ڈاکٹر نعمان نعیم
الحمد للہ، امت محمدیہ چند دنوں بعد مقدس ماہِ مبارک، رمضان المبارک کا استقبال کرنے جا رہی ہے۔ صحیح بخاری میں درج حدیث ِ قدسی ہے کہ ماہِ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو پابندِ سلاسل کر دیاجاتا ہے۔ تو یقینا ً ہر وہ بندئہ بشر جس کے قلب میں ایمان کی قندیل روشن ہو ، معرفت الٰہی ، رضائے الٰہی کی تڑپ ہو، وہ یقیناً اس مہینے کی برکات سے فیض یاب ہونا چاہے گا۔
نبی اکرم ﷺ نے اس ماہِ مبارک کی آمد پر یہ دعا مانگی کہ اے اللہ، ہمیں سلامتی عطا فرما، رمضان میں اور سلامتی عطا فرما، رمضان کو مجھ سے اور میرے لئے سلامتی کے ساتھ قبول فرما۔ ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ بقول رسول ﷺیہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب اور بدلہ جنت ہے، یہ لوگوں کے ساتھ مواسات اور خیر خواہی کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
آپﷺ نے فرمایا " اللہ تعالیٰ یہ انعام ہر اس شخص پر کرتا ہے جو کسی بھی روزے دار کو ایک گھونٹ دودھ ، ایک عدد کھجور، حتیٰ کہ ایک گھونٹ پانی پلا کر بھی افطار کرادے، ہاں جو شخص روزے دار کو پیٹ بھر کر کھلائے تو اللہ رب العزت اسے قیامت کے دن میرے حوض ِ کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے جس سے کبھی پیاس نہ لگے گی، تاآںکہ وہ جنت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائے گا۔
پھر آپﷺ نے فرمایا : یہ ایسا مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے ۔جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام (خادم اور ملازم وغیرہ) کے بوجھ کو ہلکا کردے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرماتا ہے اور آگ سے آزادی دیتا ہے۔
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور مغفرت کا مہینہ ہے، خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں اس مبارک و مقدس مہینے میں روزہ و عبادت کے ذریعے اللہ کو راضی کرنے کی توفیق میسر ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کی طرح امت محمدیہ ﷺ پر بھی روزے فرض کیے، تاکہ یہ اس کے ذریعے تقویٰ و پرہیز گاری حاصل کرے، یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب کم از کم ستّر گنا بڑھا دیتے ہیں۔
روزہ وہ مبارک عمل ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہے اور میں ہی اپنے بندے کو اس کا اجر دوں گا، روزہ ہی وہ مبارک عمل ہے کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے ذہنی و قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے، خواہشاتِ نفس دب جاتی ہیں، دل کا زنگ دور ہو جاتا ہے، انسان گناہوں، فواحشات اور بے ہودہ باتوں سے بچ جاتا ہے اور روزہ کے ذریعے مساکین و غرباء سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔
روایت کے مطابق حضور اکرم ﷺ نے شعبان کی آخر ی تاریخ میں لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا اور مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک رات (شبِ قدر) ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے کو فرض فرمایا اور ا س کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے جو شخص اس مہینے میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کے قرب کو حاصل کرے، و ہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا، اور جو شخص اس مہینے میں فرض کو ادا کرے، وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستّر فرض ادا کرے، اور یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کابدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے اور اس مہینے میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، جو شخض کسی روزے دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لیے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور روزے دار کے ثواب کے مانند اس کا ثواب ہوگا، مگر اس روزے دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں کی جائےگی، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا، یارسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزے دار کو افطار کرائے تو آپﷺ نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کر کھانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ، اگر ایک کوئی کھجور سے افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلا دے، اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ (جہنم) سے آزادی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’میری امت کو رمضان کے متعلق پانچ چیزیں خصوصیت کے ساتھ ودیعت فرمائی گئی ہیں، جو پچھلی امتوں کو نہیں دی گئیں۔٭… روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے۔٭… اس کے لیے سمندر کی مچھلیاں افطار کے وقت تک استغفار کرتی رہتی ہیں۔٭… اللہ تعالیٰ ہر روز جنت کو آراستہ کرتا اور یہ فرماتا ہے، عنقریب میرے نیک بندے (دنیا کی)مشقت اپنے اوپر سے پھینک کر تیری جانب آئیں گے۔٭… سرکش شیاطین رمضان میں قید کر دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ رمضان المبارک کے زمانے میں ان بُرائیوں تک نہیں پہنچتے، جن برائیوں کی طرف غیر رمضان میں پہنچ جاتے ہیں۔٭…رمضان کی آخری رات میں ان (روزے داروں)کے لیے مغفرت کا فیصلہ کیا جاتا ہے، آپﷺ سے عرض کیا گیا،کیا یہ مغفرت شب قدر میں ہوتی ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں۔ بلکہ دستور یہ ہے کہ کام ختم ہونے پر مزدور کو اُجرت سے نوازا جاتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
حضورﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن حارثؓ ایک صحابیؓ سے نقل کرتے ہیں کہ میں حضور اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ﷺ سحری تناول فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک برکت کی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اسے مت چھوڑنا… حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن بھی رمضان کا روزہ چھوڑ دے تو رمضان کے علاوہ وہ پوری زندگی بھی روزے رکھے، وہ اس کا بدل نہیں ہو سکتے…
روزے کی حقیقت کے بارے میں صاحب مفردات امام راغب اصفہانیؒ کہتے ہیں کہ صوم کے اصل معنٰی کسی چیز سے رُک جانے کے ہیں، خواہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو یا گفتگو کرنے اور چلنے پھرنے سے۔ روزہ روحانی صحت کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کی بہتری کا بھی ضامن ہے اور اس کی یہ صفت بھی لفظ تقویٰ کے ضمن میں عیاں ہو جاتی ہے۔
امام راغبؒ کہتے ہیں کہ تقویٰ کے اصل معنی اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس مقام پر تقویٰ کو اس کے مخصوص اِصطلاحی مفہوم کے بجائے عمومیت کا رنگ دے دیا جائے اور لغوی اعتبار سے بچاؤ کے اس پہلو کو روح اور اعمال کے علاوہ جسم سے متعلق بھی مان لیا جائے تو اپنے روحانی اور مادی فوائد کے اعتبار سے روزے کی یہ حکمت قرار پاتی ہے کہ یہ وہ عبادت ہے جس کے ذریعے اہل ِ ایمان کو اپنے باطن اور اپنی روح کی تمام کیفیاتِ باطلہ سے بچاتے ہیں۔ اپنے اعمال کو ان آفات سے بچاتے ہیں جو انہیں خراب کرتی ہیں اور اپنی جسمانی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں تعلیمات اسلام کی روشنی میں اس ماہ ِمبارک میں حاصل ہونے والی روشن اوراعلیٰ تعلیم و تربیت میں پوشیدہ حکمت کو اپنی ، آنے والی نسل اور عالمی برادری کے لئے زندگی کا محفوظ مورچہ بنانے کی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ اللہ نے ہم انسانوں کو ارادہ و اختیار کی قوت سے نوازتے ہوئے جن احکام کا پابند کیا ہے ہم بطور مسلم اور اس کے بندے ان سے انحراف نہ کرتے ہوئے عالم انسانیت کی بھی فکری و عملی آگہی کا سامان کریں گے۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس مبارک مہینے میں عبادت و ریاضت کے ذریعے اس کا حق ادا کرنے اور اپنے لیے بخشش و مغفرت اور آخرت میں جنت کا مستحق بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)