کراچی (نیوز ڈیسک) ایک ایسے وقت میں جب روس مہینوں میں پہلی بار یوکرین کے ساتھ براہِ راست امن مذاکرات کر رہا ہے، کریملن کے لیے جنگ کا سب سے طاقتور ایندھن یعنی ’’تیل کی آمدنی‘‘ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ روس کی سب سے بڑی برآمد یعنی روسی تیل کی قیمت، عالمی سطح پر رسد (سپلائی) میں اضافے اور جنگ کی وجہ سے عائد مغربی پابندیوں کے بوجھ تلے دب کر کم ہو گئی ہے ۔ روسی وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ سال روس کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں تقریباً ایک چوتھائی (25فیصد) کمی واقع ہوئی ہے۔ کریملن اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے اور خسارے کے بجٹ کا سہارا لے رہا ہے۔