تفہیم المسائل
سوال: سلیم نے ایک بلڈنگ بنانے کے لیے پچاس کروڑ مالیت کی زمین لی اور شریف سے کہا: اگر تم پانچ کروڑ اس میں انویسٹ کرتے ہو یا کسی کے کرواتے ہو تو بلڈنگ بننے کے بعد ہونے والے خالص منافع میں تمہارا شئیر دس فیصد ہو گا، کیونکہ تمہاری انویسٹمینٹ بھی کُل سرمائے کی دس فی صد ہے۔ اندازاً منافع ایک ارب ہو گا تو تمہیں دس کروڑ ملیں گے۔ شریف نے فیصل کو انویسٹمنٹ کے لیے راضی کیا کہ میرے دوست سلیم کی بلڈنگ میں پانچ کروڑ لگاؤ تو تمہیں دس کروڑ بچیں گے۔
میں یہ کام کروا دیتا ہوں تو دس کروڑ میں پانچ تمہارے اور پانچ میرے ہوں گے۔شریف نے فیصل اور سلیم کی میٹنگ کرائی اور شریف نے کچھ پیچیدگیاں وغیرہ دور کرائیں، جس کے بعد فیصل نے بالآخر شریف کے ذریعے سلیم کو پانچ کروڑ بھیجے۔
شریف کئی سالوں تک اس بلڈنگ کے لیے ایک طے شدہ محدود ڈیوٹی انجام دیتا رہا جو اس کا فرض تھا۔ سلیم نے کوئی تحریری معاہدہ بھی نہ کیا، لیکن گواہان موجود ہونے کی وجہ سے کسی معاملے سے مُکر نہیں رہا۔ آج کئی سال گزر جانے کے بعد بلڈنگ بن گئی فلیٹ دکانیں بھر گئیں یا بھرنا شروع ہو گئیں، لوگ رہنے آگئے، سلیم نے پُرتعیش زندگی کا آغاز کر دیا، بنگلے لے لیے، مہنگی گاڑیاں، نئے پلاٹس، ملک سے باہر فیکٹریاں لے لیں، دیگر پارٹنرز کو پیسے دے کرحساب کر دیا، لیکن شریف اور فیصل کو اصل پیسے بھی مکمل نہیں دے رہا اور نہ ہی منافع اور نہ ہی منافع کا حساب۔
اس معاملے کو بنانے اور محنت کرنے والے مڈل مین شریف نے جب سلیم پر اَخلاقی دباؤ ڈال کر اپنا اور فیصل کا حق مانگا، تو سلیم نے کہا: تمہارا کوئی واسطہ نہیں، تمہارے پیسے نہیں، فیصل کے پیسے ہیں اور پھر فیصل کو کہا: شریف سے مجھے دور ہی رکھو۔ اس کے بعد شریف نے فیصل سے سلیم پر سختی کرنے کی بات کی تو فیصل نے کہا: تمہارا کیا واسطہ اپنا کام کرو۔
سوال یہ ہے: اس معاملے میں سلیم کی کیا ذمہ داری ہے اور پوری نہ کرنے پر کیا عذاب ہے، فیصل نے سلیم سے ساز باز کر کے شریف کو سائیڈ کر دیا، تاکہ پانچ کروڑ کا منافع نہ دینا پڑے تو فیصل کی کیا ذمہ داری ہے اور پوری نہ کرنے پر کیا وعید اور گناہ ہے؟ شریف اب کیا کرے؟ کس سے پانچ کروڑ کا تقاضا کرے اور پورے معاملے کو بنانے اور سجانے میں ایک مڈل مین ہونے کے ناطے سلیم پر دباؤ ڈالے یا فیصل پر، کیونکہ فیصل ایک طرف تو شریف سے کہتا ہے کہ مجھے سلیم نے منافع اور اصل رقم دی ہی نہیں تو تمہیں کیسے دے دوں اور ساتھ ہی سلیم کو کہتا ہے شریف کو باہر نکال دو یعنی شریف کے پیسے ہڑپ کرنے کے لیے دونوں مل گئے، شریف کیا کرے اور یہاں شریف کو کیسے انصاف ملے گا؟(محمد شریف، کراچی)
جواب: آپ کا سلیم صاحب کے ساتھ جو معاہدہ ہے، اُس میں شرعی اعتبار سے چند بنیادی نقائص ہیں:(۱)یہ صَفَقَۃٌ فِیْ صَفَقَۃٍ کی ذیل میں آتا ہے، یعنی دو معاہدوں کو آپس میں خَلط مَلط کردیا گیا ہے۔ (۲) قرآنی ہدایت کے مطابق معاہدے کو ضبطِ تحریر میں لانا چاہیے تھا، تاکہ بعد میں تنازع پیدا نہ ہو، لیکن آپ حضرات نے پہلی بے احتیاطی یہ کی کہ زبانی معاہدے پر اتفاق کیا اورقرآن کریم کی ہدایت کے برخلاف معاہدے کو تحریر ی شکل نہیں دی اور یہی بعد میں نزاع کا سبب بنی ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ:’’اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت تک کسی دین کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو، (سورۂ بقرہ:282)‘‘۔(۳) فیصل صاحب کو پانچ کروڑ روپے انویسٹ کرنے پر اگر اصل حاصل شدہ منافع کے دس فیصد کی پیشکش ہوتی تو یہ درست تھی، لیکن جو ممکنہ نفع دس کروڑ روپے بتایا گیا تھا، آپ نے اُسے اصل سمجھ لیا ،حالانکہ کسی کو پہلے سے قطعی طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ نفع کتنا ہوگا، لہٰذا آپ کا متعین طور پر حاصل شدہ منافع میں سے دس کروڑیا پانچ کروڑ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، بلکہ اصل منافع کے دس فیصد کا مطالبہ کرنے کا آپ کو حق ہے اورسلیم صاحب کی ذمے داری ہے کہ اصل حاصل شدہ منافع کو واضح کریں۔
(۴) بادی النظر میں آپ کا بطورِ کمیشن ایجنٹ معاہدہ سلیم کے ساتھ تھا کہ آپ اُسے سرمایہ کاری کے لیے شراکت دار تلاش کرکے دیں گے اور وہ اپنے حاصل شدہ منافع دس فیصد میں سے نصف آپ کو دیں گے۔ مگر آپ نے یہ معاہدہ انویسٹمنٹ کرنے والے فیصل صاحب کے ساتھ کیا۔ آپ کو دوطرفہ کمیشن ایجنٹ بننے کے بجائے کسی ایک کا کمیشن ایجنٹ بننا چاہیے تھا۔ (۵) پس اگر آپ کا کمیشن ایجنٹ، جسے عربی میں سِمسار کہتے ہیں، کا معاہدہ سلیم کے ساتھ تھا تو آپ کو اپنے حق کا مطالبہ اُس سے کرنا چاہیے اور اگر فیصل کے ساتھ تھا تو اُس سے کرنا چاہیے، غرض آپ خود دو کشتیوں کے سوار بن گئے۔ (۶)بہتر یہ ہے کہ آپ اس مسئلے میں ایسے ثالث مقرر کریں جو اس طرح کے کاروباری معاملات اور معاہدات سے واقف ہوتے ہیں اوراُن کے ذریعے معاملات کو طے کریں۔
ذیل میں ہم شریعت کی رو سے اصل مسئلے کی وضاحت کرتے ہیں: مذکورہ معاہدے میں شریف، فریقین یعنی سلیم اورفیصل کے درمیان ایک کمیشن ایجنٹ کی حیثیت رکھتا ہے، کمیشن ایجنٹ کی اجرت کا تناسب طے شدہ معاہدے پر منحصر ہے۔
عام طور پر کمیشن کی شرح مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے، جیسے کہ فروخت کی گئی اشیاء یا خدمات کی نوعیت، مارکیٹ کے حالات اور ایجنٹ کی مہارت۔ بعض صورتوں میں یہ کمیشن حاصل شدہ منافع کے فیصد کے حساب سے بھی ہوسکتا ہے، جبکہ دوسری صورت میں ایک معین طے شدہ اجرت بھی ہوسکتی ہے۔
امام بخاری ؒ کمیشن ایجنٹ کے ساتھ عقد کے جواز کی صورت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ابن سیرین ، عطاء ابراہیم اور حسن بصری کے نزدیک سِمسار(کمیشن ایجنٹ ) کی اجرت میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک شخص دوسرے شخص سے کہے: یہ کپڑا اتنے میں بیچ دو، اس سے زیادہ جو رقم تمہیں ملے، وہ تمہاری ہے۔
تابعی ابن سیرین فرماتے ہیں: ایک شخص نے (کمیشن ایجنٹ ) سے کہا: یہ چیز اتنے میں بیچ دو، اس سے زیادہ جو نفع ملے، وہ تمہارا ہے یا ہم دونوں نصف نصف کے حق دار ہوں گے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اہلِ ایمان اپنی (طے شدہ) شرائط کے مطابق(پابند) ہیں ، (صحیح بخاری، کتاب الاجارہ، جلد3،ص:92)‘‘۔
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: کمیشن ایجنٹ کی اجرت مثلی واجب ہوگی اور یہ جو انھوں نے اصول وضع کیا ہے کہ ہر دس دینار میں میرا اتنا کمیشن ہے، تو یہ اُن پر حرام ہے ، اور’’حاوی‘‘ میں ہے : محمد بن مسلمہ سے کمیشن ایجنٹ کی اجرت کے بارے میں سوال کیاگیا،آپ نے فرمایا: میری فہم کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ اصل میں یہ فاسد ہے، کیونکہ اس طرح کے کاروباری معاملات بکثرت ہورہے ہیں اور ان میں سے بہت سی صورتیں جائزنہیں ہیں، علماء نے لوگوں کی حاجت کے پیشِ نظر اسے جائز قرار دیا ہے، (حاشیہ ابن عابدین شامی ، جلد6، ص:63)‘‘۔
شریف کا دعویٰ ہے کہ سلیم نے شریف سے کہا: ’’اگر تم پانچ کروڑ خود اس میں انویسٹ کرتے ہو یا کسی سے انویسٹ کراتے ہو تو بلڈنگ بننے کے بعد ہونے والے خالص منافع میں تمہارا شئیر دس فیصد ہو گا کیونکہ تمہاری انویسٹمینٹ بھی کُل سرمائے کی دس فی صد ہے۔
اندازاً منافع ایک ارب ہو گا تو تمھیں دس کروڑ ملیں گے‘‘ ، سوال میں کل حاصل شدہ نفع کی مقدار بیان نہیں کی گئی، جس کا دس فیصد سلیم نے دینے کا وعدہ کیا تھا، تو ایسی صورت میں بطور کمیشن پانچ کروڑ کا تقاضا درست نہیں ہے، محض دعوے پر شریف کا استحقاق ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ حاصل شدہ منافع میں سے دس فیصد یا کم وبیش طے کرنا اور اس پرعمل درست ہے، لیکن معین رقم مثلاً دس کروڑ روپے بطور منافع طلب کرنا درست نھیں ہے، بلکہ سود ہے، کیونکہ نفع کم یا زیادہ ہوسکتا ہے اور فیصد حصہ اصل حاصل شدہ منافع پر ہوتا ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ رقم کی صورت میں، کیونکہ یہ سود کی صورت ہے۔
شریف کے لیے لازم ہے کہ پہلے اس امر کا تعین کرے کہ اُس کا دعویٰ سلیم پر ہے یا فیصل پر ہے، باقی معاملات کے تصفیے کے لیے تینوں (سلیم ، فیصل اور شریف) کسی مفتی یا عالمِ دین کو حَکم مقرر کریں اور اپنا معاملہ اس عہد کے ساتھ اُس کے سامنے پیش کریں کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے گا، تینوں اُسے تسلیم کریں گے۔ اس طرح کے معاہدات کرنے سے پہلے کسی ثقہ عالم، مستند مفتی سے مشورہ ضرور کیا کریں تاکہ اپنے کاروبار کو اسلامی تجارتی اصولوں کے مطابق قائم کرسکیں۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com