• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابھی میں کالم لکھنے بیٹھا۔ نہ جی چاہ رہا تھا اور نہ کوئی موضوع ذہن میں تھا۔ رات کو صحیح طرح سو نہیں سکا تھا۔ رات کو صحیح سو نہ سکنا اور لمبی تان کر سونا، دونوں صورتوں میں فرائض منصبی ادا نہیں ہو سکتے ۔ تاہم میں اس حوالے سے بہت خوش نصیب ہوں کہ کسی بھی مشکل وقت میں میرے پیرو مرشد سائیں کو ڈے شاہ میرے کام آتے ہیں۔ چنانچہ میں نے انھیں صورت حال بتائی اور دعا کی درخواست کی۔ فرمایا: ’’میں نے تمہارے دونوں مسئلے سن لیے ہیں، دعا بھی کروں گا اور مدد بھی ۔ ‘‘میں نے عرض کی ’’آپ اس حوالے سے میری مدد کیسے کیاکرسکتے ہیں؟‘‘ بولے’’ میں تمھیں موضوع بتاتا ہوں اور اس سے پہلے یکسوئی کے لیے ایک آسان سا طریقہ بھی۔‘‘ انھوں نے آسان سا طریقہ یہ بتایا کہ کالم لکھنے سے پہلے کسی پاکیزہ کاغذ پر صرف تین دفعہ میرا نام لکھو۔ میں نے پاکیزہ کاغذ کی تعریف پوچھی تو فرمایا’’ ہر وہ کاغذپاکیزہ ہے جو تم جیسے لوگ کالم لکھنے کیلئے استعمال کرتے ہو‘‘۔ یہ بڑی کڑی شرط تھی ، مگر خوش قسمتی سے میرا دھیان کچن رول اور ٹائلٹ پیپر کی طرف گیا۔ میں نے کچن رول سے ایک ٹکڑا الگ کیا اور اس پر تین دفعہ پیر سائیں کا نام لکھ کر انھیں بتایا کہ مرشد پہلی شرط میں نے پوری کر دی ہے، اب موضوع کے حوالے سے بھی رہنمائی فرمادیں۔یہ سن کر وہ جلال میں آگئے ، بولے ” ایک تو نکے سائیں نے سردائی صحیح طرح گھوٹی نہیں، چنانچہ ابھی تک میں عرش کے بجائے فرش پر ہوں، اوپر سے تمھیں بتانا پڑ رہا ہے کہ کالم میں برکت میری کرامتوں کے بیان سے پیدا ہوگی۔ ‘‘ میں نے لجاجت سے معافی مانگی اور کہا ” پیر سائیں میرے ذہن میں بھی یہ بات آئی تھی مگر آپ کی ساری کرامتیں عوام کے سامنے بیان کرنے والی نہیں ہیں۔ آپ ہی تو کہا کرتے ہیں کہ ’’خاصاں دی گل عاماں اگے نہیں کری دی ‘‘ اس لیے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آپ کی کس کرامت کا ذکر کروں اور کس کرامت کو گول کر جاؤں۔ بولے’’تمھیں تو پتا ہے کہ میری دعا سے کتنی بے اولا د عورتوں کے ہاں اولاد ہوئی ۔ ‘‘ میں نے کہا ”جی مرشد ! میں اس کا چشم دید گواہ ہوں ، بس یہ رہنمائی فرما دیں کہ اس نابکار عورت کا ذکر تو نہیں کرنا جس نے آپ کے خلاف پرچہ کٹوانے کی کوشش کی تھی۔ ‘‘اس پر مرشد کی بیٹھی بیٹھی آواز سنائی دی” اُس بیوقوف کو اپنے کیے کی سزا خود ہی مل گئی تھی۔ وہ دو دفعہ تھانے گئی تھی اور اس وقت سے وہ تھانیدار کے خلاف پرچہ کٹوانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔‘‘ میں نے عرض کی ”جی مرشد مجھے یاد ہے، آپ بھی بندہ کوندہ دیکھ کر اپنی کرامت کا مظاہرہ کیا کریں ۔‘‘ اس پر پیر سائیں کچھ خاموش ہو گئے۔ میں نے عرض کی اگر آپ اجازت دیں تو آپ کی اس کرامت کا حوالہ دوں جو ایک سائل کا پرائز بانڈ نکلنےکے حوالے سے تھی؟ فرمایا رہنے دو! اس کی قسمت ہی اچھی نہیں تھی۔ میں نے پوری محویت کے عالم میں اس کے پرائز بانڈ نکلنے کی دعا کی تھی، مگر جب وہ درگاہ سے باہر گیا اور جیب میں ہاتھ ڈالا تو اسے پتا چلا کہ اس کا پرائز بانڈ نکل گیا ہے۔ میری دعا پوری ہوگئی تھی ، اس کا بانڈ نکل گیا تھا نا مگر وہ بد بخت پکے سائیں پر شک کرتا رہا، جس پر میرے مریدوں نے اس گستاخی پر اسے خاصا زدو کوب کیا تھا۔اب میں خاصی مشکل میں آ گیا۔ بے دینی کا دور دورہ ہے، لوگوں کے ایمان ڈانواں ڈول ہیں۔ چنانچہ میں نے مرشد سے درخواست کی کہ وہ خود ہی بتا دیں کہ میں کیا لکھوں؟ فرمایا ”چلو میں بتائے دیتا ہوں کہ ان دنوں ڈینگی بخار کے مریض دعا کے لیے میرے پاس آ رہے ہیں۔ میں ان کے لیے دعا کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ پرہیز صرف یہ ہے کہ دوا کے پاس بھی نہیں پھٹکنا ، کہ یہ دعا پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ سو وہ ایسا ہی کرتے ہیں اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ کبھی دوبارہ واپس نہیں آتے۔‘‘ میں نے عرض کی ماشاء اللہ ، آپ کی دعاؤں کی تاثیر کا زمانہ قائل ہے، مگر کل نکا سائیں آپ کی سردائی کا سامان لینے نکلا تھا تو میری اس سے ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا کہ کچھ دنوں سے آپ کو تیز بخار ہے، خشک کھانسی بھی آرہی ہے اور آپ نے ڈینگی کے لیے اپنا سیمپل بھی جمع کرایا ہے، ابھی رپورٹ نہیں ملی۔ پیرو مرشد کو میری یہ بات اچھی نہیں لگی ، جلال میں آگئے ، مگر یہ جلال بخار زدہ سا تھا۔ کہنے لگے ’’ میں تم جیسے کمزور ایمان والے شخص کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل نہیں کر سکتا۔ تم نکے سائیں کو نہیں جانتے، وہ آج کل پیر بودی شاہ کے پاس بھی جا رہا ہے۔ پیر بودی شاہ مجھے اپنا حریف سمجھتا ہے اور اس طرح کی افواہیں وہ نکے سائیں کے ذریعے پھیلا رہا ہے۔ ‘‘ مجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ میں نے عرض کی مرشد ! مجھے اپنے حلقہ ارادت سے خارج نہ کریں، میں تو آپ کی کرامتوں کا چشم دید گواہ ہوں ، آپ نکے سائیں کا داخلہ بند کریں ۔ اس پر پیر سائیں کی مریل سے آواز آئی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دل تو میرا بھی یہی چاہتا ہے مگر پھر خیال آتا ہے کہ میرے ٹھکرائے ہوئے کو کون منہ لگائے گا؟

دراصل نکا سائیں مجھ سے زیادہ پیر سائیں کی کرامتوں کا چشم دید گواہ ہے اور بڑ بولا بھی ہے۔بہر حال قارئین کرام ! آج میرے کالم کا ناغہ ہی سمجھیں۔ مرشد کی ناراضی سے میرا دل بھی مر گیا ہے ، اس عالم میں انسان کیا لکھ سکتا ہے؟

تازہ ترین