• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عصر کی نماز کے بعد انفرادی دعا کرکے چلے جانے والے کو ملامت کرنا

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میں عصر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرتا ہوں اور نماز کے بعد میچ کھیلنے جاتا ہوں، نماز کے بعد امام صاحب قریباً پانچ منٹ بیٹھ جاتے ہیں اور اس کے بعد اجتماعی دعا کرتے ہیں، میں دعا اجتماعی نہیں مانگتا اور نماز کے فوراً بعد اکیلی دعا مانگ کر میچ کھیلنے چلا جاتا ہوں، اس وجہ سے ایک بزرگ نے مجھے تنبیہ کی اور کہا کہ نماز کے بعد اجتماعی دعا مانگنا ضروری ہے۔ کیا نماز کے بعد اجتماعی دعا ضروری ہے یا دعا اکیلے مانگ کر جا سکتے ہیں؟

جواب: فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا نبی کریمﷺ، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین سے ثابت ہے، رسول اللہ ﷺسے عرض کیا گیا: کون سا وقت ایسا ہے جس میں دعا کی قبولیت کا زیادہ امکان ہو؟ 

آپﷺ نے ارشاد فرمایا: رات کا آخری پہر اور فرض نمازوں کے بعد۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ،باب الذکر بعد الصلاۃ ص: 89 ط:قدیمی) اس لیے فرض نمازوں کے بعد دعا مانگنی چاہیے، امام اور مقتدی ایک ساتھ دعا مانگیں تو اس کی بھی اجازت ہے، لیکن اس کیفیت کے ساتھ دعا کو لازم سمجھنا یا اجتماعی دعا میں شرکت نہ کرنے والوں کو ملامت کرنا درست نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا سے پہلے ہی تنہا دعا مانگ کر چلا جاتا ہے تو اسے ملامت نہیں کرنا چاہیے۔

تاہم فرض نماز کے بعد چوں کہ تسبیحات، آیۃ الکرسی اور دیگر دعائیں پڑھنا بھی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، اس لیے ان کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد ذکر واذکار کی مزید اہمیت ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک ذکر کرنے والوں کے ساتھ رُکا رہنا مجھے اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے آٹھ غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، لہٰذا عصر کی نماز کے بعد ذکر واذکار کاخوب اہتمام کرنا چاہیے، البتہ اگر کبھی وقت کی تنگی، یا کسی معقول عذر کی بناء پر تسبیحات اور اَذکار چھوٹ جائیں تو ایسی صورت میں نماز کے فوراً بعد دعا کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ،باب الذکر بعد الصلاۃ ص: 89 ط:قدیمی)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید