یورپی لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں جانوروں سے بہت محبت ہے۔ حالانکہ میرے نزدیک جانوروں سے محبت میں ہم لوگ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ہم لوگ تو گھوڑی کو بھی رانی اور شہزادی کا درجہ دے ڈالتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی کو چوان کی گفتگو سن لیجئے ، جو وہ چھانٹا ہاتھ میں پکڑے اپنی گھوڑی سے کہہ رہا ہوتا ہے ” چل میری رانی، شا باش، چل میری رانی وغیرہ‘‘۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کے باوجود وہ اگر ست روی کامظاہرہ کرے تو کو چوان اس کا حسب نسب تبدیل کر دیتا ہے۔ جانوروں کو اس سے زیادہ اور کیا مقام دیا جا سکتا ہے کہ ہم لوگ بوقت ضرورت گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں۔ باقی باتیں تو چھوڑیں ، ہم لوگوں نے تو جانوروں کو اپنی رومانوی کہانیوں میں بھی جگہ دے رکھی ہے۔ مثلاً سگ لیلی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بعض جانوروں کے ساتھ نیم مذہبی روایات بھی وابستہ ہوگئی ہیں، چنانچہ خرعیسی کے بارے میں تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔جانوروں کے ساتھ ہم لوگوں کی قلبی بلکہ’’کلبی‘‘ وابستگی کا یہ عالم ہے کہ ہم لوگ شعوری طور پر انھیں انسانوں سے افضل سمجھنے لگے ہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں اپنی محبوبہ کی حرمت بھی مد نظر نہیں رکھتے ، یعنی آنکھوں کی تعریف کرنا ہو تو بجائے یہ کہنے کےکہ تمہاری آنکھیں فلاں خاتون کی طرح خوبصورت ہیں، ہم اس بے چاری کو فوراً کسی جانور سے ملائیں گے کہ تمہاری آنکھیں ہرنی جیسی ہیں۔ اس کی چال کی تعریف کرنا ہو تو پھر کسی جانور ہی کا سہارا لینا پڑے گا کہ تمہاری چال مورنی کی طرح ہے، لا حول ولا قوۃ ! یہ ٹھیک ہے کہ ہم جانوروں سے بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم جانوروں کو خود سے برتر بھی سمجھنا شروع کردیں۔ہم لوگ جانوروں سے اس قدر مرعوب ہو چکے ہیں کہ ہر معاملے میں ان سے مماثلت تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھئی اگر کوئی بہادر ہے تو یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ شیر کی طرح بہادر ہے۔ حتی کہ ہم نے اگر کسی کی برائی بھی کرنا ہو تو بھی اس کے مد مقابل کوئی جانور لا کھڑا کرتے ہیں۔ بے وقوف کو کہہ دیں گے کہ یار تم تو نرے گدھے ہو، سادہ لوح کو گائے قرار دے ڈالیں گے، احمق کو الو کا خطاب بخش دیں گے۔ حالانکہ یورپ میں اُلو کو فلاسفر سمجھا جاتا ہے۔ ہم سب لوگ اپنی محبوب ادیبہ بشری رحمن مرحومہ کی شیریں بیانی کے بہت قائل رہےہیں بلکہ ایک زمانہ تھا کہ کچھ لوگ تو گھائل بھی تھے، چنانچہ بجائے اس کے انھیں شیریں بیان ہی کا خطاب دیتے ، ہم نے ان کیلئے ایک دفعہ پھر جانور کی تلاش شروع کی، چنانچہ انھیں ”بلبل پاکستان“ کا خطاب دیا گیا۔ اس سے پیشتر اعجاز بٹالوی مرحوم کشور ناہید کو بلبل دبستانِ ادب قرار دے چکے تھے اور یوں دیکھا جائے تو ”بلبل“ کے حقوق ملکیت اعجاز بٹالوی کے پاس تھے۔ یوں وہ رٹ دائر کر سکتے تھے اور یہ موقف بھی سامنے لا سکتے تھے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ بہر حال بات پرانی ہوگئی ہے اور لگتا ہے کہ ان دو بلبلوں نے اس علاقائی کشیدگی کا کوئی حل تلاش کر ہی لیا ہے۔
میرے خیال میں ابھی تک میرے قارئین اس امر کے خاصے قائل ہو چکے ہوں گے کہ ہم لوگ جانوروں سے ذہنی طور پر خاصے مرعوب ہیں کیونکہ اس ضمن میں، میں نے مختلف شعبوں سے متعدد مثالیں پیش کی ہیں۔ ایک مثال سیاست کے شعبے سے رہ گئی تھی حالانکہ یہ مثال مجھے سب سے پہلے دینی چاہئے تھی، کیونکہ اسی کی وجہ سے تو ہماری سیاست میں خاصے فساد برپا ہوئے ہیں۔ میرا اشارہ ”شیر پنجاب" کے ٹائٹل کی طرف ہے۔ یہ ٹائٹل ایک عرصے تک جناب غلام مصطفیٰ کھر کے پاس رہا۔ گو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کھر صاحب کو یہ ٹائٹل کون سا معرکہ سر کرنے پر ملا تھا یا انھوں نے ویسے ہی شوشا کیلئے یہ خطاب اپنے نام کے ساتھ لگا لیا تھا ، البتہ یہ بات طے ہے کہ اس شیر کو انسانوں کے ایک طبقے یعنی خواتین کے ساتھ بہت محبت رہی ہے۔ ایک زمانے میں محمد نواز شریف کو جب وہ وزیر اعلیٰ پنجاب تھے لوگوں نے شیر پاکستان کہنا شروع کر دیا تھا۔ میاں صاحب کو تو یہ خطاب جچتا بھی ہے اور شیر ان کی پارٹی کا نشان ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم لوگ سیاست میں اپنی مماثلتیں آخر جانوروں میں کیوں تلاش کرتے ہیں؟ میرے نزدیک یہ طرز عمل احساس کمتری کا نتیجہ ہے ورنہ اگر ہم کبھی تنہائی میں اپنے کارناموں کا جائزہ لیں تو یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہم لوگ جانوروں سے کسی طور بھی کم نہیں ہیں۔
آخر میں جانوروں کے اقدام کا ایک چشم دید واقعہ سنتے جائیں؛ میں اور حسن رضوی مرحوم ایک دفعہ لکھنؤگئے ، اور بہت مایوسی کے عالم میں دہلی جانے کیلئے تانگے پر بیٹھ کرریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔ مایوسی ہمیں یوں ہوئی تھی کہ لکھنؤ کا روایتی کلچر ہمیں کہیں نظر نہیں آیا تھا۔ تانگہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا، میں نے کو چوان سے کہا ” بھائی ذرا تیز چلا ئیں کوچوان نے گھوڑے کی طرف اشارہ کیا اور کہا ” حضور! در اصل انھوں نے صبح سے کچھ کھایا نہیں ۔ بس گھوڑے کیلئے اس ’’انھوں‘‘کے استعمال نے لکھنوی ثقافت سے ہماری مایوسی دور کر دی۔