• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلوبل فلوٹیلا نے اگلے ماہ غزہ کے لیے نئی مہم کا اعلان کر دیا

مقبوضہ بیت المقدس(اے ایف پی) فلسطینیوں کے حامی کارکنوں نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ دوبارہ غزہ کی جانب امدادی کشتیاں لے کر جائیں گے۔ اسرائیل نے گزشتہ سال غزہ پہنچنے کی ان کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔گلوبل صمود فلوٹیلا کے ایک رکن نے جمعے کو اے ایف پی کو بتایا کہ 29 مارچ کو شروع ہونے والی یہ نئی مہم ’’فلسطین کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی اور مربوط انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت‘‘ ہو گی اور اس میں ’’100 سے زائد ممالک سے ہزاروں افراد‘‘ حصہ لیں گے۔برازیلی کارکن تھیاگو اویلا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’ہم بارسلونا، تیونس، اٹلی اور کئی دیگر بندرگاہوں سے روانہ ہوں گے، جن کے نام ابھی ظاہر نہیں کیے گئے۔گروپ نے کہا کہ اسی دن ایک زمینی قافلہ بھی غزہ کے لیے روانہ ہوگا، تاہم اس کی روانگی کی جگہ واضح نہیں کی گئی۔کارکنوں نے گزشتہ اکتوبر میں سمندر کے ذریعے غزہ تک امداد لے جا کر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، مگر اسرائیل نے انہیں روک کر حراست میں لے لیا اور بعد ازاں ملک بدر کر دیا تھا۔اسرائیل غزہ کی سرحدوں کو کنٹرول کرتا ہے اور سکیورٹی خطرات کے پیش نظر علاقے میں آنے والی تمام امداد کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں ’’غزہ میں نسل کشی، محاصرے، بڑے پیمانے پر بھوک اور شہری زندگی کی تباہی کے خلاف ایک غیر پُرتشدد ردِعمل ہیں۔گزشتہ سال کی مہم میں تقریباً 50 کشتیاں اور 500 کارکنان شامل تھے۔ منتظمین کے مطابق اسرائیلی بحری جہازوں نے بین الاقوامی پانیوں میں سفر کے دوران کشتیوں کے قریب آ کر بعض پر واٹر کینن کا استعمال بھی کیا۔تقریبا 443 شرکا کو حراست میں لیا گیا، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل تھیں۔

دنیا بھر سے سے مزید