ماسکو (نیوز ڈیسک)ماسکو میں روسی آرمی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی ،لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو نامعلوم حملہ آور نے گولیاں ماریں، اسپتال منتقل،حکام نے بتایا کہ روسی فوجی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ کو جمعے کے روز ماسکو میں گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیترینکو کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو ایک نامعلوم حملہ آور نے کئی گولیاں ماریں۔انہوں نے کہا کہ الیکسییف کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پیترینکو نے حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ الیکسییف 2011 سے روسی فوجی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جون 2023 میں جب کرائے کے فوجیوں کے سربراہ یوگینی پریگوژین نے مختصر بغاوت کی تھی تو الیکسییف ان اعلیٰ حکام میں شامل تھے، جنہیں ان سے مذاکرات کے لیے بھیجا گیا تھا۔یہ حملہ اس کے ایک دن بعد ہوا جب روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کار ابو ظہبی میں دو روزہ بات چیت مکمل کر کے واپس آئے۔ روسی وفد کی قیادت فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ ایڈمرل ایگور کوستیُوکوف کر رہے تھے۔یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے کئی سینئر روسی افسران کو قتل کیا جا چکا ہے، جن کا الزام ماسکو نے کییف پر عائد کیا ہے۔ بعض معاملات میں یوکرینی فوجی انٹیلی جنس نے ذمہ داری قبول کی ہے۔حال ہی میں قتل ہونے والے افسر جنرل اسٹاف کے آرمی ٹریننگ ڈائریکٹوریٹ کا سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فانیل سرواروف تھے، جو 22 دسمبر کو اپنی گاڑی کے نیچے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔