• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ساری عمر رعونت میں بسر کرنیوالے لوگ جو اپنے دور اقتدار میں انسان کو انسان نہیں سمجھتے، ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے فارغ لمحوں میں تسبیح ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں۔ آپ کے سلام کا جواب بھی بڑی خوشدلی سے دینے لگتے ہیں اور اگر سچ پوچھیں تو وہ سلام کرنیوالے کے دلی طور پر ممنون بھی نظر آتے ہیں۔ انکا بس چلے تو وہ اگلے دن اسے شکریے کامیسج بھی کریں کہ جناب والا میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے مجھ حقیر پر تقصیر کو سلام کیا، مگر وہ ایسا کر نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنے پی اے کو ڈکٹیشن دینے کے عادی ہوتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد انکا سابقہ پی اے خود انکے سلام کا جواب بہت سوچ سمجھ کر دیتا ہے۔ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے میں ایک بہت بڑے افسر کے دفتر میں جو میرا کا لج فیلو رہا تھا۔ بیٹھا کافی پی رہا تھا، گپ شپ کا سلسلہ جاری تھا، نائب قاصد تھوڑی تھوڑی دیر بعد جھکی ہوئی کمر کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتا اور اسکی میز پر کسی ملاقاتی کی چٹ یا اس کا وزیٹنگ کارڈ رکھ کر اسی طرح کبڑا بنے ہوئے کمرے سے باہر نکل جاتا۔ میرا یہ دوست بڑی بے نیازی سے سائلوں کے ناموں پر ایک سرسری سی نظر ڈالتا اور پھر گپ شپ میں مشغول ہو جاتا۔ اسکی گفتگو کا زیادہ تر محور خود اس کی اپنی ذات تھی کہ سمریوں پر اسکے لکھے ہوئے نوٹ کتنے طاقتور اور موثر ہوتے ہیں وغیرہ۔ گزشتہ دنوں میری ملاقات اپنے اس دوست سے ہوئی مگر مجھے اسے پہچاننے میں دقت پیش آئی۔ اسکا رنگ جو سرخ و سفید تھا، پیلا پڑ چکا تھا۔ اسے شوگر اور بلڈ پریشر کے عوارض لاحق ہو چکے تھے۔ اسکے چہرے پر داڑھی اور ہاتھوں میں تسبیح تھی۔ ہم ایک قریبی چائے خانے میں جا بیٹھے۔ اس روز اس کی گفتگو ’’دنیا فانی ہے“ کے گرد گھومتی رہی۔ پتا چلا کہ دس برس پیشتر وہ ریٹائر ہو گیا تھا اور تمام تر کوشش کے باوجود مدت ملازمت میں توسیع نہ ملنے کے باعث وہ اس ’’کتی دنیا ‘‘سے منہ موڑ چکا ہے۔ وہ اب اپنا زیادہ تر وقت چلے وغیرہ کاٹنے میں گزارتا ہے۔ فراغت کے لمحات ان افراد کے پاس بھی وافر ہوتے ہیں جو سو دو سو مربع زمین کے مالک ہیں یا ارب پتی والدین کی لاڈلی اولاد ہیں۔ ان میں سے اکثر کا دماغ واقعی شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ اگر چہ زیادہ تر وقت امریکہ اور یورپ میں گزارتے ہیں مگر اپنے آبائی حلقوں سے یہ ہر دفعہ الیکٹ ہو کر ہماری نمائندگی کیلئے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ سے تمام تر محبت اور عقیدت کے باوجود یہ اس بات پر بہت خوش ہوتے ہیں کہ پاکستان میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے انکے پاس ملازمین کی ایک فوج موجود ہے جو چند ہزار روپوں کے عوض انکی ہر خدمت بجا لاتی ہے۔ یہ جب چاہیں انھیں نکال باہر کر سکتے ہیں، گالیاں دے سکتے ہیں اور پٹوا بھی سکتے ہیں۔ یہ طبقہ یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ وہ مغرب کے کسی ملک میں پیدا ہوئے ہوتے، جہاں احترام انسانیت کے اصول موجود ہیں، جنکی وجہ سے آپ انسان کو انسان سمجھنے پر مجبور ہیں اور ملازموں کیساتھ انسانوں کا سا برتاؤ کرنا پڑتا، تو انکا کیا بنتا؟ کیونکہ جب اس طبقے کے افراد مغربی ملکوں کی سیاحت کو جاتے ہیں تو کسی کو انکے عہدے اور مال و دولت کی پروا نہیں ہوتی ۔ وہاں کوئی سائل گھنٹوں انکے گھر کے بیرونی گیٹ پر نہیں بیٹھا رہتا۔ وہاں انھیں اپنے سارے کام خود ہی کرنا پڑتے ہیں۔ شاید اس وجہ سے یہ اپنی حب الوطنی پر اصرار کرتے اور موجودہ نظام کیخلاف جہاد کرنیوالے دانشوروں کو غدار قرار دیتے ہیں۔تاہم فراغت کے لمحات کا حامل ایک طبقہ بہت مظلوم بھی ہے۔ یہ وہ سفید پوش بابے ہیں جو پنشن پر گزارا کرتے ہیں۔ باہر تھڑے پر بیٹھے رہتے ہیں، یہ گپ شپ کرنے کیلئے کوئی اسامی ڈھونڈتے رہتے ہیں اور جب کوئی اس طرح کی اسامی انکے ہتھے چڑھ جاتی ہے تو یہ اُس وقت تک اسے اپنے پاس سے ہلنے نہیں دیتے جب تک وہ وہاں سے دوڑ نہیں لگا دیتا۔ ایک بار میں بھی ایک اسی طرح کے بابے کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ ڈیفنس میں ایک دوست کا گھر ڈھونڈ رہا تھا، خوش قسمتی سے ایک بزرگ مجھے مل گئے ۔ میں نے ان کے پاس گاڑی روکی اور اپنے دوست کے گھر کی بابت پوچھا۔ بولے میں جانتا ہوں لیکن رستہ ذرا پیچ در پیچ ہے۔ آپ خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں ، چلیں میں آپ کو انکے ہاں چھوڑ آتا ہوں۔میں نے ان کا شکر یہ ادا کیا اور وہ کار میں میرے برابر والی نشست پر براجمان ہو گئے۔ وہ مجھے کبھی دائیں اور کبھی بائیں جانب مڑنے کیلئے کہتے اور اس کیساتھ ساتھ اپنی رام کہانی بھی سناتے جاتے کہ ان کی شادی کس سنہ میں ہوئی ، ان کی اولاد میں سے کون کیا کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تقریباً ایک گھنٹہ گزر گیا اور بزرگ نے محسوس کیا کہ یہ ” اسامی اب ہر صورت میں ان سے جان چھڑانا چاہتی ہے تو انھوں نے کہا آپ پریشان نہ ہوں، دائیں طرف مڑ جائیں، تیسرا گھر آپ کے دوست ہی کا ہے‘‘۔ میں دائیں جانب مڑ گیا، تیسرا گھر واقعی میرے دوست کا تھا۔ میں نے انکا شکریہ ادا کیا اور وہ کار سے اترے تو میں نے محسوس کیا کہ وہ دوڑنے کے انداز میں چل رہے ہیں ۔ مجھے اس کی وجہ سمجھ آ گئی ، دراصل یہ وہی جگہ تھی جہاں میں نے ان بزرگوار سے راستہ پوچھا تھا۔

تازہ ترین