پروفیسر خالد اقبال جیلانی
جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے اور ریاست ِمدینہ کی تاسیس فرمائی تو آپ ﷺ کا پہلا سرکاری اقدام ریاستِ مدینہ کے مرکزی ادارے ہیڈکوارٹر کے لئے مسجد نبوی کی تعمیر تھا، کیونکہ مسجد ہی مسلمانوں کی عبادت گاہ بھی ہوتی ہے اور تعلیمی و تربیتی، اصلاحی و فلاحی ، معاشرتی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز اور دینی ادارہ بھی۔
مسجد نبوی کی تعمیر دراصل اسلامی معاشرے کی تشکیل کی پہلی اینٹ تھی، یہیں سے بلند پایہ اسلامی معاشرہ وجود میں آیا اور مسجد کے محراب و منبر سے اعلیٰ انسانی اخلا ق اور بلند کردار کی شمعیں روشن ہوئیں۔
اسلام کے نزدیک مسجد صرف جائے نماز یا عبادت گاہ ہی نہیں، بلکہ اسلامی ریاست کا ایک ہمہ جہت ادارہ اور مختلف شعبہ جات پر مشتمل ایک سیکریٹریٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس ادارے کا اہم ترین محکمہ یا شعبۂ محراب و منبر ہیں۔ مسجد نبویﷺ کے قیام سے آج تک ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخی تسلسل کے زیر اثر مسلم معاشرے میں ’’محراب ومنبر‘‘ صرف مسجد کی عمارت کے اینٹ پتھر کے بنے ہوئے حصے نہیں، بلکہ مسلمانوں کی فکری رہنمائی ، اخلاقی و عملی اصلاح اور تعلیم و تربیت کے مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں، جو قرآنی احکامات اور اسلامی تعلیمات کے معاشرے میں نفاذ کا فریضہ انجام دیتے ہیں، تاکہ معاشرے میں اسلامی اقدار کو فروغ حاصل ہو۔
محراب و منبر مسجد کے بنیادی اجزاء ہیں جو اُمّتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفا ق کی لڑی میں پِرو کر رکھنے اور افراد ِ معاشرہ کی فکری بیداری اور روحانی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہونے کے ساتھ معاشرتی و اخلاقی اصلاح کا آلہ بھی ہیں کیونکہ نماز اور اس سے وابستہ ہر شے اورفرد اس قرآنی قانون کا مصداق ہیں کہ ’’بے شک، نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے‘‘(سورۂ عنکبوت) اس قانونِ قرآنی اور اصول ِربانی کی وضاحت حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: فلاں شخص رات بھر نوافل پڑھتا ہے اور جب صبح ہوتی ہے تو وہ چوری کر لیتا ہے‘‘ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’وہ جو نماز پڑھتا ہے وہ نماز عنقریب اسے اس عمل(برائی) سے روک دے گی‘‘۔ (صحیح ابن حبّان) معلوم ہوا کہ نماز اور اس وابستہ ہر شے مسجد ، محراب، منبر، جائے نماز ہر فرد امام و خطیب و موذّن منصبِ اصلاح اور مسندِ ارشاد پر فائز اور اصلاحِ معاشرہ کے ذمہ دار ہیں۔
ہماری مساجد اور محراب و منبر صرف نماز پڑھنے اور خطبہ دینے کی جگہ نہیں، بلکہ در حقیقت یہ تمام اجزاء اہل محلہ کو پانچ بار مسجد میں جمع کر کے ان کی انفرادی و اجتماعی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محراب و منبر یعنی ان سے وابستہ افراد اور ذمہ داران اسلامی ریاست کا ایک مضبوط معاشرتی و اصلاحی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کی علامت، پہچان اور تشخص بھی ہیں۔
جب بھی کسی معاشرے میں فکری بحران سر اٹھانے لگے، اخلاقی انحطاط عام ہو جائے اور سماجی انتشار پَر پھیلانے لگے تو وہ ادارے جو معاشرے میں شعور بیدار کرنے اور اقدار کو زندہ رکھنے کے لئے قائم کئے جاتے ہیں ان کی ذمہ داریاں ان دگرگوں و ناگفتہ بہ معاشرتی و اخلاقی حالات میں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
مسلم معاشرے میں مسجد کا منبر ایک ایسا مرکزی پلیٹ فارم ہے جس کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، محراب و منبر معاشرتی اصلاح و فلاح کا سب سے موثر ذریعہ ہیں، خود رسول اللہ ﷺ منبر کو ایک تبلیغی و اصلاحی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قرآنی احکام اور شرعی تعلیمات لوگوں تک پہنچا یا کرتے تھے۔
آپ ﷺ نے اپنے منبر کو امت کو دین کی تعلیم دینے اور انسانوں کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ بنایا۔ آپ ﷺکے بعد خلفائے راشدینؓ، صحابۂ کرامؓ ، تابعین ؒ اور تبع تابعین نے بھی محراب و منبر ہی کو اصلاح معاشرہ کا ذریعہ بنایا، محراب و منبر کا یہ استعمال تاریخی تسلسل ساتھ ہمیشہ امّت میں جاری رہا۔ رسول اللہﷺ کا یہ فریضہ تبلیغ دین اور اصلاحی مِشن بطور ’’وراثت انبیاء‘‘ آج بھی بطور امانت محراب و منبر کے سپرد ہے۔
محراب و منبر مسجد کا وہ انتہائی اہم و حساس حصہ اور مرکزی مقام ہے، جس کی طرف طالبان ہدایت کی نظریں لگی رہتی ہیں۔ محراب و منبر سے افراد معاشرہ کی دینی، سیاسی، سماجی رہنمائی ہوتی رہتی ہے۔ تمام حاضرین و سامعین کی سماعتوں تک یکساں آواز ِ ہدایت پہنچتی ہے۔ محراب و منبر سے بلند ہونے والی مثبت آوازیں علاقائی ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔
عصرِ حاضر میں ہم محراب و منبر کے کردار اور معاشرے پر اس کے اثرات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ عہد رسالتؐ، دورِخلافت راشدہؓ، تابعین ؒ، تبع تابعین اور اس کے بعد کے زمانے سے ہم محراب و منبر کے کردار اور اثر و نفوذ کا موازنہ آج کے محراب و منبر کے کردار اور ذمہ داریوں سے کریں تو ہمیں بہت سی خرابیاں اور مایوسیاں واضح نظر آتی ہیں۔
جمعہ کے دن اجتماع نماز کے وقت جب دل بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتے ہیں، روحیں اللہ کی طرف جھکی ہوئی ہوتی ہیں اور نمازیوں کی توجہ خطیب و امام کی جنبش لب کی طرف مرکوز ہوتی ہیں، یہ اصلاح و تربیت کا ایک سنہری موقع ہوتا ہے کہ اس وقت لوہا گرم ہوتا ہے بس چوٹ مارنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن کو فضیلت عطا فرمائی اور سورۂ جمعہ جیسی با برکت سورت اس دن کے نام سے موسوم کر کے اس بات کی تاکید فرمائی کہ ’’جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر یعنی نماز کے لئے (مسجد کی طرف) دوڑو اور خرید و فروخت ( یعنی تمام تر دنیا داری) چھوڑد و‘‘۔ (سورئہ جمعہ) خطبہ کا مقصد لوگوں کو اللہ و رسولﷺ کے حکم کی طرف بلانا، اخلاق کو سنوارنا، اسلامی شعور پیدا کرنا، فکری بیداری کو اجاگر کرنا اورانہیں ایک اچھا انسان اور بہترین مسلمان بننے کی طرف راغب کرنا ہونا چاہیے۔
محراب و منبر صرف دینی تعلیمات کے بیان کا مقام ہی نہیں ، بلکہ یہ ایک سماجی پلیٹ فارم بھی ہے۔ یہاں سے وہ باتیں بیان اور عام ہونی چاہئیں، جِن سے عام آدمی کی زندگی وابستہ ہے، صفائی، قانون کی پاسداری، ٹریفک کا نظام، مالی دیانت داری، کاروباری امانت داری، وعدے کا ایفاء، پڑوسیوں کے حقوق کا خیال اور ماحول کا تحفظ وغیرہ وغیرہ، یہ سب وہ پہلو ہیں جن پر اسلام نے واضح ہدایات دی ہیں، اسی طرح دھوکا دہی، ناپ تول میں کمی، رشوت اور دیگر معاشرتی برائیاں۔
جرائم کی روک تھام کا ایک موثر ذریعہ حکومت کی قوت نافذہ اور قانون پر عملدارآمد ہے، لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں حکومتی رٹ کمزور اور قانون پر عمل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس معاشرتی ماحول میں جس چیز کی اہمیت سب سے زیادہ ہے وہ عوام الناس کا اپنا شعور اور دلوں میں خشیت الٰہی کا ہونا ہے جس کو محراب و منبر سے بہت بہتر و موثر طریقے اور بلیغ انداز سے معاشرے میں اجاگر کیا جاسکتا ہے۔
آزادانہ ماحول میں محراب و منبر کی خود یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ مطبوعہ کتابی خطبوں کا سہارا لینے کے بجائے ازخود ایسے خطبات ترتیب دیں جو علم و تقویٰ اور خطابت کے بنیادی اوصاف سے متصف و مزین ہوں۔ اس کام کی تیاری کے لئے ضروری ہے کہ محراب و منبر کو جدید سماجی علوم ، عوام کی نفسیات و مزاج اور دور حاضر کی ضروریات کا کماحقہ شعور و ادراک ہو۔ نئی نسل سے متعلق جدید مسائل ، خاندانی اور اخلاقی اقدار کو اچھی طرح سمجھنے اور انہیں مؤثر انداز میں بیان کرنے کی قابلیت کے حامل ہوں۔
امّت کے معاشی و معاشرتی اور اخلاقی حالات کے پیش نظر اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ محراب و منبر کو ایک باشعور ، باخبر ، روشن اور اسلامی تعلیمات کے ماتحت عصر ََِِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ موثر پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جائے، تاکہ حکمت و موعظت کے ساتھ امّت کو درپیش مسائل کا حل پیش کیا جاسکے۔
محراب و منبر وہ جگہ ہونی چاہئے جہاں سے قوم و ملّت کو اتحاد، اخوت و رحمت کا پیغام ملے۔ جہاں دلوں کو جوڑنے والی بات ہو، جہاں مسلمانوں کے مسائل اور پریشانیوں کے حل کی بات کی جائے ۔ محراب و منبر سے کی جانے والی بات کی اصل طاقت اور رنگ اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ سامعین کے دلوں کوچھو جائے، انہیں عمل پر آمادہ کرے اور پورے ہفتے ان کی سماعتوں اور اذہان میں گونجتی اور ان کے ضمیر کو جھنجھوڑتی رہے، خطبہ کی اس اہمیت وافادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خطبے کے دوران کسی بھی طرح کی گفتگو کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ یقینا ًیہ اسی لیے کہا گیا کہ حاضرین کی تمام تر توجہات منبر کی جانب رہے اور خطیب کی ہدایات کو بغور سنیں،حتیٰ کہ خطبے کے دوران کسی بھی طرح کی عبادت سے بھی منع کیا گیا ہے۔
مختصراً یہ کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ محراب و منبر ہمارے معاشرے کی اصلاح میں قرون اولیٰ والا اصلاحی کردار ادا کریں تو خطباء و مخاطبین سب کو اس عظیم منصب کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ ہم سب کو اپنے علم وعمل میں گہرائی و گیرائی، تقویٰ کی روشنی اور بیان میں تاثیر پیدا کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ خطیب کی بات اور ہدایات میں اثر اسی وقت پیدا ہوگا جب خطیب خود ان باتوں یعنی تعلیمات ِقرآن و سنّت کا عملی مظہر اور چلتا پھرتا نمونہ ہوگا۔ جب خطباء و مخاطبین اپنے اپنے فرائض کو خلوص اور بصیرت کے ساتھ ادا کریں گے، تب ہی محراب و منبر حقیقی معنوں میں امّت کی رہنمائی کر نے کے ساتھ اصلاحِ معاشرہ کا سر چشمہ بن سکیں گے۔