• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ آنے والا زمانہ ہمیں کیسے یاد کرے گا ۔ انسان وہ واحد اسپیشیز ہے ، جسکی بنائی ہوئی دوربینیںخلا میں گھوم رہی ہیں۔ وائیجر ون نظامِ شمسی کی حدود سے باہر نکل چکا ہے ۔ اس مشن میں کرہ ارض کی تمام زبانوں میں یہ ریکارڈ کیاگیا ہے : ہم انسان نظامِ شمسی کے تیسرے سیارے پر قیام پذیر ایک ذہین اور امن پسند مخلوق ہیں ۔ویسے تو انسانیت کی تقریباًپوری تاریخ ہی ایک دوسرے کے مال و اسباب کو زیادتی کے ساتھ ہڑپ کی جانے والی جنگوں پہ مشتمل ہے ۔ وائیجر ون میں انسان کی امن پسندی والا جھوٹ اس وقت ریکارڈ کر کےبھیجا گیا ، جب عالمی جنگوں میں دس کروڑ انسان قتل ہوچکے تھے ۔دو ایٹم بم گرا دیے گئے ۔ سپاہیوں کو یہ کہہ کر ان کا حوصلہ بڑھایا جاتا تھا : ہم ایک ایسی جنگ لڑرہے ہیں ، جو آنے والی تمام جنگوں کا خاتمہ کر دے ۔ اس پر شفیق الرحمٰن صاحب نے سپاہی کی زبان سے یہ جواب دیا: تاکہ اس کے نتیجے میں جو امن آئے وہ آنے والے تمام امنوں کا خاتمہ کر دے ۔

ہم اس دور سے گزر رہے ہیں ، جب آٹھ ارب انسان انٹرنیٹ اور ا سمارٹ فونز کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں ۔پوری دنیا میں مگر علم سے زیادہ ڈس انفارمیشن پھیل رہی ہے ۔اے آئی نے جس میں ہزار گنا اضافہ کیا ۔یونیورسٹیوں میں سائنسی علوم اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پڑھائی جا رہی ہیں ۔ اسکے باوجود ہر انسان ایک دوسرے کے ساتھ نا انصافی پہ تلا ہے ۔ ہٹلر ، مودی ، ٹرمپ اور پیوٹن جیسے جنگجو جذبات کی آگ بھڑکا کر اقتدار حاصل کر لیتے ہیں اور پھر کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہوتا ۔

ہوموسیپین کی تین لاکھ سالہ تاریخ قتل وغارت سے بھرپور ہے ۔آج یہودیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ فلسطین ، مصر اور ہمسایہ ممالک خدا کی طرف سے ایک وعدہ شدہ زمین ہیں جو ان کے بزرگوں کی مِلک تھی ۔ اس لحاظ سے آپ اگر دیکھیں تو آج سے بیس لاکھ سال پہلے اسرائیل میں ہومو اریکٹس رہتے تھے ۔آج سے چار لاکھ سال پہلے یورپ نینڈرتھلز کے زیرِ نگیں تھا، ہمارے آباؤ اجداد کی پیدائش سے بھی ایک لاکھ سال پہلے ۔ اس لحا ظ سے آپ دیکھیں تو پورے کرہ ارض میں ایک مرلہ زمین بھی سیپینز کی نہیں نکلتی ۔یہ کون سا اصول تخلیق ہو گیا کہ ہزاروں برس پہلے ہمارے بزرگ یہاں اپنا صافا بطور نشانی رکھ گئے تھے لہٰذا یہ زمین ہماری ہے ۔ کسی نے ایک تصویر اپ لوڈ کی کہ پہلا اسرائیلی جب مریخ پہ اترے گا تو وسیع و عریض رقبے دیکھ کر للچائے گا اور پکار اٹھے گا : Promised Land۔

خیر اب تو ٹرمپ نے کہہ دیا کہ ڈینش کشتیاں اگر پہلے گرین لینڈ پہنچ گئیں تو کیا گرین لینڈ ان کا ہو گیا ۔ اسی اصول کا اطلاق امریکیوں کےآباؤ اجداد نے ساڑھے پانچ کروڑ مقامی ریڈ انڈینز کو قتل کر کے کیا تھا۔ سولہویں صدی میں ایسی قتل و غارت ہوئی کہ ریڈ انڈینز کی بستیاںمٹ گئیں ۔سی این این نے شائع کیا کہ یونیورسٹی کالج لندن کی ایک تحقیق کے مطابق فرانس جتنے رقبے پر جنگلات اگنے سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آئی ۔

انسان کی امن پسندی کا عالم یہ ہے کہ راتوں رات وینزویلا کا صدر اغوا اور تیل کے ذخائر پہ قبضہ ہو گیا ۔ امریکی بحری بیڑا ابرہام لنکن ایران کے سر پہ پہنچ چکا اور امریکی صدر مسلسل ایران کو دھمکیاں دے رہا ہے ۔حالانکہ ابرہام لنکن زندہ ہوتاتو کبھی یہ کام نہ کرتا۔ عراق، شام ، افغانستان ، لیبیا ، یمن ، ایک کے بعد مسلمانوں کے دوسرے ملک کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ۔امریکی فوج افغانستان سے واپس گئی تو ہم نے جشن منایا کہ مسلمان جیت گئے ۔ افغانستان کی آج اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے ۔ لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔ مسلمانوںکے مختلف دھڑے ایک دوسرے کو قتل کرتے پھرتے ہیں ۔ انحصار منشیات اورا سمگلنگ پہ ہے ۔فتح تو یہ ہوتی کہ افغان جنگی طیارے امریکی طیاروں کو اندر گھسنے نہ دیتے یا مسلمان ریسرچ آرٹیکلز میں امریکی یونیورسٹیوں کو شکست دیتے ۔بیس سالہ افغان جنگ میں ایک امریکی یا نیٹو فوجی کو قتل کرنے کیلئے خودکش حملے میں سو ڈیڑھ سو بے گناہ مسلمانوں کی شہادت ایک عام واقعہ تھا۔ اسلام یہ ہے ؟ 

اسرائیل نے 70ہزار فلسطینیوں کوشہید کر دیا ۔ تہذیب یافتہ دنیا گنگ ہے۔ روس کی یوکرین میں یورپ اور امریکہ سے بالواسطہ جنگ جاری ہے ۔ دو ایٹمی طاقتوںپاکستان اور بھارت کی گزشتہ برس چار روزہ جنگ ہوئی ۔ ٹرمپ اس دن سے چیخ رہا ہے : جنگ میں نے رکوائی ، میں نے رکوائی۔ بھارت نے جھٹلایا تو اب وہ ہر فورم پہ بھارت کو ذلیل کرتا ہے ۔ٹرمپ منتقم مزاجی کی معراج پر ہے۔ کہا گیا  ڈونلڈ ٹرمپ ہی نوبل انعام کا اصل حقدار ہے ۔ وہ شخص جس نے بار بار سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کو ویٹو کیا اور یہ یقینی بنایا کہ نیتن یاہو غزہ کو ایک ذبح خانہ بنا دے ۔

آنے والی تہذیبیں ہومو سیپین کو کس طرح یاد کریں گی ؟ آپ جنگوں سے ہٹ کر دیکھ لیں ۔ لباس پہننا ایک اخلاقی انسانی قدر ہے ۔ دنیا کے حالات اب یہ ہیں کہ بغیر لباس پھرنے والا انتہا پسند نہیں ، لباس پہننے کا مشورہ دینے والا قصوروا ر ہے ۔ مرد مردوں سے شادیاں کر رہے ہیں ، عورتیں عورتوں سے ۔ بغیر شادی اولاد پیدا کرنا باعثِ عار نہیں ۔ مرد خود کو عورت قرار دے رہے ہیں ،عورتیں مرد بن رہی ہیں ۔ دو مرد آپس میں شادی کر کے یتیم لڑکوں کو گود لے رہے ہیں ۔ معاشرہ تالیاں بجا رہا ہے ۔

خوراک کاحال یہ ہے کہ ذائقہ ترجیحِ اول ہے ، خواہ صحت تباہ و برباد ہو جائے ۔ کیا کوئی نارمل انسان ایک گلاس پانی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور بیس چمچ چینی کے پی سکتاہے ؟ کولڈ ڈرنکس کی صورت میں ہم سب پی رہے ہیں اور کوئی حکومت اسے روکنے والی نہیں ۔ اگر حفظانِ صحت کی ایک ذرا سی رمق بھی انسان میں زندہ ہوتی تو چینی اور پلاسٹک دونوں پہ کب کی پابندی عائد ہو چکی ہوتی ۔ انسان تیل پہ لڑ رہا ہے ، پانی پہ لڑ رہا ہے ، زمین پہ لڑ رہا ہے ۔لڑتا چلا جا رہا ہے ۔

آنے والی تہذیبیں ہومو سیپین کو کن الفاظ میں یاد کریں گی ؟ جھگڑالو ، نا انصاف اور حریص ۔ یہ ہے تین لاکھ سالہ انسانی ارتقا کا یک سطری خلاصہ!

تازہ ترین