جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والی تامل، تیلگو، ملیالم فلموں کی اداکارہ ایشوریا راجیش نے کہا کہ ان کے کیریئر کے شروع میں ان کے ساتھ ایک ہراساں کیے جانے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فوٹو گرافر نے ان سے فوٹو شوٹ کےلیے بےہودہ مغربی لباس پہننے کا مطالبہ کیا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں تامل ناڈو کے صدر مقام چنئی سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ اداکارہ نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں پیش آنے والے اس واقعے کا انکشاف کیا اور بتایا کہ فوٹوگرافر نے ان سے نامناسب مطالبات کیے۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران ایشوریا جو ہندی فلموں میں بھی کام کرچکی ہیں، بتایا کہ اس سے انکے محسوسات کو کافی دھچکا لگا۔ انکا کہنا تھا کہ وہ کافی نوجوان تھیں اور اپنے بھائی کے ساتھ گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ فوٹوگرافر نے میرے بھائی کو باہر بیٹھنے کو کہا اور مجھے اندر لے گیا۔ اس کے بعد اس نے مجھے ایک بےہودہ مغربی طرز کا لباس دیا اور کہا کہ میں تمھیں اس میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ اس عمر میں مجھے فلمی صنعت کے کام کرنے کے طریقے کا علم نہیں تھا، بس میں تقریباً ہمت ہارنے ہی والی تھیں، مگر اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اپنی تمام قوت کو یکجا کرکے فوٹوگرافر سے کہا کہ انہیں اپنے بھائی سے اجازت لینی ہوگی اور یوں وہ وہاں سے بچ نکلی۔
ایشوریا نے کہا کہ میں سوچتی ہوں کہ اس نے کتنی لڑکیوں کو ایسا کرنے پر مجبور کیا ہوگا، میں نے یہ بات کبھی اپنے بھائی کو نہیں بتائی۔