• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تمباکو نوشی سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے: تحقیق

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمباکو نوشی سے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مین ہائیم میں سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (سی آئی ایم ایچ) کی جانب سے کی گئی تحقیق کے دوران جرمن نیشنل کوہورٹ کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ روزانہ سگریٹ پیتے ہیں ان کے ڈپریشن کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن اگر وہ لوگ تمباکو نوشی سے گریز کرنا شروع کر دیں تو ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ دوبارہ کم ہوجاتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے تمباکو نوشی کو پہلے ہی دنیا بھر میں قبل از وقت ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ تسلیم کر لیا ہے کیونکہ یہ ہر سال تقریباََ 8 ملین سے زائد اموات کی ذمے دار ہے۔

اگرچہ اب تک کئی سائنسی تحقیقات کے نتائج میں تمباکو نوشی کی وجہ سے انسان کے دماغی صحت کے مسائل میں مبتلا ہونے کے امکانات سامنے آئے ہیں لیکن اس کے پیچھے موجود حیاتیاتی اور سماجی طریقہ کار ابھی تک واضح نہیں ہوا۔

حالیہ تحقیق میں محققین نے روزانہ تمباکو نوشی کرنے کے ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کے ساتھ ساتھ اسے چھوڑنے کے بعد ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اس تحقیق میں تقریباً 1 لاکھ 74 ہزار شرکاء شامل تھے جن کی عمریں 19 اور 72 کے درمیان تھیں اور آدھی تعداد خواتین کی تھی۔

محققین نے تمام شرکاء کو 3 کیٹیگریز میں تقسیم کیا، پہلی کیٹیگری میں وہ افراد تھے جنہوں نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی، دوسری کیٹیگری میں وہ افراد تھے جو تمباکو نوشی چھوڑ چکے تھے اور تیسری کیٹیگری میں وہ افراد تھے مسلسل تمباکو نوشی کے عادی تھے۔

محققین نے ان تمام  شرکاء سے ڈپریشن کی موجودہ علامات کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی  کی عادت کے بارے میں بھی پوچھا۔

تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی ان کے ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان  سب سے کم تھا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق سگریٹ نوشی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق عمر کے حساب سے بھی مختلف ہو سکتا ہے۔

صحت سے مزید