• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اِن دِنوں دنیا کے ہر کونے میں جنگ سے متعلق خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں۔ ان خبروں میں یہ ذکر بھی کیا جاتا ہے کہ کون سا ملک اب تک کس جنگ پر کتنی رقم برباد کرچکا ہے، کس ملک میں کتنے افراد جنگ کے نتیجے میں جان سے جاچکے ہیں، کتنے زخمی ہیں، کتنا مالی نقصان ہوچکا ہے، کون سا کس مالی نقصان پورا ہونے میں کتنے برس لگیں گے اور جنگ سے تباہ ہونے والے کس انفرا اسٹرکچر کی تعمیرِ نو میں کیسی کیسی مشکلات پیش آئیں گی اور کتنا وقت لگے گا۔

یاد رہے کہ ان نقصانات کے اثرات میں ناقابلِ تلافی جانی نقصان کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا، کیوں کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ مالی نقصانات کی وجہ سے عوام کو جو تکالیف برسوں جھیلنا پڑتی ہیں ،وہ بھی شامل نہیں ہوتیں۔

اسی طرح انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں لوگ جن مشقّتوں اور مشکلات سے گزرتے ہیں انہیں بھی یہ خبریں اپنے دامن میں پوری طرح جگہ نہیں دے پاتی ہیں۔ کیوں کہ جنگ تو نام ہی آلام و مصائب کا ہے اور کسی مسئلے کا حل ہونے کے بجائے خود بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال مشرقِ وسطی کے حالات سے مل جاتی ہے۔

مزید کروڑوں افراد جنگ کے باعث غربت کا شکار ہو جائیں گے 

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری عسکری کشیدگی کے باعث دنیا کے 162ممالک میں کروڑوں افراد کے غربت کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

تیرہ اپریل کو جاری کردہ 'یو این ڈی پی کی نئی پالیسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس کشیدگی کے اثرات زیادہ تر ان ممالک تک محدود ہیں جو بہ راہ راست اس تنازع سے متاثر ہیں یا توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، لیکن ایسے غریب ممالک بھی شدید اور دیرپا نقصان اٹھا سکتے ہیں جو جغرافیائی طور پر اس لڑائی سے دور ہیں۔

ادارے نے 'مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی:عالمی ترقی کے لیے دھچکے اور پالیسی سے متعلق امکانات، کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جب یہ بحران چھٹے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے تو اس کے اثرات ہنگامی مرحلے سے نکل کر مسلسل نوعیت کے ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ مرحلہ جس قدر طول پکڑے گا، نازک ممالک میں غربت میں تیزی سے اضافے کا خدشہ بھی اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا۔ بدترین صورت حال میں مزید 3 کروڑ 20 لاکھ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلیجی خطہ، ایشیا، ذیلی صحارا افریقا اور جزائر پر مشتمل چھوٹے ترقی پذیر ممالک اس صورت حال سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔

'یو این ڈی پی کے منتظم الیگزنڈر ڈی کرو کا کہنا ہے، یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا دھچکا صرف متاثرہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ ان ممالک پر پڑتا ہے جن کے پاس توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کو برداشت کرنے کے لیے مالی گنجائش نہیں ہے۔

اس بحران کے باعث ان ممالک کو ایسے ناممکن فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں جن میں انہیں آج قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور کل کے لیے صحت، تعلیم اور روزگار پر خرچ کرنے کے درمیان انتخاب کرناہے۔ یہ صورت حال ناقابل قبول ہے اور بروقت پالیسی اقدامات کی بہ دولت اس سے بچا جا سکتا ہے۔

'یو این ڈی پی نے مختلف ممکنہ حالات کے پیش نظر درج ذیل پالیسی اقدامات بھی تجویز کیے ہیں جن کے ذریعے ان ممالک کے اس بحران کے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

پالیسی ساز غریب اور کم زور طبقات کے تحفظ کے لیے عارضی اور مخصوص مقدار میں نقد امداد فراہم کریں جو بدترین حالات کے مقابل ابتدائی دفاعی اقدام کے طور پر کام کرے گی۔ مختلف حالات میں اس مقصد کے لیے تقریباً 6 ارب امریکی ڈالرز درکار ہو سکتے ہیں۔

بجلی یا کھانا پکانے کی گیس کا استعمال محدود کرنے کے لیے عارضی امدادی قیمتیں یا واؤچر فراہم کیے جائیں۔ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں توانائی پر دی جانے والی امدادی قیمت عام طور پر امیر طبقے کو فائدہ دیتی ہے، غریب طبقہ نظر انداز ہو جاتا ہے اور اس کی طویل مدتی طور پر فراہمی بھی ممکن نہیں ہوتی۔

غریب کے لیے دنیا کے پاس چھ ارب ڈالرز بھی نہیں، مگر جنگ کے لیے کروڑوں ڈالرز روزانہ

یاد رکھیے، کہ مذکورہ بالا چھ ارب ڈالرز ابتدائی دفاعی قدم کے طورپرہی سہولت فراہم کرسکیں گے۔ اب دوسری جانب دیکھیے تو پتا چلتا ہے کہ ایران سے جنگ میں اسرائیل کے 11 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ ہوگئے۔ بارہ اپریل کو اسرائیلی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایران سے جنگ پر سرکاری بجٹ سے تقریباً ساڑھے11ارب امریکی ڈالرزکے اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ ان میں7ارب25کروڑ ڈالر سے زائد دفاعی اخراجات ہیں، یہ ابتدائی تخمینہ ہے اور اسے پہلے ہی 2026ء کے بجٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

اُدہر ایران کے خلاف جنگ پر امریکا کے 51 ارب ڈالرز سے زائدکے اخراجات کی خبر ہے۔ خبر کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکاکوفی سیکنڈ11ہزار500ڈالرز سے زائد کے اخراجات برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔ بیس مارچ کی ایک خبر کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں چھ دنوں میں امریکی اخراجات 12.7ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ ایرانی2,500 میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی ایئر ڈیفنس سسٹمز پر5.7ارب ڈالر خرچ ہوئے۔

اخراجات ہر روز تقریباً 500 ملین ڈالر کے حساب سے بڑھ رہے ہیں ،کل رقم 18ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی۔ گارڈین کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پہلے چھ دنوں میں امرکا نے تقریباً 12.7 ارب ڈالر خرچ کیے، جن میں ٹوماہاک میزائلز، جارحانہ ہتھیار، دفاعی نظام، فوجی نقصانات اور آپریشنز کی معاونت شامل ہیں۔

مرکز برائے اسٹریٹجک اور بین الاقوامی اسٹڈیز (CSIS) کے تجزیات کے مطابق صرف ٹوماہاک میزائلز کی قیمت 3.5 ملین ڈالرز فی میزائل ہے اور پہلے چھ دنوں میں 319 میزائل استعمال کیے گئے، جس سے اخراجات 1.2 ارب ڈالر ز تک پہنچ گئے تھے۔

دفاعی اخراجات کا جائزہ

امریکا، دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے۔وہ اپنے ہر فوجی پر سالانہ 674,000 ڈالرز خرچ کرتا ہے۔ اس رقم میں فوجیوں کی تن خواہیں، تربیت، جدید اسلحہ، انٹیلی جینس نیٹ ورک، ویلفیئر سسٹمز اور بین الاقوامی آپریشنز شامل ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اتنا بھاری خرچ کرنے کے باوجود امریکا افغانستان میں بیس سال کی جنگ کے بعد اپنی شکست تسلیم کرکے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔

چین، جو دنیا کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے، اپنے ہر فوجی پر 135,000 ڈالرز سالانہ خرچ کرتا ہے۔ یہ ایک متوازن رقم ہے جس کے ذریعے چین اپنی فوج کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔

روس، جس کی افواج یوکرین میں طویل جنگ میں مصروف ہیں، ہر فوجی پر 99,000 ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یوکرین کا خرچ 108,000 ڈالر ہے۔ یوکرین چونکہ غیر روایتی جنگ میں عالمی امداد پر انحصار کرتا ہے، اس لیے یہ فرق ممکن ہے۔

بھارت جس کی معیشت ترقی پذیر ہے، مگر دفاعی خواہشات وسیع، اپنے ہر فوجی پر 57,000 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ یہ خرچ اب بھی مغربی طاقتوں سے بہت کم ہے، مگر جنوبی ایشیا میں ایک قابلِ ذکر پوزیشن کا حامل ہے۔ تاہم 2019 کے بعد لائن آف کنٹرول اور لداخ جیسے مواقع پر بھارت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔

اسرائیل جو ہمیشہ حالتِ جنگ میں رہتا ہے، اپنے فوجی پر34,000ڈالرز خرچ کرتا ہے۔ ایران جیسا نظریاتی ریاستی ماڈل25,000ڈالرز میں افواج کو سنبھالتا ہے۔ بنگلا دیش 19,000 ڈالرز فی فوجی سالانہ خرچ کرتا ہے۔ سعودی عرب ہر فوجی پر 186,000 ڈالر زخرچ کرتاہے۔ یہ خطہ اگرچہ مالی طور پر مضبوط ہے، لیکن جنگی صلاحیت کے حوالے سے اکثر بیرونی دفاعی مدد پر انحصار کرتا ہے، جس کی حالیہ مثال یمن جنگ اور ایران کے ساتھ کشیدگی ہے۔

پاکستان بہ یک وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ، مغربی سرحد پر غیر مستحکم افغانستان، مشرق میں بھارت اور جنوب میں بحری خطرات جیسے محاذوں پر دفاعی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ہم اپنے ایک فوجی پر سالانہ محض 16,000 ڈالرز خرچ کرتے ہیں جو شاید دنیا میں سب سے کم ہے۔

گندا ہے، پر دھندا ہے

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی جانب سے آٹھ دسمبر 2024کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2023ءکے دوران جاری تنازعات خصوصاً یوکرین، روس اور اسرائیل۔ حماس جنگوں کا سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی امریکی کمپنیز کو ہواتھا جنہوں نے دنیا بھر میں فروخت ہونے والا50فی صد جنگی سامان فروخت کیاتھا۔

دفاعی صنعت کے ماہرین کے خیال میں پوری دنیا میں صرف 10ممالک کی ہتھیاروں کے کاروبار پر اجارہ داری ہے جن میں امریکا سرِ فہرست ہے جبکہ باقی ممالک میں چین، روس، فرانس، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، اسرائیل، جنوبی کوریا اورا سپین شامل ہیں۔

سپری کے مطابق اِن ممالک سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کا ہتھیاروں کی عالمی منڈی پر90فی صد کنٹرول ہے۔ بین الاقوامی تحقیقی ادارے،سپری کے انکشاف کے مطابق 2023میں امریکی کمپنیوں نے317ارب ڈالرز مالیت کے ہتھیار فروخت کیے تھے۔ امریکا کے بعد اِس فہرست میں دوسرے نمبر پر چین تھا جس کی کمپنیوں نے 130 ارب ڈالرز مالیت کے ہتھیار فروخت کیے۔ اس برس ہتھیار بنانے والی دنیا کی پہلی100کمپنیوں نے 632 ارب ڈالرز کا جنگی ساز و سامان فروخت کیا تھاجو 2022ء کے مقابلے میں 4.2 فی صد زیادہ تھا۔

تاہم سب سے زیادہ منافع روس اور اسرائیل میں واقع چھوٹی کمپنیوں نے کمایا۔سپری سے منسلک عسکری اخراجات اور ہتھیاروں کی پیداوار پر گہری نظر رکھنے والے ایک محقق نے رپورٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ ہتھیاروں سے ہونے والی آمدن میں اضافہ2024 میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔

2023میں سامنے آنے والے اعداد وشمار ہتھیاروں کی بھاری عالمی مانگ کی صحیح تصویر پیش نہیں کرتے، کیوں کہ معاہدے بلیک اینڈ وائٹ میں نہیں آتے اور خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ سپری کے مطابق ہتھیار بنانے والی دنیا کی100بڑی کمپنیوں میں 41 امریکی کمپنیاں ہیں۔ اِن میں سے پانچ ایسی ہیں جو 2018ء سے ہتھیاروں کی فروخت میں سرِفہرست رہی ہیں۔

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد امریکا کے محکمہ دفاع نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں2023میں عسکری ساز و سامان کی فروخت میں اضافے کا انکشاف کیا تھا۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2023ء میں زیادہ تر عسکری ساز و سامان یورپی اور اتحادی ممالک کو فروخت کیا گیا۔

محکمہ دفاع کی اُس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہتھیاروں کی فروخت میں اضافے کا ایک سبب کئی ممالک کی طرف سے اپنی فوج کو جدید جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں سے لیس کیا جانا تھا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق جنگی ساز و سامان ماضی کے مقابلے میں بہت منہگا ہو چکا ہے جس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ایک جدید اینٹی ٹینک میزائل (جیولن) کی پاکستانی روپے میں قیمت قریباً پانچ کروڑ روپے بنتی ہے۔ امریکا میں دفاعی ہتھیاروں کی صنعت نجی شعبے کے ہاتھ میں ہے جس نے ہتھیاروں کی ایک لابی بنا رکھی ہے۔ تاہم متعلقہ ماہرین کے خیال میں یہ لابی دراصل امریکی سرکار ہی چلاتی ہے۔

دنیا میں ہتھیار بنانے والی ٹاپ 10کمپنیوں میں امریکا کی پانچ کمپنیوں کے علاوہ چین کی تین، روس اور برطانیہ کی ایک، ایک کمپنی شامل ہے۔ پہلی 100کمپنیوں کی فہرست میں یورپ کی 27کمپنیاں بھی ہیں جن کی 2023ء میں مجموعی آمدن133ارب ڈالرز ریکارڈ کی گئی تھی۔ روس، یوکرین جنگ سے جنگی سامان بنانے والی روس کی کمپنیوں کو بھی بھاری فائدہ ہوا جن کی آمدن میں 40فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا جنہوں نے25ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہتھیار فروخت کیے تھے۔

چین کے بارے میں سپری کا کہنا تھا کہ وہاں چوں کہ معیشت سست روی کا شکار ہے اِس لیے 2023 میں اِس کی ہتھیاروں سے ہونے والی آمدن میں معمولی یعنی صرف 0.7 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم چینی کمپنیوں کی 2023ء میں مجموعی آمدن 103 ارب ڈالرز بتائی گئی تھی۔ یہاں یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر چین اور روس بہت قریب آ چکے ہیں۔ روس کی دفاعی ٹیکنالوجی بہت جدید ہے۔

میزائل اور آب دوزوں کی ٹیکنالوجی جیسے کئی شعبوں میں وہ امریکا اور یورپ سے بھی آگے ہے اور اب اِسے چین کی صنعتی صلاحیت کا ساتھ بھی مل رہا ہے۔ہتھیار بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں اسرائیل کی تین کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کی غزہ جنگ کے بعد مجموعی فروخت13ارب 60 کروڑ ڈالرز رہی جوتاریخ کی سب سے بڑی فروخت تھی۔

سپری کے سینئر محقق کا رپورٹ میں کہنا تھا کہ اسلحے کی بڑھتی ہوئی فروخت کا رحجان جاری رہنے کی توقع ہے کیوں کہ غزہ میں جنگ ابھی تک بھڑکی ہوئی ہے اور توقع کی جا سکتی ہے کہ ہتھیار بنانے والی اسرائیلی کمپنیوں کو اِس برس پہلے سے بھی کہیں زیادہ جنگی سازو سامان کے آرڈر ملیں گے۔

سپری کی فہرست میں دو بھارتی کمپنیاں بھی شامل تھیں۔ تاہم پاکستان کی کوئی کمپنی اِس فہرست میں موجود نہیں تھی۔ بھارت کا شمار ہتھیار بنانے اور فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں سب سے چھوٹے ملکوں میں ہوتا ہے۔2023میں اِس کی مجموعی آمدن چھ ارب سات کروڑ ڈالرز تھی۔

سپری کی رپورٹ میں دفاعی ماہرین کی رائے کچھ یوں بیان کی گئی تھی کہ ٹکراؤ، جنگ اور دنیا کے کئی خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیاسی غیر یقینی کی فضاء کے سبب آئندہ برس بھی ہتھیاروں کی فروخت میں مزید اضافہ ہوگا۔

تاہم نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ صدارت شروع ہونے سے ہتھیاروں کی فروخت کے بازار میں چڑھاؤ کے رحجان میں تبدیلی آ سکتی ہے، کیوں کہ انتخابی مہم کے دوران وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ جنگوں پر خرچ کرنے کے حق میں نہیں۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔

مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے لگ بھگ تمام ہی خطوں میں ایسے تنازعات موجود ہیں جن کی چنگاری کسی بھی وقت آگ میں بدل سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین، افریقی ممالک ہوں یا مشرقِ وسطیٰ، دنیا کے درجنوں ممالک ایسے ہیں جو تنازعات کا شکار ہیں اور اِن میں سے بعض تو نصف صدی سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔

دنیا کا سب بڑا ادارہ اقوام متحدہ بھی اِن تنازعات کو حل کرانے میں ناکام نظر آتا ہے۔ دنیا میں آج بھی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون رائج ہے۔ دنیا پر حکومت کرنے والے چند ممالک کی دل چسپی نہ ہو تو کوئی مسئلہ حل ہو ہی نہیں سکتا۔ اسرائیل، فلسطین جنگ میں بھی سلامتی کونسل کے کردار پر انگلیاں اُٹھی ہیں کہ ویٹو کی طاقت کا استعمال جنگ بندی نہیں بلکہ اِسے جاری رکھنے کے لیے کیا گیا۔

اسلحے کی فروخت کے 2023کے اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ کون کون اس صنعت سے کتنا کمارہا ہے۔ دراصل جنگ میں کوئی بھی ملک کام یاب ہو یا ناکام اسلحہ تو دونوں اطراف سے استعمال ہوتاہے اور ہوتا رہے گا۔اِن جنگوں کا اصل فائدہ بہ راہِ راست اسلحے کی صنعت پر اجارہ داری رکھنے والے امریکاسمیت اُن دس ممالک ہی کو ہوگا۔

تاہم بھارت جیسے چند ممالک بھی اِس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیتے ہیں۔ جنگی سامان کی خرید و فروخت اکثر کم زور ممالک کو دنیا کے نقشے سے ہٹانے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اُسے چاہیے کہ وہ اِس معاملے پر غور کرے اور اقوامِ عالم قواعد و ضوابط طے کرنے پر زور دیں۔

جنگ کے بجائے امن پر خرچ

اقوامِ عالم کو سوچنا چاہیے کہ جنگ پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالرز انسانوں کی بہتری پر خرچ ہوتے تو آج زمین کیسی ہوتی؟ 1945سےستمبر2025تک انسانوں نے 89 کھرب ڈالرز سے زائد ہتھیاروں پر لگا دیے۔ اس فیصلے نے جنگیں پیدا کیں، مگر انسان کے بنیادی مسائل حل نہ کیے۔ اگر اس دولت کا نصف بھی ترقی پر لگتا تو آج کی دنیا بالکل مختلف ہوتی۔

غربت ہوتی اور نہ ہی ناخواندگی۔ سب کے لیے علاج دست یاب ہوتا اور پائے دار زمین موجود ہوتی۔ اصل المیہ صرف رقم کے زیاں کا نہیں بلکہ وہ دنیا ہے جو ہم بنا سکتے تھے، مگر نہیں بنا پائے۔ دنیا کے ہر انسان کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا اگلے 89کھرب ڈالرز بھی ہتھیاروں پر ہی خرچ ہوں گے یا انسانوں کو بہتر مستقبل دینے پر ؟

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق دنیا بھر سے انتہا درجے کی غربت ختم کرنے کے لیے سالانہ تقریباً 500 ارب ڈالرز درکار ہیں۔ 89 کھرب ڈالرز کے عسکری اخراجات سے غربت کو150بار سے بھی زیادہ ختم کیا جا سکتا تھا۔ یعنی ہر انسان کے پاس خوراک، پینے کا صاف پانی اور چھت میسر ہوتی۔

یونیسکو کے مطابق دنیا بھر کے ہر بچے کو بنیادی تعلیم دینے پر صرف 40 ارب ڈالرز سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ 89کھرب ڈالرز سے دنیا کے بچوں کو 2,000 سال تک مفت اور معیاری تعلیم دی جا سکتی تھی۔

عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ دنیا کو مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی پر لانے کے لیے 4کھرب ڈالرز سالانہ 2050 تک درکار ہیں۔ 89 کھرب ڈالرز سے ہم 20سال کا عالمی صاف توانائی منصوبہ مکمل کر سکتے تھے اور ماحولیاتی تبدیلی کی تباہی کو روک سکتے تھے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں یونیورسل ہیلتھ کئیر کے لیے صرف 300 سے 400 ارب ڈالرز سالانہ کافی ہیں۔ 89 کھرب ڈالر زسے ہم 200 سال سے زیادہ کے لیے تمام انسانوں کو علاج اور دوا فراہم کر سکتے تھے۔ یوں ملیریا، ٹی بی اور بچوں کی قابلِ علاج اموات ماضی کا قصہ بن سکتی تھیں۔

دنیا کے بااثر اور فیصلہ ساز افراد اگر چاہتے تو جنگوں پر خرچ ہونے والی رقم سے براعظموں کو جوڑنے والی تیز رفتار ریل چلاسکتے تھے، ماحول کی بحالی کے لیے کھربوں درخت اگا سکتے تھے، ہر ملک میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی نظام قائم ہوسکتا تھا، ہر انسان کے لیے صاف پینے کا پانی فراہم ہوجاتا اور اربوں لوگوں کے لیے جدید اور پائے دار شہر وجود میں آسکتے تھے۔لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بجائے، دنیا نے یہ دولت ٹینکوں، میزائلوں اور جنگی جہازوں پر لگادی۔ایسی مشینیں جو بنانے کے بجائے صرف تباہ کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔

جنگیں عموما اپنے نظریات کو تسلیم کرانے اور طاقت وروں کی طاقت تسلیم کرانے کےلیے لڑی جاتی ہیں۔ لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ خیالات ہمیشہ ہتھیاروں سے زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔

سوویت یونین ہتھیاروں کی کمی سے نہیں بلکہ اپنے نظریے کے زوال سے ٹوٹا۔ برلن کی دیوار بم باری سے نہیں بلکہ آزادی کے جذبے سے گری۔ آج سوشل میڈیا خیالات کو اس رفتار سے پھیلا رہا ہے کہ کوئی ٹینک، جنگی طیارہ ،میزائل یا ڈرون انہیں نہیں روک سکتا۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید