کراچی (نیوز ڈیسک)سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ ایرانی میزائل و جوہری مقامات پر تعمیر و مرمت جاری ہے ،میزائل تنصیبات کی فوری مرمت،جوہری مقامات پر محدود تعمیر،عسکری ترجیحات کی عکاسی،میزائل پروگرام جلد بحالی فوری ترجیح ،تاکہ اسرائیلی اور امریکی کارروائیوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ ایران نے جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کی فضائی کارروائیوں میں نقصان پہنچنے والے کئی بالسٹک میزائل مراکز کی جلد مرمت کر دی ہے، جبکہ اہم جوہری تنصیبات کی مرمت سست رفتاری سے ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تفاوت ایران کی عسکری ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے: میزائل پروگرام کی جلد بحالی ایران کے لیے فوری ترجیح ہے تاکہ اسرائیل اور امریکہ کی ممکنہ کارروائیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ شاہرود میزائل ٹیسٹ اور پیداوار کی سب سے بڑی تنصیب تیزی سے فعال ہوئی، جبکہ ایران کے تین بڑے یورینیم افزودگی مراکز اصفہان، نطنز اور فورڈو زیادہ تر غیر فعال ہیں اور مرمت محدود ہے۔سیٹلائٹ تصاویر میں نئے چھتوں، راستے کی صفائی اور زیر زمین ٹنلوں کی مضبوطی بھی دیکھی گئی ہے، جو ممکنہ خفیہ افزودگی یا ہتھیاروں کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔ پچین فوجی کمپلیکس میں 150 فٹ لمبی بڑی سلنڈر نما عمارت بھی تعمیر کی گئی ہے، جس کا مقصد ہائی ایکسپلوزوز کے ٹیسٹ ہو سکتا ہے جو جوہری ہتھیاروں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔عالمی اور اسرائیلی اہلکاروں کے مطابق ایران نے اپنے یورینیم کے ذخائر کو برقرار رکھا ہے، اور زیر زمین جگہوں میں سرگرمیاں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ ایران ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام کو دوبارہ قائم کر سکتا ہے، اگرچہ فوری خطرہ یا ہنگامی صورتحال نہیں ہے۔