اسلام آ باد (رانا غلام قادر) پاکستان میں موجودہ امریکہ میں آبادکاری کےمنتظر ہزاروں افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجنےکا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقیم19ہزار973افغان شہری امریکہ میں بسنے کےانتظارمیں ہیں تاہم امریکہ کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے 4 سال سے زائد عرصے کےبعد بھی افغان شہریوں کی آباد کاری ممکن نہیں بناسکاجس کی وجہ سے انہیں واپس افغانستان بھجوایاجائے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان شہریوں کوواپس اپنے ملک بھجوانےکا عمل شروع کیا جائے گا-ذرائع کا کہنا ہےکہ وفاقی وزارت داخلہ نےافغان شہریوں کی واپسی کےلیےصوبوں کوآگاہ کرنےکافیصلہ کیا ہے۔ تمام صوبائی چیف سیکریٹریز بشمول آزاد کشمیر، گلگت بلتستان،تمام صوبوں، آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور اسلام آباد کےپولیس آئی جیز کوخط بھیجا جائے گاجبکہ وفاقی وزارت داخلہ چیف کمشنر اسلام آباد کوبھی خط بھجوائے گی۔افغانستان میں 2021 میں طالبان کی حکومت آنےکےفوری بعد زیادہ تر ممالک نے اپنے افغان سفارت خانے بند کر دیے تھےجس کے نتیجے میں بہت سے افغان مہاجرین کو پاکستان میں ٹھہرایا گیاجبکہ اسلام آباد میں ان کے سفارت خانے ان کے مقدمات پر کارروائی کر رہے تھے۔بہت سے افغان جن سے نقل مکانی کا وعدہ کیا گیا تھا وہ غیر ملکی حمایت یافتہ حکومت میں شامل تھے اور طالبان حکام کی جانب سے انتقامی کارروائیوں سےخوفزدہ تھے۔امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آجانےکے بعد ہزاروں افغانی شہریوں کو وہاں سے نکال لیا تھا جنہوں نے ان کے لیے کام کیا تھا اورافغانستان کی نئی حکومت کے ہاتھوں انہیں انتقام کا نشانہ بنائے جانے کا اندیشہ تھابعدازاں امریکہ نے 25 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو امریکا میں منتقلی اور آبادکاری کے عمل کے تحت خطوط جاری کیے تھے اور ان کے ناموں سے پاکستانی حکام کو آگاہ کیاگیاتھا۔