نامور ماہرِ نفسیات پروفیسر ملک حسین مبشر نے ایک بار یہ کہا تھا: جو لوگ دولت کی محبت میں حد سے گزر جاتے ہیں ، وہ بھی نفسیاتی مریض ہیں ۔انہیں علاج کی ضرورت ہے۔ 2017ء میں ڈاکٹر عاصم حسین گرفتار ہوئے تو عدالت میں فرمایا: میرا وزن تیزی سے گررہا ہے ۔ مجھے میرے ماہرِ نفسیات تک رسائی دی جائے ۔ ایک سیاستدان نے عدالت سے کہا تھا: میں ذہنی انحطاط (Dementia)کا مریض ہوں ،چنانچہ میری جان بخشی کی جائے۔ حکمران اشرافیہ ہر وقت خوف میں مبتلا رہتی ہے ۔ کہیں انہیں دولت و اقتدارسے محروم نہ کر دیا جائے۔
اس دنیا میں یہ عین ممکن ہے کہ بادشاہ خوفزدہ ہو اور قیدی خوف سے آزاد۔ یوسف علیہ السلام کے بارے میں جیوری اسی نتیجے پر پہنچی تھی کہ وہ بے گناہ ہیں مگر دوسرا فریق چونکہ بارسوخ تھا ؛چنانچہ انہیں قید کرنے پہ اتفاق ہوا۔
لوگ یہ نہیں جانتے کہ انسان جب ناجائز دولت اکٹھی کرتا ہے یا کوئی گناہ یا جرم کرتا ہے تو شیطان کو اسکے دماغ میں اتنا ہی خوف پیدا کرنے کا اختیار دے دیا جاتا ہے ۔ قرآن میں لکھا ہے :بے شک یہ شیطان ہے جو اپنے دوستوں کو خوف میں مبتلا کرتا ہے ۔ آلِ عمران 175۔دوستوں کا جو یہ حال کرتاہے ، دشمنوں کے ساتھ وہ کیا کرتا ہوگا ۔آدمؑ کوجنت سے نکلوانے آیا تو ان کے روبرو خدا کی قسم اٹھا کے کہنے لگا ، میں تمہارا خیر خوا ہ ہوں ۔
اچھے مناصب پہ براجمان اعلیٰ تعلیم یافتہ بعض لوگ بھی اچانک خودکشی کیوں کر لیتے ہیں ۔ خوف ، پچھتاوے اور احساسِ جرم کا سمندر اندر ہی اندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے ۔ شیطان انسان کو یہ یقین دلادیتا ہے کہ اپنے گناہوں کے سبب تم انسانیت کے درجے سے گر چکے ۔ تمہاری بخشش اب ممکن نہیں ،لہٰذا خودکشی کر لو۔ وہی سفید جھوٹ بولنے کی عادت۔ توبہ ہمیشہ ممکن ہوتی ہے ۔ بعض اوقات انسان اتنی دشمنیاں پیدا کر چکا ہوتا ہے کہ واپسی کا راستہ بند ہوتا ہے ۔واپسی کا راستہ تو عقل ہی کھول سکتی ہے ، جنون اور جذبات نہیں ۔ لندن براجمان الطاف حسین کی حالت ان کی گفتگو سے ہی ظاہر ہو جاتی ہے ۔
خوف جسمانی اور ذہنی صحت پہ بری طرح اثر انداز ہوتاہے ۔ ہمہ وقت اس کی توجہ دشمن پہ مرکوز ہوتی ہے ۔ وہ خوف سے نکل نہیں سکتا اور خوف سے نکلے بغیر زندگی سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا ۔ایک ٹرانسپورٹر نے ایک بار کہا تھا: باتھ روم جاتا تو بھی دشمن کے خوف سے کانپ رہا ہوتا ۔ آخر سب کچھ چھوڑا اور مرغیاں بیچنے لگا۔ خدا جب اپنے عظیم انعام کا ذکر کرتاہے تو کہتا ہے کہ تم بھوکے تھے، میں نے تمہیں خوراک دی ، تم خوفزدہ تھے، میں نے تمہیںامن دیا۔
دوسری طرف ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں ،جن کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا۔ وہ درندوں کی طرح ہوتے ہیں ، بشار الاسد ،پیوٹن اور ٹرمپ کی طرح ۔ ٹرمپ نے کہا تھا: ایوانکا میری بیٹی نہ ہوتی تو میں اسے ڈیٹ کرتا ۔ یہی امریکی صدر اب بے پناہ خوف کا شکار ہے ۔ امریکی سیاسی و عسکری اشرافیہ بخوبی جانتی ہے کہ یونی پولر امریکی راج تمام ہونے کو ہے ۔ برکس سمیت اتحادی اور دشمن اگر ڈالرسے نجات کا فیصلہ کر لیں تو یہ تابوت میں آخری کیل ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کبھی کینیڈا کو چین سے معاہدے پہ دھمکاتا ہے ۔ کبھی وہ وینزویلا کے صدر کو اغواکرتا اور گرین لینڈ پہ رال ٹپکاتا ہے ۔ کیا یہ بات عجیب نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارت کی سبکی کو بار بار دہراتا چلا جاتا ہے ۔ اس بات میں بہرحال کوئی شک نہیں کہ سپرپاور برطانیہ اور جرمنی کی طرح عالمی طاقت امریکہ بھی اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ۔
بدحواس ڈونلڈ ٹرمپ کبھی اقوام متحدہ کے مقابل پیس بورڈ بناتا ہے جواس کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ڈوب جائے گا۔ امریکی معیشت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ 31ہزار ارب ڈالر کی دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے مالک بھی ہوں، تب بھی دیوالیہ ہو سکتے ہیں ، اگر پاؤں چادر کے اندر نہ ہوں ۔ڈوبتی ہوئی عالمی طاقت کا صدر کھلم کھلا بدمعاشی سے معاملات کنٹرول کرنا چاہتا ہے ۔ اسے یہ یاد ہی نہیں کہ وہ 80 برس کا ہو چکا۔تقاریب میں سو جاتا ہے ۔ ایک ٹائم بم اس کےاپنے جسم کے اندر نصب ہے ، جس کی گھڑی مسلسل ٹک ٹک کرتی چلی جا رہی ہے ۔ ہمارا دیوالیہ پن دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر ہے ۔سیاسی عدم استحکام اتنا شدید ہے کہ سب سے مقبول سیاسی لیڈر جیل میں پڑا ہے ۔
صرف ٹرمپ کی بات نہیں ، دنیا کے اکثر لوگ خوف کا شکار ہیں ۔ اگر میری ملازمت چلی گئی تو ؟اگر میرا باس ناراض ہو گیا تو ؟ پاکستان میں یہ جو کنیزیں اور غلام اپنے آقاؤں کے گن گاتے پھرتے ہیں ، کیایہ خوف سے آزاد ہیں ۔ایک سیاسی تقریب میں دیکھا ، چھوٹے بڑے لوگ بھکاریوں کی طرح ایک دوسرے کو تاڑتے پھر رہے تھے کہ کس سے کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتاہے ۔ باہر جو شخص چنے بیچ رہا تھا، وہ ان سے کہیں آزاد تھا ۔
قرآن میں البتہ ایک اور قسم کے لوگوں کا ذکر بھی ہے ۔وہ جنہیں جب بتایا جاتا ہے کہ لوگ تمہارے خلاف اکٹھے ہو چکے تو خوفزدہ ہونے کی بجائے ان کا اطمینان بڑھ جاتا ہے ۔ اسکی معراج کربلا ہے ۔نیزوں کے سائے میں امام عالی مقام ؓ کا گروہ خوف اور غم سے آزاد تھا۔ آج غزہ کے مقتل میں کھڑی حماس ان کی یاد دلاتی ہے ۔ بدحواس ٹرمپ کو یہ بھی یاد نہیں کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر کا ایک رکھ رکھاؤ ہوتا ہے ۔وہ کشکول لے کر نوبل انعام نہیں مانگتا پھرتا۔دنیا کو اپنی مینو فیکچرنگ کے پھندے میں جکڑ لینے والے چینی کتنے وقار سے بروئے کار ہیں ۔
خوف سے چھٹکارا حاصل نہ کیا جائے تو انسان ایک ایسی ذہنی حالت تک پہنچ جاتا ہے ، جہاں وہ ہاتھ دھوتے دھوتے اپنی جلد پھاڑ لیتا ہے لیکن اسے اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔وہ Obsessionکا شکار ہو جاتا ہے ۔مشہور ہالی ووڈ اسٹار رونالڈو ڈی کیپریو ایک کام بار بار کرتے رہتے ہیں کیونکہ دماغ میں خوف اور وہم بروئے کار ہوتے ہیں ۔
خوف کی اس جنگ میں انسان ہار جائے تو وہ خود کو سنبھالنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ ہمیں اس اسٹیج تک پہنچنا ہے یا عقل کا راستہ اختیار کرنا ہے ؟