ایک نئی سائنسی تحقیق کے نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کافی پینے کی عادت مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔
چین کی چائنا میڈیکل یونیورسٹی کے شینجنگ اسپتال کے سائنس دانوں نے کافی کے استعمال اور پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا ہے۔
محققین کے مطابق پروسٹیٹ کینسر مردوں میں کینسر سے ہونے والی اموات کی تیسری بڑی وجہ ہے جبکہ اندازوں کے مطابق 85 سال کی عمر تک ہر 6 میں سے 1 مرد اس بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں 16 مختلف مطالعات کا ڈیٹا شامل کیا گیا جن میں 57 ہزار سے زائد پروسٹیٹ کینسر کے مریض اور مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد افراد شامل تھے۔
نتائج کے مطابق زیادہ مقدار میں کافی پینے والے مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر کم پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ روزانہ کافی کے ہر اضافی کپ کے ساتھ اس بیماری کے خطرے میں مزید کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق کافی میں موجود کیفین ناصرف دماغی کارکردگی بہتر بناتی ہے بلکہ جسم پر اس کے دیگر مثبت اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
ماضی میں کیے گئے متعدد مطالعات میں بھی کافی کے استعمال کو جگر، چھاتی، آنتوں اور سر و گردن کے کینسر کے کم خطرات سے جوڑا گیا ہے۔
محققین نے نتائج میں واضح کیا ہے کہ یہ مشاہداتی تحقیق ہے جس سے حتمی طور پر یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ کافی براہِ راست کینسر سے بچاؤ کا سبب بنتی ہے یا نہیں، اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔