• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’جناح ینگ رائٹرز ایوارڈ‘ مضمون نویسی مقابلے کے آٹھویں ایڈیشن کی انعامی تقسیم کی تقریب آج ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہوئی۔ 

اس پروقار تقریب میں ترکیہ کی نائب وزیر برائے قومی تعلیم محترمہ جلیلہ ایرن اوکتن اور ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب جناح ینگ رائٹرز ایوارڈ، پاکستان کے سفارت خانے کی عوامی سفارتکاری (پبلک ڈپلومیسی) کی سرگرمیوں کا ایک اہم اور نمایاں جزو ہے۔ یہ مقابلہ ہر سال ترکیہ کے سینئر ہائی اسکول کے طلبہ و طالبات کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ آٹھویں ایڈیشن کے لیے منتخب کیا گیا موضوع تھا: 

'خاندان بطور ذریعۂ طاقت: پاکستانی اور ترک معاشروں میں اس کے کردار کا جائزہ'

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کی نائب وزیر برائے قومی تعلیم محترمہ جلیلہ ایرن اوکتن نے کہا کہ ترکیہ میں 2025 کو باضابطہ طور پر ’’سالِ خاندان‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاندان کا ادارہ پاکستان اور ترکیہ دونوں معاشروں میں سماجی ہم آہنگی اور استحکام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مضمون نویسی مقابلے کا موضوع ترکیہ کے صدر عزت مآب رجب طیب ایردوان کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد خاندان کے ادارے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

محترمہ اوکتن نے مزید کہا کہ جناح ینگ رائٹرز ایوارڈ جیسے تعلیمی و فکری اقدامات طلبہ کو مشترکہ سماجی اقدار پر غور و فکر کا ایک بامعنی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں اور پاکستان و ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانی اقدار پاکستانی اور ترک معاشروں کی اخلاقی اور ثقافتی بنیاد تشکیل دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے مقابلے کا موضوع طلبہ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ خاندان کے کردار کو ایک مضبوط، متوازن اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل کے تناظر میں گہرائی سے سمجھ سکیں۔

ڈاکٹر یوسف جنید نے مزید کہا کہ جناح ینگ رائٹرز ایوارڈ نوجوان نسل کو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی گہرائی اور اہمیت سے روشناس کرانے میں مسلسل ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کا سفارت خانہ آئندہ برسوں میں اس مقابلے کو مزید وسیع دائرۂ شمولیت کے ساتھ منعقد کرتا رہے گا۔

مقابلے میں انقرہ کے اوزل مرادیہ نینےحاتون گرلز اناطولین ہائی اسکول کی طالبہ یا عمور ذوالفقار نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ توکات کے 15 جولائی شہید ایردم دیکر اناطولین امام خطیب ہائی اسکول سے تعلق رکھنے والی طالبہ ایچ۔ ابرار کسیجی دوسری پوزیشن کی حقدار ٹھہریں، جبکہ زونگولداک کے زبیدہ حانم گرلز ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل انا طولین ہائی اسکول کی طالبہ خیرالنساء کسکین نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

مزید برآں، قونیا کے بوزکِر انا طولین ہائی اسکول کے مصطفیٰ یالچین قایا، سیواس کے اوزل سیواس ویسٹرین انا طولین ہائی اسکول کی زینب اکرین اینیشتے اور بالیکسیر کے سرّی یرجالی انا طولین ہائی اسکول کے علی یوسف صباح کو ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں اعزازی اسنادسے نوازا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید