ہر گزرتے دن کے ساتھ اس دنیا کی حالت بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ قرآن کہتاہے : کسی قوم کی دشمنی تمہیں نا انصافی پہ آمادہ نہ کرے ۔ اسلام نے جنگ کے اصول بیان کیے ۔حملہ نہ کرنے والے کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ کھیت اور درخت کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ القاعدہ ، داعش اور طالبان جیسے گروہوں نے ایک دشمن کو قتل کرنے کیلئے سینکڑوں مسلمانوں کو خودکش دھماکوں میں قتل کیا ۔ہمارے اپنےملک کا حال آج کیا ہے ۔ نہ کوئی آزادی سے فیصلہ جاری ہو سکتاہے ۔ کیمرا اور قلم خود سے شرمندہ ہیں ۔پارلیمنٹ کو خود آئینی ترمیم کے مندرجات آخری وقت پر بتائے جاتے ہیں ۔
دنیا بھر میں نا انصافی کا دوردورہ ہے ۔جاپان پہ دو ایٹم بم گرانے والا امریکہ یہ فیصلہ کرئیگاکہ ایران کو افزودگی کا حق دیا جا سکتاہے یا نہیں ۔ چند ہفتے قبل فرانسیسی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو پیغام بھیجا : ایران اور شام میں ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن گرین لینڈ میں جو آپ کرنا چاہتے ہیں ، وہ ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ لبِ لباب یہ کہ دنیا بھر کو اجاڑنے میں ہم آپ کے ہم رکاب ہیں لیکن خود ہماری جان تو بخش دو ۔
ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر نیتن یاہو تک دنیا بھر میں فسادی اور خونخوار لوگ حکمران ہیں۔ایران یقیناً مظلوم ہے۔ 16ستمبر 2022ء کو مگرایرانی اخلاقی پولیس نے حجاب نہ کرنے پر 22سالہ مہسا امینی کو گرفتار کیا ۔پھر اطلاع دی کہ وہ دل کے دورے سے چل بسی ۔افغانستان میں غیرت کے علمبردار لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے آگے پڑھنے نہیں دیں گے ۔دوسری طرف ہم جنس پرستی ، منشیات اور سمگلنگ وہاں عام ہے ۔ ملا عمر کی طرف سے اسامہ بن لادن کو مکمل اجازت تھی کہ وہ افغان سرزمین پہ ٹریننگ کر کے دنیا بھر میں جو گل کھلانا چاہے ، کھلاتا رہے ۔
غزہ کے بچوں کو خاک و خون میں تڑپتے دیکھنا بہت خوفناک ہے۔ 2016ء میں مسلمان اتحادیوں کے یمن پہ حملہ میںڈیڑھ لاکھ مسلمان شہید ہو ئے۔ مسلکی بنیادوں پر بھی لاکھوں مارے گئے ۔ دونوں نے اپنی اپنی پراکسیز بنائیں ۔ انسانی تاریخ میں بے شمار مرتبہ بڑے بڑے بے گناہ لوگوں کو جیل میں ڈالا گیا ۔ یزید جیسے لوگ حکومت کرتے رہے ۔
اس وقت دنیا کی حالت کیا ہے ؟ یوکرین میں روس اور مغرب کی جنگ ہو رہی ہے ۔ ایران کی جنگ کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے ۔ غزہ کی صورتِ حال آپ کے سامنے ہے ۔ ایٹمی پاکستان اور ایٹمی بھارت کی دشمنی چل رہی ہے۔25ستمبر 2024ء کو پیوٹن نے دھمکی جاری کی کہ یورپ نے اگر یوکرین سےروس پر حملہ کیا تو جواباً ایٹمی حملہ بھی ہو سکتا ہے ۔
ایپسٹین فائلز میں آپ نے بل گیٹس سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک کا حال دیکھا۔ بل گیٹس وہ شخص ہے ، جس نے دنیا سے پولیو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ وہ قید میںرکھی گئیں کم سن لڑکیوں کے اس جزیرے میں جاتا رہا۔ آج پچھتاتاپھر رہا ہے ۔ برطانوی شہزادے اینڈریو کا حال آپ کے سامنے ہے ۔ اور تو اور نامور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ بھی آنکھیں ٹھنڈی کرتا رہا۔
گو ہاتھ کو جُنبِش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے!
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
بنی اسرائیلی جب تک فرعونوں کے ظلم کا شکار رہے، نیکی اور مسکینی کی زندگی گزارتے رہے۔ جب بھی آزادی ملی ، دنیا کو فتنہ و فساد سے بھر دیا ۔ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ انکی قتل و غارت دیکھ کر ماضی میں ہمدردی کرنے والا مغرب بھی گھن کھا رہا ہے ۔ یہ انکے ساتھ پہلے کئی دفعہ ہو چکا ۔ آخر انکا یومِ حساب آکر رہے گا۔ بہت عرصہ پہلے میں نے لکھا تھا کہ شیخ حسینہ بنگلہ دیش میں جو آگ اور خون کا کھیل کھیل رہی ہے ، اس کا اختتام اگر اسکے اپنے قتل پر ہو تو مجھے حیرت نہیں ہوگی ۔ شیخ حسینہ کے والد کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔
پاکستان کیا انہی خطوط پہ آگے نہیں بڑھ رہا ، جن خطوط پہ شیخ حسینہ 15 سال حکومت کرتی رہی ۔ ہر چیز کا ایک بوائلنگ پوائنٹ ہوتا ہے ۔اس کے بعد نظام ڈھے پڑتا ہے۔ حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ سے ایک قول منسوب کیا جاتا ہے : کفر کا نظام چل سکتاہے ، ظلم کا نہیں ۔
سچ تو یہ ہے کہ انسانوں نے بہت کم کسی سے عبرت حاصل کی ۔ 12مئی 2007ء کو کراچی میں چالیس افراد کے قتل پر مکے لہرانے والا پرویز مشرف کس کس کو یاد ہے ؟
چند روز پہلے اپنے اثاثے 850ارب ڈالر تک پہنچ جانے والے ایلون مسک نے کہا : جس شخص نے یہ کہا تھا کہ پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا، وہ واقعی جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ساڑھے نو کروڑ افراد نے اس کا یہ ٹویٹ دیکھا اور ان سب کی خواہش یہ تھی کہ ایلون مسک اپنی دولت انہیں دے دے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایلون مسک نے یہ بات طنزاً کی لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ۔ مٹی کے اس کمزور سے جسم میں انسان اپنی یہ زندگی بھلا کتنی انجوائے کر سکتاہے اور کتنی دیر انجوائے کر سکتا ہے ۔یہ بات ٹھیک ہے کہ پیسہ نہ ہونا اور ضروریات پوری نہ ہو سکتا بہت تکلیف دہ ہو تا ہے لیکن آپ کےد ماغ میں کیمیکلز کا بیلنس ٹھیک نہ ہو تو آپ کی دولت بھی کیا کر سکتی ہے ۔ سیلینا گومیزاور جسٹن بیبرجیسے جن نوجوانوں کو کم عمری میں بے تحاشا دولت اور شہرت حاصل ہوئی ، ان میں سے بھی کئی کی زندگیاں تباہ ہوئیں ۔
بات دوسری طرف نکل گئی ۔ اس وقت دنیا میں جو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، اس میں کئی بار ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ خدا نے انسان کو زمین پہ اپنا نائب کیوں بنایا ۔ویسی ہی قتل و غارت کی سرشت ہے ۔خدا نےفرشتوں سے کہا : جو میں جانتا ہوں ، وہ تم نہیں جانتے ۔ کیا خدا کیلئے پوری دنیا میں ایک ہی مثالی شخص کافی ہوتا ہے ؟ یہ جو کہا جاتا ہے کہ جب تک اس زمین پہ ایک شخص بھی خدا کا نام لیوا ہوگا، قیامت نہیں آئے گی ۔
اللہ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں ۔