• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فروری کی سخت سردی میں عالمی اور ملکی حالات میں گرمی کے آثار بڑھ رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا جنگی جنون عروج پر ہے۔ جنگی بجٹ میں 15فیصد اضافہ کرکے (85ارب ڈالر) 23ہزار 800 ارب روپے مختص کردیا جو پاکستان کو خوف زدہ کرنے کیلئے کیا گیا ہے، مگر مئی2025ء کی طرح ایک بار پھر بھارت کو منہ کی کھانا پڑیگی۔ جس انداز میں اسے حالیہ ایک ہفتے میں بلوچستان میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ یہ مہینہ پاکستان کے نام کے خالق چوہدری رحمت علی کی برسی کا بھی ہے جو 3فروری 1951ء کو وفات پاگئے تھے۔ رواں سال کا آغاز ملک کے معاشی حب کراچی کیلئے تباہ کن ثابت ہوا، گل پلازہ میں کتنی زندگی کے چراغ گل ہوگئے، اربوں کے سامان خاکستر ہوگئےمگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک سانحہ کے بعد دوسرے کے انتظار میں ہوتے ہیں، سیاسی بیان بازی، نعرے بازی ہی ہماری زندگی کے مقاصدبن گئے ہیں۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے گل پلازہ کے متاثرین کیلئے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ آزادی کی 79بہاریں دیکھنے کے باوجود ہم اسی مقام پر ہیں جہاں 1947ء میں تھے۔ عالمی سطح پر ایران امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جبکہ ہمارےقومی معاملات بھی الجھے ہوئے ہیں۔ کراچی کے حالات کے بعد ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹ کے قیام کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، 8فروری کو پی ٹی آئی ملک بھر میں احتجاج کی کال دے چکی ہے، عوام اسکا ساتھ دینگے یا نہیں، مگر امن وامان کی صورتحال سے ملکی ترقی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔دوسری جانب بلوچستان میںبھارت اور افغانستان کی مدد سے دہشت گردوں نے جو قیامت ڈھائی اسے ہمارے سیکورٹی اداروں نے جان پر کھیل کرناکام بنایا،صوبے کے نو شہروں میںجس منظم انداز اور جدید ہتھیاروں سے اہم مراکز پر حملے کئے گئےوہ پاکستان دشمن ملکوں کی مدد سے ہی ممکن تھے، ان میں جو اسلحہ استعمال کیا گیا وہ بھارت اور افغانستان سے فراہم کیا گیا، دہشت گرد تو مارے گئے مگر جن محب وطن شہریوں اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا وہ حب الوطنی کی اعلیٰ ترین مثال ہے، بلوچ حقوق کی علمبردار تنظیموں نے ا سکولوں، اسپتالوں، بازاروں، مارکیٹوں، بینکوں، سیکورٹی اداروں کے دفاتر اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا، جو انکے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔دہشت گردوں کی جانب سے خواتین اور بچوں کو استعمال کرنا شرمناک ہے۔ بھارتی اور افغان میڈیا پر بلوچستان کے حوالے سے منظم، جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انکی پشت پر کون ہے،افغان عبوری حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ انکی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لیکن افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کئی برسوں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے، مالی اور جانی نقصان کا سامنا کررہا ہے مگر اسکے باوجود وہ ممالک جو پاکستان کی قربانیوں سے محفوظ ہوئے وہ بھارت اور افغانستان کو لگام دینے کی کوشش نہیں کر رہے۔ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن بھی بلوچستان سے پکڑا گیا، بھارت کی جانب سے پاکستان پر مسلسل پراکسی وارمسلط ہے، بھارت دہشت گردوں کو فنڈنگ کر رہا ہے۔ عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت کے دور میں دہشت گردوں کے ساتھ مصالحتی پالیسی کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ حالانکہ دوران جنگ ہر طبقہ فکر کو ریاست کیساتھ کھڑ ے ہونا چاہئے۔ قومی ایکشن پلان ایک متفقہ دستاویز ہے، جو سیاسی وعسکری قیادت میں اتفاق رائے سے سامنے آیا تھا، بلوچستان کا سیاسی حل اس وقت ہوسکتا ہے جب تمام دہشت گرد ہتھیار پھینک دیں،اسی قسم کی صورت حال سے خیبرپختونخوا بھی دوچار ہے، یہ صوبہ بھی کئی سالوں سے دہشت گردوں کا ہدف بناہوا ہے۔ اس وقت ملک کو مکمل یک جہتی کی ضرورت ہے، سیاسی محاذ آرائی یا سیاست کسی طور پر ریاست سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ۔ خیبرپختونخوا کے حکمرانوں کو کھل کرقومی بیانیے کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت فوج اور وفاقی اداروں کی حمایت کرے۔ عالمی میڈیا دہشتگردوں کو دہشت گرد کہے، بلوچستان اور کے پی کے کا جب بھی سیاسی حل نکالنے کی کوشش کی گئی، بھارت اور افغان سہولت کاروں نے اسے ناکام بنایا۔ دوسری جانب بھارت کئی دہائیوں سے کشمیری عوام پر مظالم اور جبر کر رہا ہے، 5فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم کشمیر منایا جاتا ہے،پوری پاکستانی قوم کشمیر کیساتھ یکجہتی ریفرنڈم کر کےکشمیریوں کے حوصلے بلند کرتی ہے،جس سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت نے بلوچستان میں دہشت گردی کی، پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام اور انکی جدوجہد کی کھل کر حمایت کی ہے۔ بھارت کی یہ کوشش رہی ہےکہ کشمیریوں کی آزادی اور خودارادیت کی تحریک کا چہرہ مسخ کر کے پالیسی کے تحت مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی منظر سے اوجھل کرکے علاقائی اور دو طرفہ معاملہ بنادیا جائے۔نریندر مودی نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں5اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ایسا کرکے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ہوا میں اُڑا دیا، مودی نے مقبوضہ کشمیر کو کیک سمجھ کر ہڑپ کرنیکی ناپاک کوشش کی، ساتھ ہی دنیا بھر کے انسانی حقوق کے علم برداروں کو اپنا اصل چہرہ دکھایا۔ مگر ہر طرح کی آزادیوں کی حمایت کرنیوالے نام نہاد جمہوری ممالک اور ادارے کشمیر میں لگی آگ بجھانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہے۔ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت عالمی سطح پر اسکی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، اس بورڈ میں پاکستان کومسئلہ کشمیر کو بھی اٹھانا چاہئے، بورڈ میں پاکستان کی شمولیت سے فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے اور طویل عرصے سے فلسطین وکشمیر کے حوالے سے اسکی پالیسی پوری دنیا کے سامنے ہے۔

تازہ ترین