نئی دہلی/کراچی(اے ایف پی، رفیق مانگٹ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا جنگی جنون ، جنگی بجٹ میں 15فیصد اضافہ کرکے ( 85 ارب ڈالر)23ہزار 800ارب روپے مختص کردیا ، انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بجٹ میں اضافے سے بھارتی افواج کو لڑاکا طیاروں، ڈرونز، بحری جہازوں، آبدوزوں اور دیگر اہم ہارڈویئر سے لیس کرنے میں مدد ملے گی،بھارتی وزیر خزانہ نے اتوار کے روز اپنی قومی بجٹ تقریر میں کہا کہ بھارت انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) اور دفاع پر ریکارڈ رقم خرچ کرے گا، جس میں تیز رفتار ریل، آبدوزوں اور لڑاکا طیاروں کے منصوبے شامل ہیں۔نئی دہلی انفراسٹرکچر پر 133) ارب ڈالر) 37ہزار 507ارب روپےاور دفاع پر( 85ارب ڈالر)23ہزار 800ارب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو کہ گزشتہ سال کے بجٹ کے مقابلے میں بالترتیب تقریباً 9 اور 15 فیصد اضافہ ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت (AI) اور نایاب زمینی دھاتوں کی کان کنی اور پروسیسنگ کو بھی حکومتی تعاون حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر پر عوامی اخراجات 2014-15میں تقریباً 21) ارب ڈالر)5ہزار 922روپے سے ڈرامائی طور پر بڑھے ہیں اور اب یہ "تاریخ کی بلند ترین سطح" پر ہیں۔جنگی اخراجات میں یہ اضافہ گزشتہ مئی میں روایتی حریف پاکستان کے ساتھ چار روزہ تنازع کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور دونوں اطراف سے ڈرونز کے وسیع استعمال کے ساتھ ساتھ شدید میزائل اور آرٹلری (توپ خانے) کی گولہ باری دیکھی گئی تھی۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ان اخراجات کو "بے مثال" قرار دیا اور کہا کہ اس سے بھارتی مسلح افواج کو لڑاکا طیاروں، ڈرونز، بحری جہازوں، آبدوزوں اور دیگر اہم ہارڈویئر سے لیس کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا، "یہ قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔"بھارتی فوج کی تنخواہیں اور پنشن مل کر 2025-26 میں دفاعی اخراجات کا تقریباً نصف بنتی ہیں۔گزشتہ ماہ بھارت نے 114 فرانسیسی رافیل لڑاکا طیارے خریدنے اور مشترکہ پیداوار کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔نئی دہلی اور جرمنی کم از کم 8 ارب ڈالر مالیت کے سب میرین پیداوار کے معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جو بھارت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ ہو گا۔حالیہ پاک بھارت جھڑپ کے بعد پاکستان نے دفاعی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ کیا۔