• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوہر، تین بھائیوں اور تین بہنوں میں میراث کی تقسیم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: ہم چار بھائی اور پانچ بہنیں تھے اور اب تین بہنیں اور تین بھائی حیات ہیں۔ ہماری ایک بہن نے اپنی وراثت میں دو فلیٹ، کچھ زیورات اور کچھ نقد چھوڑا ہے۔

اس بہن کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ یہ اپنے شوہر کی دوسری بیوی تھیں۔ شوہر کی پہلی مرحومہ بیوی سے تین بیٹے ہیں۔ اب وراثت کی طرح تقسیم ہوگی۔ شوہر کا کتنا حصہ ہو گا اور بہن بھائیوں کا کتنا حصہ ہوگا ؟ فی صد کے حساب سے بتا دیں!

جواب: صورت ِمسئولہ میں اگر مرحومہ کے والدین نہ ہوں، صرف مذکورہ ورثاء ہی ہوں تو مرحومہ کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی مال کے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ منقولہ و غیرمنقولہ کو 18 حصوں میں تقسیم کرکے 9 حصے مرحومہ کے شوہر کو، دو دو حصے مرحومہ کے ہر ایک بھائی کو اور ایک ایک حصہ مرحومہ کی ہر ایک بہن ملے گا۔

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو پچاس فیصد، اور ہر بھائی کو 11.11 فیصد، اور ہر بہن کو 5.55 فیصد ملے گا۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید