کل میں نے ایک تصویر دیکھی ، ایک گھوڑا پہاڑوں میں گھری ایک سرسبز چرا گاہ میں گھاس چر رہا تھا۔ میں نے سوچا یہ کتنی ساری فکروں سے آزاد ہے۔ اس کے ذہن پر کوئی بوجھ ہی نہیںکہ ہمارے سیارے کو تباہ کرنے کیلئے کس قدر خوفناک ہتھیار اور تباہ کن بارود تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس سیارے کی فضا کو مشینوں نے اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ سانس لینا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے اوزون میں سوراخ ہو گیا ہے، موسم دن بدن شدت کی طرف جارہے ہیں۔ اسے علم ہی نہیں کہ گلیشیرز کیا تباہی مچانے والے ہیں، زلزلے اور طوفانی ہوائیں کیا منصوبے تیار کر چکی ہیں، ہماری دنیا میں پانی کی کس قدر قلت پیدا ہونے والی ہے، تہذیبوں کے ٹکراؤ نے کہاں کہاں تصادم کی صورت پیدا کر دی ہے؟ غریب اور امیر میں تفاوت بڑھتا جا رہا ہے۔ طاقتور قو میں کمز ور قوموں کو کس بری طرح ایکسپلائٹ کر رہی ہیں۔ یہ گھوڑا ان فکروں سے آزاد ہے۔ اسے گھاس چرنے کو مل رہی ہے اور یہ گھاس چرے جا رہا ہے۔
گھوڑے کو تو کچھ بھی پتہ نہیں کہ اس کے ہمسائے میں جو خاندان آباد ہے وہ اپنی زندگی کے دن کس کسمپرسی سے گزار رہا ہے۔ اسے کیا علم کہ کس کا رزق کون کھا رہا ہے، تھانوں میں کیا ہوتا ہے، کچہریوں میں کیا ہوتا ہے، بچیوں کو اغوا کر کے انھیں قحبہ خانوں میں بٹھا دیا جاتا ہے، خواہشات کی تکمیل کیلئے معزز خاندان بھی بدنام راستوں پر چلتے نظر آ رہے ہیں۔ ضمیر فروش قطار اندر قطار کھڑے ہیں اور بیوپاری ان ریوڑوں کو ہنکاتے ہوئے جدھر چاہیں لے جاتے ہیں۔ عہدے، منصب ، اقتدار کیلئے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔ دولت کے حصول کیلئے ساری انسانی قدریں پاؤں تلے روند دی جاتی ہیں۔ انسانوں کو جانوروں سے بدتر غذا سپلائی کی جاتی ہے، جعلی ادویات اور ٹیکے انسانوں کو موت کی طرف لے جا رہے ہیں۔
گھوڑے کو تو کچھ بھی پتہ نہیں، اسے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ ہمارے دینی اور دنیاوی مدارس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے اور اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں۔ اسے کیا پتہ ہم کس قدر گھٹن کی فضا میں زندہ ہیں ۔ ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ کہہ نہیں سکتے بلکہ ہم جو سوچنا چاہتے ہیں اسکے گرد بھی حصار باندھ دیا جاتا ہے۔ کتنے ہی معاشرتی اور مذہبی موضوعات ایسے ہیں جن کے نور سے خدا کی حکومت قائم کر کے امن اور فلاح کی راہ پائی جاسکتی ہے مگر خدائی ٹھیکیداروں نے ہماری زبانوں پر تالے لگائے ہوئے ہیں اور ہمارے دماغوں کو شکنجوں میں کسا ہوا ہے۔ ہمیں اگر آزادی ہے تو صرف سیاسی آزادی ہے۔ آزادی اظہار بلکہ آزادی گالم گلوچ صرف سیاست کے حوالے سے ہے۔ ہمیں جھوٹ اور بہتان تراشی ، کردار کشی کی آزادی ہے، ہم اور ہمارا میڈیا ملزموں کو مجرموں کے طور پر پیش کرتا ہے اور ان کے بے گناہ ثابت ہونے تک انھیں دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑتا۔ مگر گھوڑے کا ان باتوں سے کیا لینا دینا۔ وہ تو گھوڑا ہے، اسے گھاس چرنے کو مل رہی ہے اور وہ گھاس چرے جا رہا ہے۔
گھوڑے کو تو کچھ بھی پتہ نہیں۔ اسے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ محبت کیا ہوتی ہے، وصال کیا ہوتا ہے، فراق کیا ہوتا ہے ، شب غم کیا ہوتی ہے، صبح نشاط کیا ہوتی ہے۔ اسے کیا پتہ انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی ہیں کہ مختصر ہوتی ہیں۔ اس نے کون سا میرؔ کو پڑھا ہے، وہ کب ان راحتوں اور اذیتوں سے گزرا ہے، اسے کیا علم وفا کیا ہوتی ہے، بے وفائی کیا ہوتی ہے، اخلاص کیا ہوتا ہے، چالا کی اور عیاری کیا ہوتی ہے؟ وہ تو گھوڑا ہے۔ وہ تو ان جھمیلوں میں پڑتا ہی نہیں ، عاشقی پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ وہ تو بس کام سے کام رکھتا ہے اور سکھی رہتا ہے۔ اسے فنون لطیفہ سے بھی کوئی شغف نہیں ہے جو حیوان کو بھی انسان بنا سکتا ہے۔ پہاڑوں میں گھری ہوئی سبز چرا گاہ میں ہری بھری گھاس چرنے والے اس گھوڑے کو کیا علم کہ تانگوں میں جتے ہوئے اس کے بھائی بندوں پر کیا گزرتی ہے۔ اسے کیا پتہ کہ بندہ مزدور کے اوقات کتنے تلخ ہوتے ہیں ۔ مظلوم کوچوان کو ان کے حوالے سے ظالم کیوں بننا پڑتا ہے اور تانگے میں جتے رہنے کے قابل نہ ہونے پر گھوڑے کو گولی کیوں مار دی جاتی ہے؟ اسے کیا پتہ ، وہ تو ان آلام سے آزاد ہے۔ وہ تو خوبصورت وادی میں گھاس چرنے والا گھوڑا ہے۔
میں نے یہ سب باتیں اپنے دوست کو سنا ئیں تو وہ سن کر ہنسا اور بولا معاف کرنا تم خود بھی پاکستان کے طبقاتی معاشرے کی سرسبز خوبصورت وادی میں بے فکری سے ہری بھری گھاس چرنے والے ایک گھوڑے ہو، مگر آج تمہاری سوچ سے پتہ چلا کہ تم تو گھوڑے بھی نہیں بلکہ ایک بے وقوف گدھے ہو۔ ایسی سوچوں سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ایک گدھا ہی مار سکتا ہے۔ آرام سے ہری بھری گھاس چرتے رہو، بے کار قسم کی سوچوں کا پنگا لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔