’اسافوئیٹیڈا‘ (Asafoetida) جسے اردو زبان میں ہینگ کہا جاتا ہے، ایک قدرتی گوند ہے جو پودے کی جڑ سے نکلنے والے دودھ سے حاصل کی جاتی ہے، یہ صدیوں سے کھانوں میں ذائقہ بڑھانے اور روایتی طب میں استعمال ہو رہی ہے تاہم جدید سائنس اس کے تمام فوائد کی مکمل تصدیق نہیں کرتی۔
ہینگ افغانستان اور ایران میں پائی جانے والی جڑی بوٹی سے حاصل ہوتی ہے، خام حالت میں اس کی بو نہایت تیز اور ناگوار ہوتی ہے، اسی لیے اسے ’بدبودار گوند‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لیکن پکانے کے بعد اس کا ذائقہ لہسن اور پیاز جیسا خوشگوار ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہینگ میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جسم میں سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، کچھ محدود مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ یہ بدہضمی، پیٹ کے پھولنے اور گیس میں کمی کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔
آیورویدک و طب میں ہیِنگ کو ہاضمہ بہتر بنانے، سانس کے امراض اور بعض دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
جدید تحقیق میں اس کے جراثیم کُش ہونے، بلڈ پریشر کم کرنے، شوگر لیول گھٹانے اور دماغی صحت سے متعلق ممکنہ فوائد پر بھی ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں تاہم یہ تحقیق زیادہ تر جانوروں یا لیبارٹری کی سطح تک محدود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہینگ کا کھانوں میں معمولی مقدار میں استعمال عموماً محفوظ ہے لیکن اس کے زیادہ مقدار یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال سے اسہال، گیس، سر درد یا دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور بچوں کو اس کے استعمال سے گریز تجویز کیا جاتا ہے۔
بلڈ پریشر یا خون کو پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والوں کے لیے بھی ہینگ سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔
ہیِنگ عام طور پر گرم تیل میں ڈال کر استعمال کی جاتی ہے تاکہ اس کی تیز بو کم ہو جائے۔
یہ دال، سبزی، سوپ اور سالن میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
مارکیٹ میں یہ پاؤڈر اور کیپسول دونوں شکلوں میں دستیاب ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔