لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں گزشتہ دو سال کے دوران شراب پینے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس سے حکومتی آمدنی میں بھی کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت نے گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران شراب کی موجودہ دکانوں سے حاصل ہونے والی ضلع وار آمدنی کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کیں جن میں محصولات میں مسلسل اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پوری وادی میں تمام اضلاع کی شراب کی رجسٹرڈ دکانوں سے کل آمدنی سال 2023-24 میں 1038.78 کروڑ روپے ہوئی جو سال 2024-25 میں بڑھ کر 1118.16 کروڑ روپے تک جا پہنچی۔ اسمبلی میں محکمہ خزانہ کی جانب سے دی گئی تحریری وضاحت میں بتایا گیا کہ شراب کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے باوجود مالی سال 2026–27 کے دوران مقبوضہ وادی میں نئی شراب کی دکانیں کھولنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ضلع جموں میں سال 2023–24 کے دوران 48,350.15 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی جو 2024–25 میں بڑھ کر 50,913.93 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اودھم پور میں یہ آمدنی 11,322 لاکھ سے بڑھ کر 12,061.50 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی جب کہ ریاسی میں 3,371 لاکھ سے 3,450.50 لاکھ روپے تک اضافہ ہوا۔ ضلع کٹھوعہ میں 2023–24 کے دوران 10,653 لاکھ اور 2024–25 میں 11,272 لاکھ روپے کی آمدنی درج کی گئی جب کہ سانبہ میں یہ آمدنی 9,138.06 لاکھ سے بڑھ کر 9,740.15 لاکھ روپے رہی۔ ڈوڈہ میں 2,353.61 لاکھ سے 2,448.17 لاکھ روپے، کشتواڑ میں 1,681.90 لاکھ سے بڑھ کر 1,887.59 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔