• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: ایک خاتون جو مکۂ مکرمہ میں رہائش پذیر ہیں، ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، کیا عدّت کے دوران وہ صرف دن کے وقت طواف کرنے حرم جاسکتی ہیں؟ نیز یہ بھی بتادیجیے کہ عدّت کے دوران عورت کے گھر سے باہر نکلنے کی ممانعت کی دلیل کیا ہے؟ یعنی یہ قرآن مجید کی آیت یا کسی حدیث سے صراحتاً ثابت ہے یا اجتہادی مسئلہ ہے؟

جواب: شوہر کے انتقال کے بعد نکاح کی نعمت کے ختم ہونے پر اظہارِ افسوس کے لیے عورت پر شریعت میں چار مہینہ دس دن عدّت گزارنا لازم ہے، خواہ عورت جوان ہو یا سن رسیدہ ہو، عدّت کے دوران کسی شدید مجبوری کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے اور طواف شرعاً شدید مجبوری نہیں ہے ، لہٰذا مذکورہ عورت کے لیے عدّت کے دوران طواف کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

عدّت طلاق کی ہو یا وفات کی، اس کا حکم قرآنِ مجید و سنّت سے ثابت ہے، اور عدّت کے دوران گھر سے نہ نکلنے کا حکم بھی ثابت ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ترجمہ: "اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن، پھر جب اپنی میعاد (عدّت) ختم کرلیں تو تم کو کچھ گناہ نہ ہوگا۔"(سورۃ البقرہ: 234بیا ن القران)

فریعہ بنت مالک بن سنانؓ جو حضرت ابو سعید خدریؓ کی بہن تھیں۔ روایت کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ سے اجازت چاہی کہ میں اپنے اہلِ خاندان کے پاس بنو خدرہ میں واپس چلی جاؤں، اس لیے کہ میرے شوہر اپنے چند بھگوڑے غلاموں کے تعاقب میں گئے تھے، جب وہ لوگ قدوم کے کنارے پہنچے تو انہوں نے میرے شوہر کو پکڑلیا اور قتل کر دیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں، کیوں کہ میرے شوہر نے مجھے نہ کسی ایسے مکان میں چھوڑا ہے جس کے وہ مالک ہوں اور نہ ہی میرے لیے کوئی خرچ مقرر کیا ہے۔

راویہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہاں"! میں وہاں سے نکلی، یہاں تک کہ میں حجرے یا مسجد میں پہنچی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا یا بلوانے کا حکم دیا، چنانچہ مجھے آپ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے کیا کہا تھا؟ تو میں نے اپنے شوہر کے واقعے کی تفصیل دوبارہ عرض کر دی۔ 

راویہ کہتی ہیں: اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے ہی گھر میں ٹھہری رہو، یہاں تک کہ عدّت کی مدت پوری ہوجائے۔ فریعہ کہتی ہیں، چنانچہ میں نے اسی گھر میں چار مہینے دس دن عدّت گزاری۔ پھر جب حضرت عثمان بن عفانؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس واقعے کے بارے میں پوچھا، میں نے انہیں ساری بات بتا دی، تو انہوں نے اسی پر عمل کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا۔ (سنن ابو داؤد 2/ 259 ، رقم الحديث:2300)

حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ’’بذل المجہود‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اس حدیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر فوت ہو جائے، وہ اسی گھر میں عدّت گزارے گی، جہاں اسے شوہر کی وفات کی خبر ملی اور جہاں وہ اس وقت موجود تھی، اور وہ اس گھر کو چھوڑ کر کسی دوسرے مقام پر منتقل نہیں ہو گی، صحابۂ کرامؓ، تابعینؒ اور ان کے بعد آنے والے علماء کی ایک بڑی جماعت کا یہی موقف ہے۔ 

امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور ان کے اصحاب، امام اوزاعیؒ، امام اسحاقؒ اور امام ابو عبیدؒ بھی اسی کے قائل ہیں۔ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں:حدیثِ فریعہ کے مطابق فتویٰ دینے والے فقہاء کی ایک بڑی جماعت ہے، جو حجاز، شام، عراق اور مصر کے علماء پر مشتمل ہے، اور ان میں سے کسی نے بھی اس حدیث پر جرح نہیں کی۔‘‘ (بذل المجھود فی حل سنن ابو داؤد (8/ 396): - بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 192):رد المحتار، کتاب الطلاق،فصل فی الحداد،ج:3،ص:536،سعید)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید