• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا و برطانیہ کا اہم معدنیات و نایاب زمینی دھاتوں پر اسٹریٹجک اتحاد

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، آسٹریلیا، جاپان اور دیگر ممالک نے اہم معدنیات اور نایاب زمینی دھاتوں کی سپلائی سے متعلق ایک اسٹریٹجک اتحاد پر بات چیت شروع کر دی ہے۔

 اس مقصد کے لیے واشنگٹن میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جی سیون کے رکن ممالک سمیت تقریباً 20 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں چین پر نایاب زمینی دھاتوں سے متعلق بڑھتے ہوئے انحصار، سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے عدم استحکام پر تفصیلی غور کیا گیا۔

 شریک ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ اہم معدنیات جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، قابلِ تجدید توانائی اور صنعتی پیداوار کے لیے نہایت ضروری ہیں، اس لیے ان کی محفوظ اور متبادل سپلائی چین قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں امریکا سے اہم معدنیات کی کم از کم قیمت کی ضمانت دینے پر بھی بات چیت کی گئی، تاہم اس سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

 آسٹریلیا نے واضح کیا ہے کہ وہ چین کی جانب سے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیشِ نظر معدنیات کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کر رہا ہے، جبکہ دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

یورپی یونین اور برطانیہ کے نمائندوں نے کہا ہے کہ معاشی سلامتی اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور اہم معدنیات کی متنوع سپلائی چین عالمی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شریک ممالک چین پر انحصار کم کرنے اور باہمی تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید