برطانوی اسٹروک ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو فالج کے واقعات میں 42 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔
ایسوسی ایشن کے نئے جاری کردہ تخمینے کے مطابق 2035 تک ایک برس میں ایک لاکھ 51 ہزار اضافی فالج کے واقعات ہوں گے، جو روزانہ 414 کے برابر ہیں۔
فی الحال یہ تعداد روزانہ 280 ہے، جبکہ سالانہ 106,565 فالج کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔
فالج کے حملے سے بچ جانے والے افراد کی مدد کرنے والی اسٹروک ایسوسی ایشن کے مطابق، فالج کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
اس وقت روزانہ 240 افراد کی جان بچا لی جاتی ہے، تاہم انہیں دیکھنے، بولنے، حرکت کرنے یا نگلنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آبادی کی بڑھتی عمر کے باعث فالج کے واقعات میں اضافہ ہوگا، خصوصاً ایسے افراد جو طویل المدتی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، انہیں زیادہ خطرہ لاحق ہوگا اورُہائی بلڈ پریشر فالج کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
ایسوسی ایشن نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ بلڈ پریشر کو باقاعدگی سے چیک کریں اور اسے صحت مند سطح پر رکھنے کے لیے متوازن غذا استعمال کریں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق عوام سگریٹ نوشی اور ویپنگ سے گریز کریں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور الکوحل کا زیادہ استعمال نہ کریں۔
اسٹروک ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹو جولیٹ بوویری نے کہا کہ فالج کا سبب بننے والے عوامل کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ اس مرض سے متاثر ہر چار میں سے ایک فرد کا تعلق ورکنگ ایج سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئندہ دہائی میں دل کے امراض اور فالج سے ہونے والی اموات میں 25 فیصد کمی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔