اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںکیے گئے فیصلے کے مطابق ہر سال یکم فروری تا 7فروری پہلے ہفتے کو بین المذاہب ہم آہنگی کے عالمی ایام کے طور پر منایا جاتا ہے تو سوچا کیوں نہ اس موقع پر11اگست1947ء کو قائداعظم کے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے خطاب کی یاد تازہ کی جائے۔محمد علی جناح نے ریاست پاکستان کی پالیسی واضح کرتے ہوئے اپنی اس شہرہ آفاق تقریر میں کہا:’’ آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کیلئے، آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانےکیلئے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانےکیلئے، آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ــ‘‘لیکن یہ تقریر بعض تنگ ذہن افراد کو ہضم نہ ہوئی اوراسے متنازع بنادیا گیا ۔اب تو یہ اصرار بھی کیا جاتا ہے کہ قائداعظم کی تقریر سنسر کرنے کا الزام درست نہیں ۔
میں اس مناسبت سے قائداعظم کی دو قریبی رقفاء کی رائے آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ سید محمد ذوالقرنین زیدی جنکا تعلق سہارن پور سے تھا،وہ پہلے نوابشاہ سمیت سندھ کے متعدد علاقوں اور پھر اسلام آباد میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔انہوں نے قائداعظم کے قریبی ساتھیوں کے انٹرویوزکیے تاکہ فرمودات قائد کی تفہیم ممکن ہو ۔1990ء میں 13شخصیات کی گفتگو پر مبنی کتابـ’’قائداعظم کے رفقا ء سے ملاقاتیں‘‘قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت نے شائع کی ۔اس کتاب میں صفحہ نمبر69پر تحریک پاکستان کے دیرینہ کارکن اور قائداعظم کے قریبی ساتھی چوہدری نذیر احمد کا انٹرویو شامل کیا گیا ہے۔چوہدری نذیر احمد جنکا تعلق منٹگمری (ساہیوال)سے تھا ،وہ پنجاب مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے ممبر تھے بلکہ منٹگمری سے دستور ساز اسمبلی کے رُکن بھی تھے۔انہوں نے نواب لیاقت علی خان کی کابینہ میں بطور وفاقی وزیر صنعت خدمات سرانجام دیں۔25جنوری 1975ء کو گلبرگ ،لاہور میں انکی رہائشگاہ پر جو گفتگو ہوئی ،اسے ذوالقرنین زیدی نے کچھ یوں نقل کیا ہے:’’اس وقت بعض لوگ کہنے لگے تھے کہ قائداعظم نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہندو اپنے مندروں میں جائیں، مسلمان اپنی مسجدوں میں اور عیسائی اپنے گرجوں میں وغیرہ۔ تو کیا یہ بات اسلامی نظریہ کے مطابق ہے؟قائداعظم کی رائے کی مخالفت کرنا تو قریب قریب گناہ کے مترادف تھا لیکن اتنا مجھے یاد ہے کہ ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر یہ باتیں کرتے تھے کہ قائداعظم سے اس بارے میں بات کریں گے کہ ان کا صحیح مطلب کیا ہے۔ کوئی کہتا تھا کہ قائداعظم نے اسلامی ریاست کے تصور کو ترک کر دیا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، قائداعظم نے اسلامی ریاست کے تصور کو ترک تو نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہوں نے اُس رنگ میں پیش کیا جس میں اقبال نے پیش کیا تھا۔ ابھی تو مسلمانوں کے وطن کے سلسلے میں سارا نقشہ ذہن میں نہیں اترا تھا کیونکہ اس وقت گھمبیر مسائل پاکستان کو درپیش تھے۔ جسکا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے اور پھر مسلمانوں کا اتنا قتل عام ہو رہا تھا جسکا قائداعظم کے دل اور دماغ پر بڑا اثر تھا۔ تو میرے خیال میں بھی اسلامی ریاست کا نقشہ انکے ذہن میں ابھرا نہیں تھا یا ان کو موقع نہیں ملا تھا کہ اسکو واضح کریں‘‘
اسی کتاب میںچوہدری نذیر احمد کے بعد ایم اے اصفہانی کی گفتگو ہے اور پھر محمد ایوب کھوڑو کا انٹرویو جو ایم اے کھوڑو بھی کہلایا کرتے تھے۔آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رُکن ایم اے کھوڑو جو تین مرتبہ سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے اور وزیراعظم فیروز خان نون کی کابینہ میں وزیر دفاع رہے ،ان سے ہونے والی تین ملاقاتوں کا احوال بیا ن کرتے ہوئے ذوالقرنین زیدی قائداعظم کی تقریر سے متعلق ایم اے کھوڑو کی رائے کچھ یوں بیان کرتے ہیں:’’جناح صاحب کی وہ تقریر بہت اچھی تھی، انکی یہ خواہش نہیں تھی کہ اقلیتیں پاکستان کو چھوڑ کر چلی جائیں۔ ہندوستان میں ہمارے چار کروڑ مسلمان رہ گئے تھے۔ وہ اس ریاست کو مذہبی ریاست کا رنگ دینا نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی یہ کوئی مذہبی ریاست تھی اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جناح صاحب اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے وہ اُلو کے پٹھے ہیں۔ جو لوگ جناح صاحب کو ولی اللہ بنا رہے ہیں، وہ غلط ہیں۔ وہ کوئی ولی اللہ نہیں تھے۔ وہ ایک سیاست دان اور مدبر تھے۔ وہ بدلے ہوے حالات میں مسلم لیگ کا کردار بھی بدلنے کا ارادہ رکھتے تھے۔‘‘
میرا خیال ہے کہ قائد کے قریبی رفقا ء کی گواہی سامنے آنے کے بعد یہ بتانے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ الو کون ہے اور الو کا پٹھا کون۔اقلیتوں سے متعلق پیپلز پارٹی کی مجموعی پالیسی تو بہت واضح رہی ہے البتہ سندھ میں ہندو کمیونٹی خوف کے سائے میں جیتی رہی ہے۔مثال کے طور پرہندو لڑکیوں کی رضا کے بغیر مسلمان لڑکوں سے شادیاں اور کاروباری لین دین کے معاملات پر ہندو کاروباری حضرات پر دھونس دھاندلی کے بے جا استعمال پر ہندو کمیونٹی نہ صرف مایوس ہے بلکہ اِس سے ان میں پاکستان سے ہجرت کرکے بھارت جانے کی سوچ بھی پنپ سکتی ہے ۔اُمید ہے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس سنگین اور حساس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے گھوٹکی کی ہندو کمیونٹی کی دلجوئی اور تسلی و تشفی کا اہتمام کریں گے تاکہ قائداعظم کے فرمودات کے مطابق اقلیتیں خود کو محفوظ تصور کریں ۔