بھارتی ریاست اتر پردیش سے ایک حیران کُن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں مومو فروش نے ساتویں جماعت کے ایک طالب علم کو مفت موموز کھلانے کا لالچ دے کر اس سے 85 لاکھ روپے مالیت کے زیورات ہتھیا لیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بچے کے اہلِ خانہ، وارانسی کے رہائشی اور مندر کے پجاری وِملیش مشرا نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کو مومو بے حد پسند ہیں، اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مومو کا ٹھیلا لگانے والے 3 افراد نے بچے کو پہلے مفت مومو دیے اور بعد میں اسے گھر سے زیورات لانے کا کہا۔
مومو فروشوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بچے سے کہا کہ اگر وہ گھر سے زیورات لائے گا تو اسے مفت موموز ملتے رہیں گے اور آہستہ آہستہ بچہ گھر کی الماری سے زیورات نکال کر ان افراد کے حوالے کرتا رہا۔
شکایت کنندہ وملیش مشرا کے مطابق معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب بچے کی پھپھو نے اپنے زیورات مانگے، الماری کھولنے پر تمام زیورات غائب پائے گئے، پوچھ گچھ پر بچے نے بتایا کہ اس نے گم ہونے والے سارے زیورات مومو فروشوں کو دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق زیورات کی مالیت تقریباً 85 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے، وِملیش مشرا نے پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کروائی ہے اور تینوں ملزمان کے نام بھی بتائے ہیں۔