• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیدرلینڈز، پاکستانی سفارتخانے میں یومِ یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے تقریب

فوٹ: پاکستانی سفارتخانہ
فوٹ: پاکستانی سفارتخانہ

نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں پاکستان کے سفارت خانے نے ’یومِ یکجہتی کشمیر‘ کی مناسبت سے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

نیدرلینڈز میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے اراکین، کشمیر پیس فورم کے عہدیداران اور میڈیا کے نمائندگان نے تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر سید حیدر شاہ نے کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیکیورٹی اور انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کیا اور کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران کشمیر سے متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں وسیع پیمانے پر من مانی گرفتاریوں، بنیادی شہری آزادیوں اور حقوق پر سخت پابندیوں اور شہریوں کے خلاف حد سے زیادہ فوجی طاقت کے استعمال کے الزامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر جیسے مواقع دنیا کے سامنے کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، کشمیر میں شہریوں کی تکالیف پر خاموشی اختیار کرنا کبھی بھی کوئی آپشن نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کو ان کے پیدائشی حق خود ارادیت کے حصول تک، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت فراہم کرتا رہے گا، انہوں نے اس ضمن میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مزید فعال کردار کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

سیمینار میں شریک معزز مقررین نے بھارتی غیر قانونی قبضے کے تحت کشمیری عوام کی مشکلات کو اجاگر کیا۔

انہوں نےمقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ’بین الاقوامی برادری کے ضمیر کے لیے ایک بڑا چیلنج‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن اور منصفانہ حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے بھارتی غیر قانونی قبضے کے تحت ایک تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔

برطانیہ و یورپ سے مزید