھل بھی کھاتے ہیں۔ ڈرائی فروٹ پر بھی ہاتھ صاف کرتے ہیں، شاندار یا کھٹارا کار بھی ہمارے زیراستعمال ہوتی ہے۔ فیملی گیدرنگ میں چہکتے بھی ہیں، دوستوں اور فیملی کیساتھ ناردرن ایریاز کی سیر کو بھی نکل جاتے ہیں مگر ہم اتنے مصروف ہیں کہ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا یاد ہی نہیں رہتا۔ اگر کوئی یاد رہتا ہے تو باس اور باس کو اپنے سے اوپر کا باس! صرف یاد نہیں رہتا۔ ہم اس کے آگے پیچھے ہی نہیں پھرتے ، اس کے سامنے کورنش ہی بجا نہیں لاتے بلکہ بھائی کو بھی خوش رکھنے اور بوقت ضرورت اس سے سفارش کروانے کے لیے مال میں اسٹیچو پر سجے ڈریسز بھی اپنی اس پیاری بھابی کے لیے پسند کرتے ہیں اور اپنی اہلیہ، جو اس کی سہیلی بن چکی ہوتی ہے، کے ہاتھ بھجواتے ہیں۔ چلیں چھوڑیں یہ تو بڑے لوگوں کی باتیں ہیں ۔ ہم ذرا چند اسٹیپ نیچے آتے ہیں ۔

مثلاً میں اور آپ تو کھانا کھا کر زیر لب الحمد اللہ کہہ لیتے ہیں اگر ہم میں سے کچھ لوگ زیر لب بھی نہیں کہتے تو کم سے کم دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے خیر سگالی کے جذبات ضرور پیدا ہوتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے ان تکلفات میں پڑتے ہی نہیں۔ انکے الحمد للہ کی کوالٹی کھانے کی کوالٹی سے متعین ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر مرغ پلاؤ کھایا ہے تو ان کی الحمد اللہ سے علاقے کے دروبام ہل جاتے ہیں لیکن اگر انھیں کھانے میں دال وغیرہ ملے تو ان کا چہرہ بھی دال ایسا ہی ہو جاتا ہے۔

لیکن ان طبقوں کے علاوہ ایک طبقہ اور بھی ہے اور میرے نزدیک کھانا کھا کر خدا کا شکر ادا کرنے والے گروہوں میں یہ گروہ صاحب اسلوب واقع ہوا ہے۔ اس ’’فرقے‘‘ کے لوگ اس ضمن میں زبان یا ہونٹوں سے کام نہیں لیتے بلکہ شکر ادا کرنے کی یہ ذمہ داری اپنے حلق کو سونپ دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک زور دار ڈکار مار کر وہ اپنے اس فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ میں نے ان لوگوں کو اپنے اس فرض کے سلسلے میں کبھی کوتاہی کرتے نہیں پایا اور نہ ہی کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ اس ضمن میں وہ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوں، بلکہ وہ ڈٹ کر کھاتے ہیں۔ کھل کر ڈکار مارتے ہیں اور محفل سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بااصول لوگ ہیں۔ یہ لوگ جلوت کی وضع داریوں بلکہ خلوت کی نزاکتوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور نازک موقع پر بھی ڈکار مار دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ کمٹمنٹ والے لوگ ہیں تاہم یہ پتا نہیں چلتا کہ ان کی کمٹمنٹ خدا کے ساتھ ہے یا ڈکار کے ساتھ ہے۔

اب اگر ڈکار مارنے والوں کا ذکر چھڑ گیا ہے تو لگے ہاتھوں ایک اور طبقے کا احوال بیان کرتے چلیں ۔ گو اس طبقے کی تعداد زیادہ افراد پر مشتمل نہیں ہے لیکن یہ مٹھی بھر لوگ اپنے نعرہ ہائے مستانہ سے بڑے بڑوں کا منہ پھیر دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہار منہ یعنی خالی پیٹ ہی ڈکار مار دیتے ہیں اور پورے محلے کو دہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح کے ایک بزرگ میرے علاقے میں بھی موجود ہیں جو میرے گھر سے تقریباً سو گز کے فاصلے پر رہتے ہیں۔ وہ علی الصبح بیدار ہوتے ہیں اور ڈکارنا شروع کر دیتے ہیں جس کی دھمک میرے گھر تک پہنچتی ہے۔ جب سے یہ بزرگ ہمارے علاقے میں مکین ہوئے ہیں، محلے والوں کو گھڑیوں کے الارم لگانے کی ضرورت کبھی نہیں رہی۔ یہ بزرگ جب کسی سے ملنے جائیں تو دروازے پر لگی گھنٹی نہیں بجاتے ، ڈکار مارتے ہیں۔ بچے کو ڈرانا مقصود ہو تو ڈکار مارتے ہیں، بچے کی ماں کو دھمکانا ہو تو ڈکار مارتے ہیں۔ اور تو اور کوئی جلسہ الٹانا ہو تو ایک ڈکار سے وہ کام لیتے ہیں جو امن وامان قائم رکھنے والی کسی فورس کے بس کی بھی بات نہیں ۔ غرضیکہ اس بزرگ کا ڈکار بہت کثیر المقاصد واقع ہوا ہے۔ مجھے اگر کوئی پریشانی ہے تو صرف یہ کہ متذکرہ بزرگ میرے گھر کے بہت قریب واقع ہوئے تھے۔

ممکن ہے میں اس بزرگ اور ان کی متذکرہ سرگرمیوں کے معاملے میں کچھ مبالغے سے کام لے رہا ہوں لیکن ان کے نعرہ ہائے مستانہ کی گونج بہر حال اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ چنانچہ میں نے اپنی حیرت رفع کرنے کے لیے اپنے ایک ڈاکٹر دوست سے بات کی اور متذکرہ بزرگ کے محیر العقول ڈکاروں کا ذکر کیا تو دوست نے بتایا کہ یہ ایک بیماری ہے۔ پھر اس نے اس کی بہت سی طبی وجوہ بھی گنوائیں لیکن مجھے ان طبی وجوہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی چنانچہ میں نے اس دوست سے اپنی اصل الجھن بیان کی اور وہ یہ کہ جو لوگ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور پھر با آواز بلند ڈکار مارتے ہیں تو اس سے ان کی خاندانی نجابت کا پتا چلتا ہے لیکن یہ نہار منہ ڈکار مارنے والے آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میرا یہ دوست اس وقت کج بحثی کے موڈ میں نہیں تھا۔ اس نے میری یہ بات سنی ان سنی کر دی اور کہا پتا نہیں یا تم کیا باتیں کر رہے ہو۔ میری سمجھ میں تو آج تک وہ لوگ نہیں آئے جو قوموں کو لوٹ کر کھا جاتے ہیں اور ڈکار تک نہیں مارتے۔ میری مانو تو تم ان خالی پیٹ ڈکار مارنے والوں کو غنیمت سمجھو۔

تازہ ترین